
آبنائے ہرمز میں گردش کرتی بے یقینی، جنوبی لبنان سے اٹھنے والا دھواں، تہران اور واشنگٹن کے درمیان محتاط مکالمہ، غزہ کے ملبے پر کھڑی عالمی سیاست، اور علاقائی طاقتوں کی بدلتی ترجیحا ت،یہ سب محض الگ الگ خبریں نہیں بلکہ ایک وسیع جغرافیائی شطرنج کے متحرک مہرے ہیں، جہاں ہر چال آنے والے سیاسی موسم کا رنگ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات، غزہ جنگ کے پس منظر میں واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات میں پیدا ہونے والی دراڑاور ان سب کے درمیان پاکستان کی متوازن مگر محتاط سفارت کاری،یہ سب مل کر ایک پیچیدہ علاقائی منظرنامہ تشکیل دے رہے ہیں۔ اس منظرنامے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اب تنازعات صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ اقتصادی راستوں ، بحری گزرگاہوں، توانائی کی ترسیل اور سفارتی میزوں پر بھی لڑی جا رہی ہیں۔
سنگاپور کے جھنڈے والے تجارتی جہاز ”ایم وی ایور لوولی“ پر مبینہ ڈرون حملے کو جواز بنا کر امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایرانی ساحلی ریڈارز، میزائل اور ڈرون تنصیبات پر بمباری اور جواباً ایران کی طرف سے خلیج میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملہ اس حقیقت کی تازہ یاد دہانی ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے خواہ کتنے ہی مضبوط الفاظ میں کیوں نہ لکھے جائیں، اگر ان کے پیچھے سیاسی ارادہ کمزور ہو تو وہ کاغذ کے سوا کچھ نہیں رہتے۔

آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان براہ راست عسکری تصادم نے عالمی برادری کو ایک نئی اور ممکنہ طور پر زیادہ ہولناک جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ جہاں سے واپسی کا راستہ روز بروز مسدود ہوتا جا رہا ہے۔ یہ تصادم کہاں تک جا سکتا ہے، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب مشرقِ وسطیٰ کے جغرافیائی اور تزویراتی حقائق میں پوشیدہ ہے۔ موجودہ صورتحال محض کسی ایک بحری جہاز پر حملے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ بحری گزرگاہوں پر حاکمیت اور جیو پولیٹیکل بالادستی کی ایک وسیع تر جنگ ہے، عمان کی جانب سے، امریکا اور خلیجی ممالک کی شدید مخالفت کے باوجود، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر بحری راہداری کی سہولت اور ماحولیاتی تحفظ کے نام پر فیس یا ٹول عائد کرنے کا عندیہ، اور قطر کا اس معاملے میں ایران کے ساتھ مل کر انتظامات کا جائزہ لینے کا موقف ظاہر کرتا ہے کہ خلیج کی عرب ریاستیں بھی اب اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہیں کہ خطہ پرانی تزویراتی حیثیت پر واپس نہیں جا سکتا۔ اگر ایران اور امریکا کا یہ تصادم مزید طول پکڑتا ہے، تو یہ جنگ آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی تک جا سکتی ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کی طرف سے بغیر اجازت گزرنے والے تین آئل ٹینکر ز کو وارننگ دے کر واپس بھیجنا اور یہ اعلان کہ تہران کے منظور کردہ روٹ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ استعمال نہیں کیا جا سکتا، اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ایران اس عالمی تجارتی شہ رگ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے پرعزم ہے۔
اگر امریکا نے ایرانی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا تو ایران اپنے پراکسی نیٹ ورک اور اینٹی شپ میزائلوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کو دنیا کے لیے ناقابل ِ استعمال بنا سکتا ہے، جس کے بعد یہ لڑائی ایران کے اندر امریکی فضائی حملوں اور پورے خطے میں پھیلی امریکی فوجی چھاﺅنیوں پر ایرانی میزائلوں کی بارش کی صورت اختیار کر جائے گی۔
اس جنگ کے نتیجے میں جو عالمی بحران جنم لے گا، اس کا تصور ہی لرزہ خیز ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی کل سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اگرچہ فوری طور پر تیل کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا ہے، لیکن جنگ کے باقاعدہ پھیلنے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ملکی معیشتوں کو زمین بوس کرنے کے لیے کافی ہوں گی۔ توانائی کا یہ بحران بالخصوص یورپ اور ایشیا کی بڑی معیشتوں کو شدید ترین کساد بازاری کا شکار کر دے گا۔

بین الاقوامی برادری اور بالخصوص بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کی جانب سے ہمیشہ صرف ایران کے یورینیم کے ذخائر کو محدود کرنے اور سخت ترین مانیٹرنگ سسٹم قائم کرنے پر اصرار کیا جاتا ہے، جو سراسر یکطرفہ اور امتیازی رویہ ہے۔ یہاں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ عالمی سطح پر جوہری عدم پھیلاﺅکے نام پر صرف جبر اور پابندیوں کے ذریعے ایران ہی کو کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ اس دائرے میں خطے کی اس واحد ناجائز صہیونی ریاست کو کیوں نہیں لایا جاتا جو سیکڑوں غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں پر کنڈلی مارے بیٹھی ہے اور جس کی جارحیت پورے خطے کے امن کے لیے اصل خطرہ ہے؟ مغربی طاقتوں کا یہ دوہرا معیار ہی تہران کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ بیرونی خطرات کے سامنے اپنے دفاع کو ناقابل ِ تسخیر بنائے۔
موجودہ جنگی ماحول اور امریکی و اسرائیلی جارحیت کے بعد، تہران کے پاس اب یکطرفہ طور پر جوہری عدم پھیلاﺅکے ان معاہدوں کی پاسداری کا کوئی اخلاقی، قانونی یا تزویراتی جواز باقی نہیں رہتا جو اسے دفاع خود اختیاری سے محروم کرتے ہوں۔ اگر ایران نے اپنی بقا، خود مختاری اور مسلم امہ کے اس اہم بلاک کو خطرے میں دیکھا، تو وہ ساٹھ فی صد تک افزودہ شدہ یورینیم کے اپنے موجودہ ذخائر کو ملکی دفاع کے لیے فوری طور پر ہتھیاروں کے درجے تک لے جانے کا پورا حق رکھتا ہے۔

ایران کا ایک باقاعدہ جوہری طاقت بننا نہ صرف اس کی اپنی بقا کی ضمانت ہوگا، بلکہ یہ خطے میں طاقت کا توازن قائم کرنے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ایران کا یہ ممکنہ قدم مسلم امہ کے اس اسٹرٹیجک دفاع کو مزید تقویت دے گا، جس سے خطے میں بالادستی قائم کرنے کے خواہشمند استعماری اور صہیونی عزائم کو ہمیشہ کے لیے لگام دی جا سکے گی۔ اس پورے منظرنامے کا سب سے اہم اور تلخ پہلو واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کا وہ المیہ ہے جس کے تحت یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا امریکا، اسرائیل سے ہٹ کر کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے؟ موجودہ بحران کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ پالیسی مکمل طور پر تل ابیب کے یرغمال پوزیشن میں ہے۔ امریکا اپنی داخلی سیاست، مالیاتی نظام پر صہیونی لابی کی گرفت اور ہتھیاروں کی صنعت کے مفادات کے باعث اس پوزیشن سے محروم ہو چکا ہے جہاں وہ ایک غیر جانبدار عالمی سپر پاور کے طور پر اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر آزادانہ فیصلے کر سکے۔



