پاکستانتازہ ترین

بارش، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی، بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق

لاہور، پشاور (ویب ڈیسک): بارش اور سیلاب کی تباہی نے ملک کے مختلف حصوں میں شدید نقصان پہنچایا، جہاں موسلا دھار بارش، سیلابی ریلوں، کلاؤڈ برسٹ اور لینڈ سلائیڈنگ کے مختلف واقعات میں بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے مزید بارشوں، فلیش فلڈ اور اربن فلڈنگ کے خدشے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔

خیبر میں بارش اور سیلابی ریلوں سے بڑے پیمانے پر تباہی

ضلع خیبر میں موسلا دھار بارش کے باعث مختلف علاقوں میں سیلابی ریلے آ گئے، جن کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ شدید بارش سے لنڈی کوتل اور گردونواح میں کئی رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں، کچے مکانات اور 10 سے زائد گھروں کی چار دیواریاں منہدم ہوگئیں۔

سیلابی ریلوں میں دو گاڑیاں بہہ گئیں تاہم خواتین اور بچوں کو بروقت ریسکیو کر لیا گیا، جبکہ پولیس کے مطابق تین افراد لاپتہ ہیں۔ خوگہ خیل کے علاقے میں بھی ایک گاڑی سیلابی ریلے کی زد میں آئی، تاہم تمام مسافروں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

وادی نیلم اور مانسہرہ میں کلاؤڈ برسٹ، ندی نالوں میں طغیانی

آزاد کشمیر کی وادی نیلم کے نواحی علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ کے بعد ندی نالوں میں شدید طغیانی آگئی، جس سے متعدد مکانات، دکانیں، گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں متاثر ہوئیں جبکہ مال مویشی بھی بہہ گئے۔ مرکزی شاہراہ نیلم پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر رہی۔

ادھر مانسہرہ کے علاقے جبوڑی میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے کئی ہوٹلوں اور رہائشی مکانات کو نقصان پہنچایا، جبکہ وادی کاغان، وادی سرن اور دیگر حساس علاقوں میں سیلاب کے خدشے کے پیش نظر سیاحوں کو دریاؤں اور ندی نالوں سے دور رہنے کی ہدایت جاری کی گئی۔

نگر میں لینڈ سلائیڈنگ، 4 مزدور جان کی بازی ہار گئے

گلگت بلتستان کے ضلع نگر کے علاقے چھلت بڈہ لس میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 4 مزدور جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق مزدور کام سے واپسی پر تھے کہ اچانک مٹی کا تودہ گرنے سے ملبے تلے دب گئے۔ جاں بحق افراد میں ایک کا تعلق پنجاب کے ضلع لیہ، ایک کا چھلت جبکہ دو کا تعلق کوہستان سے بتایا گیا ہے۔

لاہور میں کرنٹ لگنے اور دیوار گرنے کے واقعات

لاہور میں موسلا دھار بارش کے دوران دو مختلف حادثات پیش آئے۔ شادباغ کھوکھر روڈ پر 22 سالہ عدنان کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا، جبکہ نین سکھ کے علاقے میں گھر کی دیوار گرنے سے 7 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں ایک خاتون کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

لیہ میں دریائے سندھ کا کٹاؤ، سکول اور بستیاں متاثر

ضلع لیہ کے موضع سمران شیب میں دریائے سندھ کے شدید کٹاؤ سے دو سرکاری سکول دریا برد ہوگئے، جبکہ سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی، تقریباً 300 مکانات، متعدد بستیاں، مساجد، بجلی کے کھمبے اور دیگر سرکاری املاک کو نقصان پہنچا۔

حسن ابدال میں پل سیلابی ریلے میں بہہ گیا

حسن ابدال کے نواحی علاقے کوہلیہ میں مقامی آبادی کی مدد سے تعمیر کیا گیا پل ایک بار پھر سیلابی ریلے کی نذر ہوگیا، جس کے باعث پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سرحدی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پی ڈی ایم اے کا سیلاب اور اربن فلڈنگ الرٹ

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق دریائے چناب کے خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جبکہ 24 جولائی تک مزید بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے کا امکان ہے۔

پی ڈی ایم اے نے بسنتر، ڈیگ، ایک، پلکھو، بھمبر، ہلسی اور ڈورا میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کی وارننگ جاری کی ہے۔ لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور بہاولنگر ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

این ڈی ایم اے نے فلیش فلڈ اور گلیشیئر پگھلنے کا الرٹ جاری کر دیا

این ڈی ایم اے نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں کے لیے فلیش فلڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ 25 جولائی تک گلیشیئر پگھلنے کی رفتار بڑھ سکتی ہے، جس سے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں خطرناک اضافہ متوقع ہے۔

ادارے نے ہنزہ، نگر، سکردو، شگر، استور، دیامر، اپر و لوئر چترال اور شانگلہ سمیت متعدد علاقوں کو حساس قرار دیتے ہوئے شہریوں اور سیاحوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

شہریوں کے لیے احتیاطی ہدایات

پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب جانے سے اجتناب کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ ریسکیو اداروں کی ہدایات پر فوری عمل کریں۔

FAQs

پاکستان میں بارش سے کتنے افراد جاں بحق ہوئے؟

ملک کے مختلف علاقوں میں بارش، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق ہوئے۔

سب سے زیادہ متاثرہ علاقے کون سے ہیں؟

خیبر، نگر، لاہور، وادی نیلم، مانسہرہ، لیہ، حسن ابدال، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے متعدد علاقے متاثر ہوئے۔

این ڈی ایم اے نے کیا وارننگ جاری کی ہے؟

این ڈی ایم اے نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں فلیش فلڈ، گلیشیئر پگھلنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری کیا ہے۔

پی ڈی ایم اے نے کن علاقوں کے لیے وارننگ دی؟

پی ڈی ایم اے نے پنجاب کے مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے، ڈیرہ غازی خان کے رودکوہیوں میں فلیش فلڈ اور لاہور، گوجرانوالہ، بہاولنگر اور راولپنڈی میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

شہریوں کو کیا ہدایات دی گئی ہیں؟

شہریوں کو ندی نالوں، دریاؤں اور سیلابی علاقوں سے دور رہنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button