شکاگو میں پنجابی کا جشن "سخنور ” کا یادگار مشاعرہ، مشرق و مغرب کے شعرا نےرنگ جمادیا
کینیڈا، پاکستان، بھارت اور امریکہ سے ادیبوں اور شاعروں کی شرکت، پنجابی زبان و ثقافت کے فروغ کے عزم کا اظہار

لاہور:(رپورٹ/شہزادفراموش)
امریکہ کے شہر شکاگو میں پنجابی زبان، ادب اور ثقافت کے فروغ کے لیے "سخنور پنجاب” کے زیر اہتمام ایک شاندار بین الاقوامی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان، بھارت، کینیڈا اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے نامور ادیبوں، شاعروں اور ثقافتی شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب پنجابی زبان اور سانجھی تہذیب کے رنگوں سے مزین تھی جہاں دونوں پنجابوں کے ادیب و شعرا ایک ہی چھت تلے جمع ہوئے۔ مشاعرے میں پنجابی زبان کی مٹھاس، ثقافتی ہم آہنگی اور مٹی سے محبت کے جذبات نمایاں رہے۔

تقریب کے روحِ رواں اور معروف ادبی شخصیت عابد رشید تھے جنہوں نے پردیس میں پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لیے اپنی مسلسل خدمات کے ذریعے اس یادگار مشاعرے کو ممکن بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مادری زبان سے محبت اور ثقافتی شناخت کو زندہ رکھنے کے لیے ایسی ادبی سرگرمیوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔

مشاعرے کی نظامت طاہرہ ردا نے اپنے منفرد اور دلکش انداز میں انجام دی جبکہ تقریب کی صدارت ممتاز پنجابی شاعر ساجد چودھری نے کی۔ تقریب میں اونکار سنگھ سانگھا، ریاض بابر، راجندر سنگھ ماگھو اور کراچی سے طارق معین سمیت متعدد سماجی و ادبی شخصیات نے اظہارِ خیال کیا اور "سخنور پنجاب” کی خدمات کو سراہا۔

تقریب میں بھارت کے معروف ڈرامہ نگار اور قومی ایوارڈ یافتہ ادیب ڈاکٹر آتم جیت سنگھ نے خصوصی شرکت کی جبکہ روندر سنگھ سہرا، ڈاکٹر اختر حسین سندھو، اعجاز حسین بھٹی، راکند کور، غلام مصطفیٰ انجم، راج لالی، کشش ہوشیارپوری، گرلین کور، راز رنگونی اور بدر اسلام بدر سمیت متعدد شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔

شعرا نے محبت، امن، ہجرت، مادری زبان، ثقافتی ورثے اور سانجھے پنجاب کے موضوعات پر شاعری پیش کی جسے حاضرین نے بھرپور داد دی۔ تقریب کے دوران پنجابی ادب کی بقا اور نئی نسل کو مادری زبان سے جوڑنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
مشاعرے کے اختتام پر مہمانوں کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔ منتظم عابد رشید نے اعلان کیا کہ اس یادگار مشاعرے کی مکمل ریکارڈنگ جلد "پنجاب سخنور” کے یوٹیوب چینل پر نشر کی جائے گی تاکہ دنیا بھر میں مقیم پنجابی اس ادبی محفل سے مستفید ہو سکیں۔
شرکاء نے اس تقریب کو دیارِ غیر میں پنجابی زبان، ثقافت اور ادبی روایات کے فروغ کی ایک اہم اور کامیاب کاوش قرار دیا۔



