پاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

فرض کا قرض اور بے حس سیاست: ایک قومی المیہ

عاصم رضا خیالوی

منظور، جو سرحد پر تعینات ایک سپاہی تھا، نے اپنی شادی کے لیے اپنے کمانڈنگ آفیسر کو درخواست دی جو منظور کر لی گئی۔ گھر میں خوشیوں کا سماں تھا، ماں کی آنکھوں میں چمک تھی، بہنیں مسکرا رہی تھیں اور بھائی ڈھول کی تھاپ پر ناچ رہے تھے۔ شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں، ہر طرف مسکراہٹیں تھیں اور خوشیوں کا ماحول تھا۔ شادی ہوئی، گھر میں دلہن آئی، لیکن زندگی کا یہ نیا سفر ابھی شروع ہی ہوا تھا کہ منظور کا فون بج اٹھا۔ دوسری طرف سے کمانڈر کی آواز تھی کہ دشمن نے ملک کی سالمیت پر حملہ کر دیا ہے اور وطن کو تمہاری ضرورت ہے۔ منظور نے ایک لمحے کے لیے اپنی دلہن، ماں کی مسکراہٹ اور گھر کے خوشگوار ماحول کو دیکھا، مگر اپنی شادی کے تمام ارمانوں کو ایک طرف رکھ کر وطن کی خاطر محاذ پر چلا گیا۔

اس وقت ملک میں کچھ ایسے سرکاری ملازمین کی بھی شادیاں ہوئیں جنہیں دس چھٹیاں ملی تھیں، لیکن انہوں نے ملک کی پکار سننے کے بجائے دس جھوٹی بیماریوں کے بہانے بنا کر مزید چھٹیاں لے لیں۔ جب ہمارے جوان سینے پر گولیاں کھا رہے تھے، تب دوسری طرف کچھ لوگ اپنی جیبیں اور بینک بیلنس بڑھانے میں مصروف تھے۔ اسی تلخ حقیقت کے درمیان جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا بیان سامنے آیا، جس میں انہوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو تنخواہوں سے جوڑ دیا۔ ان کے اس بیان پر حکومتی وزراء بشمول خواجہ آصف، عطا اللہ تارڑ اور دیگر نے شدید ردِعمل دیا اور اسے اخلاقی بے حسی قرار دیا۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ کوئی بھی محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا، اس کے پیچھے ایک نظریہ اور گہرا لگاؤ ہوتا ہے، اور ایسی گفتگو شہداء کے لواحقین کے جذبات مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

اس بیان کے بعد، ذرائع کے مطابق پنجاب کی ضلعی عدالتوں میں مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے درخواستیں دائر ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ لاہور، گوجرانوالہ اور دیگر اضلاع کے سیشن ججوں نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ ان ریمارکس نے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے اور یہ توہینِ شہداء کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ تنازع ایک ایسے وقت میں پیدا ہوا ہے جب بلوچستان کے دشوار گزار پہاڑوں میں سیکیورٹی فورسز "آپریشن شعبان” کے تحت دہشت گردوں کا گھیرا تنگ کر رہی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں نہایت تیز اور مؤثر رہی ہیں، جن میں آپریشن شعبان کے دوران 67 اور 5 جولائی سے جاری دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کو ملا کر ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی کل تعداد 105 تک پہنچ چکی ہے۔ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس عزم پر قائم ہیں کہ جب تک ایک بھی دہشت گرد موجود ہے، یہ آپریشن بلا تعطل جاری رہے گا۔

آج یہ جوان جو اپنے لہو سے امن کی فصل بو رہے ہیں، یہ ان کا قرض ہے جسے تنخواہ کے ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔ جہاں ایک طرف دشمن سرحدوں پر دراندازی کی کوششیں کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی حلقوں میں شہداء کی قربانیوں کو مذاق کا نشانہ بنانا قومی یکجہتی کے لیے خطرہ ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سیاست کو ان قربانیوں سے بالاتر رکھیں اور منظور جیسے جوانوں کے عزم کو سراہتے ہوئے ریاست کی رٹ کو مقدم سمجھیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے محافظوں کا احترام کھو دیتی ہیں، وہ کبھی سر اٹھا کر نہیں جی سکتیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button