انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

امتحانات یا عذاب

سپیڈبریکر، میاں حبیب

آج کل شدید گرمی کے موسم میں ایف اے، ایف ایس سی سال اول کے پیپر ہو رہے ہیں ویسے تو شدید گرمی کے باعث تعلیمی اداروں میں چھٹیاں چل رہی ہیں لیکن فرسٹ ایئر کے طلبہ کو امتحانی عذاب سے گزارا جا رہا ہے شدید گرمی میں ویسے ہی مت ماری ہوتی ہے ہر ذی جان سست لاغر ہو جاتا ہے۔

گرمی کی حدت کے باعث استعداد کار کم ہو جاتی ہے انسان زیادہ متحرک نہیں رہتا ایک تو سخت گرمی کے موسم میں امتحان اوپر سے ہمارے امتحانی سنٹروں کی حالت زار خراب پنکھے اور بار بار بجلی کی ٹرپننگ اور لوڈ شیڈنگ آپ ذرا اندازہ لگائیں کہ جو بچہ موسم کی حدت سے پہلے ہی حواس باختہ ہے اسکی سوچنے سمجھنے یاد کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے اس کو ایسے کمرے میں بٹھا دیا جائے جہاں روشنی اور ہوا کا مناسب انتظام بھی نہ ہو پنکھے بھی گزارے لائق ہوں اور اوپر سے لائٹ چلی جائے تو آپ اس سے کس کارکردگی کی توقع کر سکتے ہیں۔

میں نے کئی بچوں کو روتے دیکھا ہے وہ کمرہ امتحان سے نکلتے وقت اس قدر پسینے سے شرابور ہوتے ہیں جیسے آگ کی بھٹی سے نکل کر آ رہے ہوں بجلی چلے جانے کی وجہ سے پسینہ امتحانی کاپی پر گرنے سے کاپی بھی خراب ہو جاتی ہے پچھلے دنوں سیکنڈ ائیر کے بچوں کا امتحان تھا ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا والٹن روڈ پر قائم خواجہ رفیق شہید کالج کے امتحانی سنٹر میں ایک پیپر دینے والا بچہ روتا ہوا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے گرمی کی شدت کے باعث میرا پیپر صیح نہیں ہو سکا ۔

ابھی فرسٹ ایئر کے پیپر ہو رہے ہیں جی سی کالج کے طلباء کا سنٹر گورنمنٹ ہائی سکول چوبرجی بنا دیا گیا جہاں جمعہ کے روز 2طالبعلم پیپر دیتے ہوئے بے ہوش ہوگئے وہ تو اللہ بھلا کرے ہیڈ ماسٹر صاحب کا انھوں نے ائیر کولر کا انتظام کروا دیا لیکن جب بجلی چلی جائے تو اس کا کوئی متبادل نہیں ہے ماسوائے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے اپنی بلڈنگ میں قائم امتحانی مراکز میں جنریٹر کی سہولت موجود ہے ۔

باقی پنجاب کے تمام امتحانی سنٹروں میں کہیں نہ کولر ہیں نہ جنریٹر ہیں نہ لائٹ کا کوئی متبادل نظام ہے مجھے تو امتحانی شیڈول بنانے والے حکمت کاروں کی عقل پر ماتم کرنے کو دل کرتا ہے جنھوں نے اتنی گرمی میں شیڈول بنایا اس موسم میں آپ طلبہ کے تعلیمی معیار کا اندازہ نہیں لگا سکتے یہ طلبہ کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی ہے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ تک کے طلبہ کے تمام امتحانات اپریل سے پہلے پہلے ہو جانے چاہیں ۔

یونیورسٹی کے طلبہ میچور ہو چکے ہوتے ہیں وہ پھر بھی برداشت کر لیتے ہیں لیکن انٹر کے بچوں کے ساتھ سخت زیادتی ہے آپ انہیں عملی میدان میں لیول پلینگ فیلڈ نہیں دے سکتے تو کم از کم ان کی تعلیمی قابلیت جانچنے کے لیے تو لیول پلینگ فیلڈ فراہم کریں
صاحب استعداد اپنے بچوں کو او لیول اور اے لیول کی تعلیم دلوا کر ویسے ہی عام طلبہ سے بالاتر بنا رہے ہیں اوپر سے ان کے امتحانی نظام کا ماحول ملاحظہ فرمائیں کہ کیمبرج کے بچوں کے امتحانی سنٹر فائیو سٹار ہوٹلوں بڑے بڑے لگژری شادی ہالوں میں بنائے جاتے ہیں جہاں ہرقسم کی سہولتیں میسر ہوتی ہیں پر سکون ماحول فراہم کیا جاتا ہے جبکہ عام پبلک کے بچوں کے امتحانی سنٹر پھٹیچر قسم کے بوسیدہ کمروں جہاں نہ بیٹھنے کا مناسب انتظام ہوتا ہے نہ ہوا روشنی کا انتظام ہوتا ہے۔

اوپر سے کرخت قسم کے مولا بخش ٹائپ امتحانی سٹاف جو خوف کی ایسی فضا قائم کر دیتے ہیں کہ بچہ ویسے ہی سہم جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ امتحان دینے نہیں کسی قید خانے میں سزا بھگتنے آ گیا ہے خدارا مرے کو مارے شاہ مدار والا کام نہ کریں کم از کم غریبوں کے بچوں کو اتنی سی تو سہولت دیں کہ وہ اپنی کارکردگی کا مظاہرہ تو کر سکیں ۔

وطن عزیز میں ویسے ہی آڑھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں جن میں زیادہ تعداد پنجاب کے بچوں کی ہے اوپر سے پنجاب کے نظام تعلیم پر غور کریں پنجاب کا سارا نظام تعلیم ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے پنجاب کے 9ایجوکیشن بورڈ ہیں اور 9 بورڈوں میں کسی ایک میں بھی مستقل چیرمین بورڈ نہیں پچھلے تین چار سالوں سے ڈنگ ٹپائو پالیسی کے ذریعے نہ جانے پنجاب کے طلبہ سے کس چیز کا بدلہ لیا جا رہا ہے ۔

پنجاب کے تمام ایجوکیشن بورڈوں کا عارضی چارج متعلقہ کمشنروں کے حوالے کیا ہوا ہے آپ لوگوں کو بخوبی علم ہے کہ کمشنر صاحبان پر پہلے ہی انتظامی معاملات کا کتنا دباو ہوتا ہے وہ ایجوکیشن بورڈز پر کتنی توجہ دیتے ہوں گے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے تمام ایجوکیشن بورڈز میں روزمرہ کے معاملات متاثر ہو رہے ہیں یہاں تک کہ پچھلے چار سال سے لوگوں کی ترقیاں رکی ہوئی ہیں کوئی فائل ورک نہیں ہو رہا ماسوائے تنخواہوں کے روٹین کا کوئی فائل ورک نہیں ہو رہا ایجوکیشن بورڈز کے ملازمین مایوسی کا شکار ہیں ۔

ویسے تو کہنے کو سارا کام آن لائن کر دیا گیا ہے لیکن داخلہ فارموں پر اگر فیس جمع کروانے کی ہارڈ کاپی نہ لگائی جائے تو اچھا خاصا جرمانہ ہوتا ہے دعوی ہے کہ مانیٹرنگ کے لیے سکولوں میں کیمرے لگا دیے گئے ہیں یہ کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ صرف لاہور کے سکولوں کی ہو رہی ہے لاہور بورڈ کے زیر اہتمام شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ کے اضلاع کے سکولوں میں کیمرے نہیں لگے کالم چونکہ طوالت اختیار کرتا جا رہا ہے ورنہ اور بھی بہت ساری چیزوں کا رونا رویا جا سکتا تھا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button