ماسکو پر سب سے بڑا حملہ،اہم تنصیبات کو نقصان،روس کا جوابی وار،2یوکرینی ہلاک،متعددزخمی
روستو میں تیل کے ذخیرے پر حملہ کیا گیا، ایک شخص ہلاک ،روس کا 1000 یوکرینی ڈرونز اور4 کروز میزائلوں تباہ کرنے کا دعویٰ،جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر یوکرین جلتا ہے تو ماسکو بھی جلے گا:زیلنسکی

ماسکو،کیف(نیٹ نیوز،این این آئی )یوکرین نے روسی دارالحکومت ماسکو میں ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا، جسے سنہ 2022 میں اس جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تقریباً 200 ڈرونز کے ذریعے اس یوکرینی حملے میں ایک آئل ریفائنری بھی نشانہ بنی جس کے نتیجے میں زہریلی گیسوں، دھوئیں اور تیل کے ذرات کی بارش نے مقامی آبادی کے لیے بھی خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
روسی وزارتِ دفاع کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران پورے ملک میں تقریباً ایک ہزار یوکرینی ڈرونز اور چار کروز میزائلوں کو روک کر تباہ کیا گیا۔
جنوبی علاقے روستو میں ایک تیل کے ذخیرے پر حملہ کیا گیا، جس میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ اس حملے سے روسی دارالحکومت کے مضافات میں ایک ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی۔
اس حملے کے بارے میں یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا کہ اُن کی فوج نے ماسکو کو دوبارہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا۔
اُنھوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ کیا جائے اور اب روس کو سفارتی میدان میں ضروری اقدامات کرنے چاہییں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ڈرونز کے اس بڑے حملے کا مقصد گذشتہ ہفتے کیئو پر روسی حملے کا جواب تھا جس کی وجہ سے ایک مذہبی یادگار میں آگ لگ گئی تھی۔
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ’ہم جنگ نہیں چاہتے اور ہم نے کبھی بھی یہ نہیں چاہا لیکن اگر یوکرین جلتا ہے تو آپ کا ماسکو بھی جلے گا۔‘
یوکرینی حملے کی وجہ سے ماسکو کے جنوب مشرق میں واقع کاپوتنیا ریفائنری میں حملے کے بعد آگ لگ گئی۔ یہ ایک ماہ میں تیسری اور اس ہفتے میں دوسری مرتبہ ہوا۔
متعدد ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ تیل ذخیرہ کرنے والے ایک بڑے ٹینک کا ڈھکن دھماکے کی شدت سے درجنوں میٹر تک فضا میں اچھل گیا۔
حملے کے باعث ماسکو کے چاروں ہوائی اڈے عارضی طور پر بند کر دیے گئے اور 500 سے زائد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔
دریں اثنا یوکرین کے شمال مشرقی علاقے میں روسی حملوں کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔ یوکرینی پولیس کے مطابق یہ حملے بموں، ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے کیے گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کے باعث علاقے میں شدید تباہی ہوئی جبکہ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اسی دوران یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خار کیف کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں بمباری کے نتیجے میں کم از کم نو افراد زخمی ہوئے، جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔ شہر کے میئر ایہور تیریکوف نے یہ معلومات ٹیلیگرام پر جاری بیان میں دی۔مقامی حکام کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ کئی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں صورتحال کو معمول پر لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔



