
کہتے ہیں خاموشی کی بھی ایک عمر ہوتی ہے۔ وہ برسوں تک ظلم سہہ لیتی ہے، سچ کو اپنے سینے میں دفن رکھتی ہے، آنسوؤں کو پلکوں سے نیچے نہیں گرنے دیتی، اور چیخوں کو ہونٹوں تک آنے نہیں دیتی۔ مگر جب خاموشی اپنی آخری حد کو پہنچ جائے تو پھر وہ صرف ٹوٹتی نہیں، تاریخ کا رخ بھی موڑ دیتی ہے۔۔۔سوچیے، اگر ایک دن دنیا کی ہر خاموشی کو زبان مل جائے تو کیا ہوگا۔۔۔؟ وہ خاموشی جو ایک ماں نے اپنی اولاد کی خاطر اختیار کی، وہ خاموشی جو ایک مزدور نے خالی جیب چھپانے کے لیے اوڑھ لی، وہ خاموشی جو ایک بے گناہ نے عدالت کی دہلیز پر برسوں کھڑے رہ کر اپنے اندر دفن کر دی، وہ خاموشی جو ایوانوں میں عوام کے ٹوٹے ہوئے وعدوں کے ساتھ دفن ہوتی رہی، اور وہ خاموشی جو ہر انسان نے اپنے ضمیر کے سامنے کسی نہ کسی مصلحت کے تحت اختیار کی۔۔۔مجھے یقین ہے، اگر یہ خاموشیاں ایک ساتھ بول اٹھیں تو دنیا میں سب سے زیادہ شور انسانوں کی زبانوں سے نہیں، ان سچائیوں سے پیدا ہوگا جو برسوں سے سینوں، دیواروں، فائلوں اور تاریخ کے اوراق میں قید ہیں۔ اس دن شاید تقریروں کی ضرورت ہی باقی نہ رہے، کیونکہ خاموشیاں خود اپنے گواہ بھی ہوں گی، اپنے ثبوت بھی، اور اپنے فیصلے بھی۔۔۔۔سب سے پہلے گھروں کی خاموشیاں بولیں گی۔ وہ دیواریں جو ہر رات سسکیوں کی آواز سنتی رہی ہیں، وہ چھتیں جنہوں نے بے شمار آنکھوں کو جاگتے دیکھا، وہ دروازے جن کے پیچھے کتنی زندگیاں ٹوٹتی رہیں، سب ایک ایک راز کھولنا شروع کر دیں گے۔ تب معلوم ہوگا کہ بہت سے گھروں میں غربت صرف خالی برتنوں میں نہیں رہتی، بلکہ مسکراتے چہروں کے پیچھے بھی بسی ہوتی ہے۔ بہت سی ماؤں نے اپنے حصے کی بھوک بچوں کے پیٹ میں منتقل کر دی، بہت سے باپ اپنی بے بسی کو غیرت کا نام دے کر خاموش رہے، اور بہت سے بچے ایسے تھے جنہوں نے کھیلنے کی عمر میں حالات کا بوجھ اٹھا لیا۔۔۔
گھروں کے بعد اگر عدالتوں کی خاموشیاں لب کشائی کر دیں تو شاید سب سے پہلے انصاف کی کرسی ہی نظریں جھکا لے۔ برسوں سے بند الماریوں میں رکھی ہوئی فائلیں ایک دوسرے کو پکارنے لگیں۔ ہر مقدمہ اپنی داستان سنانے لگے۔ کوئی بتائے کہ اس کے گواہ مر گئے مگر فیصلہ نہ آیا، کوئی کہے کہ سچائی ثبوت ڈھونڈتی رہی مگر طاقتور ہاتھ قانون کی آنکھوں پر پٹی باندھتے رہے۔ کتنے بے گناہ عمر بھر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش میں بوڑھے ہو گئے، کتنے مظلوم انصاف کی دہلیز پر دم توڑ گئے، اور کتنے مجرم قانون کی کمزوریوں کو اپنی کامیابی سمجھ کر مسکراتے رہے۔ اگر یہ خاموشیاں بول پڑیں تو شاید عدالتوں کے درودیوار بھی یہ سوال کریں کہ انصاف صرف ہونا کافی ہے یا بروقت ہونا بھی ضروری ہے۔۔۔؟پھر پارلیمان کی خاموشیاں جاگ اٹھیں۔ اسمبلی ہال کی کرسیوں سے لے کر راہداریوں تک ہر اینٹ بولنے لگے۔ وہ وعدے جو ہر انتخاب سے پہلے عوام کے سامنے کیے گئے تھے، ایک ایک کرکے حساب مانگنے لگیں۔ وہ قراردادیں جو کبھی فائلوں سے آگے نہ بڑھ سکیں، وہ قوانین جو طاقتوروں کے مفاد کے لیے بنے اور کمزوروں کے حق میں کبھی نافذ نہ ہوئے، وہ تقاریر جو تالیاں تو سمیٹتی رہیں مگر قوم کا مقدر نہ بدل سکیں، سب اپنی اپنی داستان سنانے لگیں۔ شاید پہلی بار قوم کو معلوم ہو کہ الفاظ سے زیادہ خاموشیاں جھوٹ بولتی رہی ہیں۔۔۔اس کے بعد بازاروں کی خاموشیاں بولیں گی۔ دکانوں کے شٹر، کارخانوں کی مشینیں، کھیتوں کی مٹی اور مزدور کے کھردرے ہاتھ گواہی دیں گے کہ مہنگائی صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ لاکھوں گھروں کے بجھتے ہوئے چولہوں کی کہانی ہے۔ وہ کسان بول اٹھے گا جس نے اناج اگایا مگر اپنے بچوں کو دودھ نہ پلا سکا۔ وہ مزدور اپنا پسینہ دکھائے گا جس کی قیمت ہمیشہ مہنگائی سے کم رہی۔ وہ چھوٹا دکاندار بتائے گا کہ کس طرح امید روز کھلنے والی دکان کے ساتھ کھلتی اور شام کو ادھار کی پرچیوں میں دفن ہو جاتی ہے۔۔۔پھر اسپتالوں کی خاموشیاں اپنی زبان کھولیں گی۔ سفید کوٹ، خالی بسترے، لمبی قطاریں، مہنگی دوائیں اور انتظار میں بیٹھی آنکھیں ایک ساتھ بولنا شروع کریں گی۔ کوئی ماں بتائے گی کہ اس کے بچے کی جان صرف اس لیے نہ بچ سکی کہ علاج اس کی حیثیت سے مہنگا تھا۔ کوئی بزرگ یہ راز کھولے گا کہ بیماری سے زیادہ اسے بے بسی نے تھکا دیا تھا۔ تب معلوم ہوگا کہ بہت سے لوگ بیماری سے نہیں، علاج کی قیمت سے ہار جاتے ہیں۔۔۔
پھر تعلیمی اداروں کی خاموشیاں بولنا شروع کریں گی۔ اسکولوں کی گھنٹیاں، کالجوں کے برآمدے، یونیورسٹیوں کی لائبریریاں اور بند کلاس روم ایک ایسی حقیقت بیان کریں گے جسے ہم برسوں سے نظر انداز کرتے آ رہے ہیں۔ کتابیں کہیں گی کہ ہمیں صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ بنا دیا گیا، کردار سازی کا چراغ بجھا دیا گیا۔ اساتذہ کی خاموش آنکھیں گواہی دیں گی کہ انہوں نے ذہین ذہن تو دیکھے، مگر کم ہوتے ہوئے کردار بھی دیکھے۔ ڈگریاں فخر سے نہیں، افسوس سے کہیں گی کہ ہمیں علم کی نہیں، صرف ملازمت کی سیڑھی سمجھ لیا گیا۔۔۔پھر میڈیا کی خاموشیاں پردۂ اسکرین سے باہر نکل آئیں گی۔ کیمرے بول اٹھیں گے کہ انہوں نے بہت کچھ دیکھا، مگر سب کچھ دکھا نہ سکے۔ مائیکروفون کہیں گے کہ ہم نے سچ کی آواز بھی سنی اور طاقت کی سرگوشیاں بھی۔ کچھ خبریں بتائیں گی کہ وہ سرخی بننے کے قابل تھیں مگر کسی کونے میں دفن کر دی گئیں، اور کچھ معمولی باتیں اعتراف کریں گی کہ انہیں غیر معمولی بنا کر پیش کیا گیا۔ اس دن شاید خبر بھی خود فیصلہ کرے کہ اس کی اصل ذمہ داری سنسنی نہیں، سچائی ہے۔۔۔اور پھر تاریخ کی خاموشیاں اپنی صدیوں پر محیط چادر اتار دیں گی۔ پرانے قلعے، شکستہ عمارتیں، مزار، یادگاریں اور گرد آلود دستاویزات ایک ساتھ بولنے لگیں گی۔ وہ کہیں گی کہ قومیں باہر کے دشمنوں سے کم اور اندر کی غلطیوں سے زیادہ ٹوٹتی ہیں۔ وہ یاد دلائیں گی کہ ہر عروج کے پیچھے دیانت، انصاف اور محنت کھڑی تھی، اور ہر زوال کے پیچھے غرور، ناانصافی اور خود غرضی۔ تاریخ شاید پہلی بار کسی کتاب کے بجائے انسانوں کے ضمیر میں لکھی جانے لگے۔۔۔لیکن ان سب سے زیادہ خوفناک منظر اس وقت سامنے آئے گا جب انسان کے اپنے دل کی خاموشی بولے گی۔ وہ خاموشی جو ہر غلط فیصلے سے پہلے انسان کو روکنا چاہتی تھی، مگر ہم نے اسے مصلحت کا نام دے کر دبا دیا۔ وہ پوچھے گی ،کیا تمہیں یاد ہے، جب تم سچ بول سکتے تھے مگر خاموش رہے۔۔۔؟ جب تم کسی مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو سکتے تھے مگر تماشائی بنے رہے۔۔۔؟ جب تمہیں معلوم تھا کہ غلط ہو رہا ہے، مگر تم نے اپنی آسائش، اپنے تعلقات یا اپنے مفاد کو سچ پر ترجیح دی۔۔؟
اور پھر ایک ایسا منظر سامنے آئے گا جسے شاید انسانیت کبھی بھلا نہ سکے۔ گھروں کی خاموشیاں، عدالتوں کی خاموشیاں، پارلیمان کی خاموشیاں، اسکولوں، اسپتالوں، بازاروں، تاریخ اور دلوں کی خاموشیاں ایک ہی میدان میں جمع ہوں گی۔ کسی کے ہاتھ میں جھنڈا نہیں ہوگا، کوئی نعرہ نہیں لگائے گا، کوئی مائیک نہیں ہوگا، کوئی مقرر اسٹیج پر کھڑا نہیں ہوگا، مگر پھر بھی ایسا محسوس ہوگا جیسے پوری دنیا ایک ساتھ بول رہی ہو۔ ہر طرف صرف سچ کی آواز ہوگی،ایسا سچ جسے نہ طاقت جھٹلا سکے گی، نہ دولت خرید سکے گی اور نہ ہی کوئی دلیل کمزور کر سکے گی۔اس دن شاید انسان کو پہلی مرتبہ احساس ہوگا کہ خاموشی کبھی کمزوری نہیں ہوتی، بلکہ وہ سچ کا آخری صبر ہوتی ہے۔ جب یہ صبر ٹوٹتا ہے تو پھر لفظ نہیں، زمانے بدل جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر وہ آواز جسے برسوں دبایا گیا، ایک دن ایسی قوت کے ساتھ ابھری کہ بڑے بڑے تخت، مضبوط ایوان اور ناقابلِ شکست سمجھے جانے والے نظام بھی اس کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے۔شاید ہمیں اس دن کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ جب دیواریں گواہیاں دیں، فائلیں فیصلے سنائیں، کرسیاں سوال کریں اور ضمیر عدالت لگا دے۔ اس سے پہلے کہ خاموشیاں بولنے پر مجبور ہوں، ہمیں خود بولنا سیکھنا ہوگا، سچ کے لیے، انصاف کے لیے، انسانیت کے لیے اور اپنے آنے والے کل کے لیے۔ کیونکہ جب معاشرے کے باکردار لوگ خاموش ہو جاتے ہیں تو پھر تاریخ کو خاموشیوں سے گواہیاں لینی پڑتی ہیں۔۔۔اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کا سب سے خوش نصیب معاشرہ وہ نہیں جہاں ہر شخص بولتا ہو، بلکہ وہ ہے جہاں خاموشیوں کو کبھی بولنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔



