انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکاروبارکالم

”دجال کی عالمگیر شیطانی حکومت “ کا قیام(حصہ اول)

تحریر:محمد قیصر چوہان

فری میسن ،ایلومیناٹی اورکمیٹی آف 300 دنیا بھر میں دجال کے نظام کو رائج کی نگرانی کررہی ہیں نیو ورلڈ آرڈر کے تحت امریکہ، اقوام متحدہ، آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک، ورلڈ ہیلتھ آرگنایزیشن اورنیٹو فورسزجیسی کٹھ پتلیوںکے ذریعے دنیا پر ”دجال کے شیطانی نظام “کو نافذ کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے

”آئی آف پروویڈینس“ایک ایسا علامتی نشان ہے جس میں ایک تکون کے اندر آنکھ بنی ہوئی ہوتی ہے اور یہ نشان دنیا بھر میں مختلف گرجا گھروں میں، فری میسن عمارتوں اور حتیٰ کہ امریکہ کے ایک ڈالر کے نوٹ پر بھی موجود ہے۔یہ نشان’ دجال‘ کی علامت ہے، فری میسن ، الیومناٹی ،کمیٹی آف 300 دنیا بھر میں دجال کے نظام کو رائج کی نگرانی کرتی ہے۔ اور’ آنکھ ‘ کا نشان سب کو قابو میں رکھنے کا علامتی نشان ہے۔مذکورہ تینوں تنظیمیں دنیا کے تمام تر امور کو کنٹرول کرنے والے طاقتور ترین افراد کا وہ گروہ ہے جو خفیہ طریقے سے کام کر رہا ہے اور اس گروہ کا مقصد دنیا میں ایک نیا نظام قائم کرنا ہے ،جو دراصل دجال کی”عالمگیر شیطانی حکومت “ہے۔اسکل اینڈ بون سوسائٹی سمیت دیگر چھوٹی تنظیمیں اور مختلف بین الاقوامی این جی اوز یہودی بینکاروں کی مدد سے دنیا میں شیطانی نظام کے فروغ کی لیے کام کر رہی ہیں۔ اسی مشن کے تحت ’ ’ نیو ورلڈ آرڈر “کے نام سے دنیا میں اس نظام کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔یہ درحقیقت ایک نیا مذہب ہے جس میں شیطان کی پوجا کی جاتی ہے ،جس کی بنیاد خواہشات پر قائم ہے۔اقوام متحدہ ، نیٹو فورسز،ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ، امریکہ ، سمیت عالمی سود خور ادارے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف ساری دنیا میں دجال کے نظام کو رائج کرنے کے لیے متحرک ہیں۔بدقسمتی سے مسلم ممالک کے حکمران بھی اس کا بھر پور ساتھ دے رہے ہیں۔


شیطانی نظریے کو فروغ دینے کے مشن پر گامزن فری میسن ، ایلومیناٹی ،کمیٹی آف 300 تنظیمیں کسی کو جوابدہ نہیں ماسوائے اپنے بڑوں کو ۔ اس دنیا پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے اور اس دنیا میںشیطانی نظام رائج کرنے کے لیے ان لوگوں نے بڑی پلاننگ کیں ہیں۔ ان کی پلاننگز مہینوں کی نہیں بلکہ برسوں پر پھیلی ہوتی ہیں یہ بہت صبر کے ساتھ اپنی منصوبہ بندی پر کام کرتے رہتے ہیں۔ یہ سازشی عناصر ایسے ہیں جو کسی قومی، علاقائی یا بین الاقوامی حدود کو خاطر میں نہیں لاتے، جو اتنے طاقتور ہیں کہ تمام ملکوں کے قوانین سے بالاتر ہیں اور سیاست کے علاوہ تجارت، صنعت،میڈیکل، میڈیا، بینکاری، انشورنس، معدنیات حتی کہ منشیات کے کاروبار تک پر کنٹرول رکھتے ہیںیہ لوگ اپنی برادری کے بڑوں کے علاوہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہیںاس برادری کے دانا بزرگ ( گرینڈ ماسٹرز ) خودتو عالمی واقعات پر گرفت رکھتے ہیں لیکن سوائے چند لوگوں کے ان کے وجود سے کوئی باخبر نہیں۔ یہ خفیہ نگران، عالمی اداروں، گورنمنٹ ایجنسیوں اور بہت ساری تحریکوں اور تنظیموں کے ذریعے جو انہوں نے پروان چڑھائی ہیںدنیا پرشیطانی نظریے کی حکمرانی کے خواہاں ہیں۔ اس کے لیے وہ فریب دینے یا قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ان کے لیے کوئی اخلاقی قدر، کوئی قانونی روایت یا کوئی انسانی اصول نہیں،غرض کہ کوئی چیز رکاوٹ نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا پسماندہ دنیا، سب ان کے لیے مسخر ہیں۔ سب میں ان کے ایجنٹ زندگی کے اہم شعبوں میں موجود ہیںیہ خفیہ گروپ ہماری زندگی کے مختلف شعبوں پر حاوی ہے اور اپنی مرضی سے ہمارے معاملات کی ڈور ہلا رہا ہے ہمارے اصول ،قوانین،تہذیب،دستورسب کچھ ہائی جیک کیا جا چکا ہے،دجالی نظام پروان چڑھانے والوںنے بڑی سازشوں سے دنیا کو اپنے نقشے اور منصوبوں کے مطابق بنانے پر بڑی محنت کی ہے اور اپنے زیر تسلط منتخب جمہوری حکومتوں کے ذریعے اس کے باسیوں کو اخلاقی اقدار، انسانی ہمدردی اور صحت عامہ کے نقاب میں اپنے راستے پر چلا رہے ہیں۔ کرہ ارض پر آنے والے دنوں میں جس مقتدر عالمی حکومت کا نقشہ کھینچتا نظر آتا ہے، اس کا سربراہ اعظم دجال ہوگا۔اس حکومت کا دستور اور نظریہ شیطانی ہوگا اور اس کو شیطانی نظریے کے حامل لوگ چلائیں گے اور یہ ریاست یہود کی قائم کردہ عالمی دجالی ریاست ہوگی۔

 

دجال کی آمد سے قبل دنیا کی آبادی کو ایک ارب نفوس تک لایا جائے گا ۔اس مقصد کے حصول کے لیے جنگوں اور مختلف وبائی امراض کا سہارا لیا جا رہا ہے۔پہلے مرحلے میں 2050 تک دنیا کی آبادی کو کم کر کے چار ارب نفوس تک لانا ہے۔اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہی پہلی اور دوسری عالمی جنگ لگوائی گئی ، دنیا کے مختلف ممالک میں وبائی امراض پھیلائے گئے ،کورونا وائرس کی وبا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔اب دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔کورونا وائرس کی وباکے ذریعے دجالی نظام کو دنیا میں نافذ کرنے و الی طاقتوں نے دنیا کی آبادی کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے آزاد کاروباری اداروں کو تباہ کرنے کا جو پلان بنایا تھاوہ بڑی حد تک کامیاب رہا ہے۔اب کارپوریٹ سیکٹر کی طاقت اور ان کی نجی ملکیت میں اضافہ ہو چکا ہے ۔جبکہ امیر اور غریب کے درمیان بڑا فرق بھی پیدا ہو گیا ہے۔اس کے علاوہ کاروبار کو بنیادی طور پر آن لائن منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ بڑے آن لائن خوردہ فروشوںکی اجارہ داری کو بڑھایا جاسکے جبکہ آزاد خوردہ دکانوں اور کاروبار کو تباہ کیا جائے۔

گھر سے آن لائن شاپنگ کی ’سہولت‘ کا مطلب ہے کہ لوگ مقامی،ہاسٹریٹ شاپس،سروسز کی بندش پر یا اعتراض کرنے پرکم توجہ دیں گے۔ ایک سازش کے تحت ملازمتوں کو تباہ کیا جا رہا ہے اس طرح لوگوں کو حکومتی امداد پر انحصار کرنا پڑتا ہے جیسے بے روزگاری الائونس وغیرہ ریاست کے اعتماد کو بڑھانے میں لوگوں کو حکومتی گرانٹس، سستی طبی،تعلیمی رہائشی اسکیمیں، مفت کھانا وغیرہ کا اجراءکرناتاکہ لوگوں کی بڑی تعداد اپنی حکومتوں کی غلام بن جائے ،دنیا کے 98 فیصد ممالک کے حکمران دجالی نظام کو فروغ دینے والی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ان کا مقصدلوگوں کی بڑی تعداد کو غربت کی طرف دھکیلیں ۔

ملک کی معیشت میں بھاری مقدار میں پیسہ ڈالنے کا بہانہ (عالمی بینک امداد، عالمی قرضہ، کاروباری بیل آئوٹ وغیرہ) ،جو بے مثال افراط زر کی راہ ہموار کرتا ہے جو کہ ملکی معیشت کے لیے عالمی ریزرو کرنسی (ڈالر) کو ناگزیر بنا دے گا۔ اسے مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی کے ساتھ پوری معیشتوں کی تشکیل نو کے لیے ایک بہانے کے طور پر استعمال کریں ، جو مکمل طور پر کنٹرول ، ریگولیٹ اور مانیٹر ہو گی ۔کمیونٹی کو تباہ کریں، چائے خانے، پب، کافی شاپس ، کیفے ، ریستوران ، اسپورٹس کلب،میچ ، تفریحی،تفریحی سہولیات ، سنیما ، شاپنگ سینٹر اور گرجا گھر کمیونٹی کلچر اور ان جگہوں کے مرکز ہیں جہاں لوگ آپس میں ملتے ہیں ، اپنے آپ سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور بالآخر اپنی آزادی کا اظہار کرتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button