پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

ہر مقدمے میں گرفتاری تفتیش کیلئے لازمی نہیں ہوتی:لاہور ہائیکورٹ

محض کسی شخص کا پراپرٹی ڈیلر یامعاہدے کا گواہ ہونا جرم میں ملوث ہونا ثابت نہیں کرتا، 2پراپرٹی ڈیلرز کی قبل از گرفتاری ضمانت کنفرم

 

لاہور: (بیوروچیف) لاہور ہائیکورٹ نے پراپرٹی فراڈ سے متعلق ایک اہم مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے دو پراپرٹی ڈیلرز کی قبل از گرفتاری ضمانت کنفرم کر دی اور قرار دیا ہے کہ ہر مقدمے میں گرفتاری تفتیش کے لیے لازمی نہیں ہوتی۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے 9صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا محض کسی شخص کا پراپرٹی ڈیلر یا کسی معاہدے کا گواہ ہونا اسے جرم میں ملوث ثابت نہیں کرتا۔

ریکارڈ پر ایسا کوئی ابتدائی ثبوت موجود نہیں جس سے درخواست گزاروں کا جعلی دستاویزات کی تیاری یا ان کے استعمال میں براہِ راست تعلق ثابت ہو سکے۔

فراڈ کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے یہ دکھانا ضروری ہے کہ ملزم کی بدنیتی ابتدا ہی سے موجود تھی صرف معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونا یا وعدہ پورا نہ کرنا ازخود دھوکہ دہی کے زمرے میں نہیں آتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ جعلی دستاویز استعمال کرنے کا جرم ثابت کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا لازم ہے کہ متعلقہ شخص کو دستاویز کے جعلی ہونے کا علم تھا اور اس نے اسے دھوکہ دہی کی نیت سے استعمال کیا۔

پراپرٹی فراڈ کے مقدمات میں تفتیشی اداروں اور ماتحت عدالتوں کو گواہ اور شریکِ جرم کے درمیان واضح فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ فیصلے میں ان قانونی اصولوں کو آئندہ مقدمات کے لیے اہم عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button