پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

ہائیکورٹ:سرگودھا کی درگاہ میں20مریدین کا قتل،پیرسمیت 4مجرموں کی سزائے موت برقرار

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)لاہور ہائیکورٹ نے درگاہ میں 20 افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے والے متولی عبد الوحید اور اس کے 3 ساتھیوں کو 20، 20 بار سزائے موت کا حکم برقراررکھا۔

دربار کا عکس

حکومت کی جانب سےپراسکیوٹر راحیلہ شاہد نے دلائل پیش کیے،مذکورہ واقعہ اپریل 2017 میں پیش آیا تھا، جب یکم اپریل کو سرگودھا کے نواحی علاقے چک نمبر 95 شمالی میں درگاہ کے متولی عبد الوحید نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر خواتین سمیت 20 مریدین کو لاٹھی اور چاقوؤں کے وار سے قتل کردیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے سرگودھا میں دربار کی گدی کے تنازع پر 20 افراد کو قتل کرنے کے مقدمے میں مجرمان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے چاروں مجرموں کی اپیلیں مسترد کرکے 20 بار سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھ دیا۔

جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے 25 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، حکومت کی جانب سے پراسکیوٹر راحیلہ شاہد نے دلائل پیش کیے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جرم کی ہولناکی انصاف کی آنکھوں پر پردہ نہیں ڈال سکتی، عدالت نے صرف جذبات میں نہیں بلکہ صرف شواہد پر فیصلہ کیا، دربار پر پیش آنے والا واقعہ انتہائی ہولناک اور غیر معمولی نوعیت کا تھا، جبکہ ایف آئی آر کے فوری اندراج نے جھوٹے مقدمے کے امکان کو ختم کر دیا، اور پولیس کی بروقت کارروائی استغاثہ کے مؤقف کو مضبوط بناتی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ زخمی گواہ کا بیان غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور بلاوجہ رد نہیں کیا جا سکتا، فیصلے کے مطابق مجرمان کے خلاف جھوٹے مقدمے کا کوئی محرک ثابت نہیں کیا جا سکا، خون آلود ہتھیاروں سمیت موقع پر گرفتاری نے استغاثہ کا مقدمہ مزید مضبوط کیا، عینی گواہوں کے بیانات طبی شواہد سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں۔

ڈی این اے اور فرانزک شواہد نے ملزمان کو جرم سے جوڑ دیا، فرانزک رپورٹ کے مطابق مقتولین کے جسموں میں ایتھانول موجود تھانشہ آور مشروبات پلا کر مقتولین کو بے ہوش کیا گیا، جس کی تصدیق فرانزک شواہد نے کی، فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ قتلِ عام کی بنیادی وجہ دربار کی گدی نشینی کا تنازع تھا، جس نے خوفناک قتلِ عام کی شکل اختیار کی۔

 

مجرموں کا محض انکار مضبوط عینی، طبی اور فرانزک شواہد کو رد نہیں کر سکتے، مذہبی مقام پر اجتماعی قتل سے عوام میں خوف، دہشت اور عدم تحفظ پھیلا، انسداد دہشت گردی ایکٹ کا اطلاق اس مقدمے میں مکمل طور پر درست تھا مجرمان نے بیس بے گناہ افراد کو انتہائی سفاکانہ انداز میں قتل کیا، مقتولین کو برہنہ کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے میں کسی قسم کی رعایت انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگیا، اجتماعی قتل جیسے سفاک جرم میں سخت ترین سزا ہی انصاف کے تقاضے پورے کر سکتی ہے، عدالت چاروں مجرمان کی سزائے موت برقرار رکھتی ہے، مجرموں کے خلاف سرگودھا کے تھانہ صدر میں 2 اپریل 2017 کو مقدمہ درج کیا گیا، انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا نے 3 دسمبر 2019 کو چاروں مجرموں بیس بار کو سزائے موت سنائی۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button