انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

پزشکیان کی آج پھرپاکستان آمد،اہم ملاقاتیں،امریکہ نے ایرانی تیل سے پابندی اٹھالی

60 روزہ عارضی جنرل لائسنس جاری: امریکی محکمہ خارجہ،ایرانی صدر ہم منصب آصف زرداری، وزیراعظم شہبازشریف و دیگر رہنمائوں سے ملاقاتیں کرینگے

 

اسلام آباد،تہران:( ویب ڈیسک ) ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان آج مختصر دورے پر پاکستان پہنچیں گے جہاں وہ وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کریں گے۔ تہران میں صدارتی پریس آفس کے ڈائریکٹر جنرل نے صدر پزشکیان کے دور ہ پاکستان کی باضابطہ تصدیق کر دی ۔ذرائع کے مطابق دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسعود پزشکیان کے درمیان پاک ایران تعلقات، باہمی تعاون اور اعلیٰ سطح کے رابطوں کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔ دونوں رہنما خطے کی مجموعی صورتحال، مشترکہ مفادات اور علاقائی پیش رفت سے متعلق امور پر بھی مشاورت کریں گے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچیں گے۔ترجمان کے مطابق مسعود پزشکیان صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کریں گے۔

ایرانی صدر کی نائب وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقاتیں ہوں گی۔طاہر حسین اندرابی کے مطابق مسعود پزشکیان کا بطور ایرانی صدر پاکستان کا یہ دوسرا دورہ ہوگا، اس موقع پر پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت، توانائی، سرحدی تعاون اور عوامی روابط پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر پیشرفت اور علاقائی وعالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔ دورے کے دوران دونوں فریق دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی صدر کا دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا عکاس ہے،یہ دورہ خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے مشترکہ وژن کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

دریں اثنا امریکہ نے 60 روز کیلئے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دیدی۔ایران کی جانب سے دو اہم شرائط پر عمل درآمد کی یقین دہانی پر امریکہ نے بھی پابندیاں نرم کرنے کا اعلان کیا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے اس پیش رفت کے بعد 60 روزہ عارضی جنرل لائسنس جاری کیا ہے جس کے تحت ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی تاہم یہ رعایت عارضی نوعیت کی ہے اور آئندہ اقدامات کا انحصار ایران کی جانب سے کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد اور مذاکرات کی پیش رفت پر ہوگا۔

محکمہ خزانہ نے مزید کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مذاکرات کے دوران طے پانے والے فریم ورک پر عمل درآمد میں سہولت فراہم کرنا اور ایران کو اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کا موقع دینا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کے اجازت نامے میں انشورنس، بینکنگ خدمات اور نقل و حمل کے لین دین کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل کی برآمدات پر پابندیاں معطل کر دی گئی ہیں، بحری ناکہ بندی ختم ہو گئی ہے اور کچھ منجمد اثاثے بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button