انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

بارشوں کا موسم

سپیڈبریکر، میاں حبیب

اس بار مون سون جولائی میں شروع ہو چکا ہے آثار بتا رہے ہیں کہ اس سال زیادہ بارشیں ہوں گی شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان کے علاقوں میں پانی کی موجیں سر اٹھا رہی ہیں سخت گرمی کی وجہ سے گلیشیر زیادہ پگل رہے ہیں جو طغیانی کا باعث بن رہے ہیں پچھلے سال سے کلاوڈ برسٹ ہو رہے جو کسی جگہ اچانک بادل پھٹ جاتے ہیں اور اتنی شدید طوفانی بارش ہوتی ہے جو سب کچھ بہا کر لے جاتی ہے جس کے آگے نہ کوئی پتھر ٹھر سکتا ہے نہ کوئی وزنی شے ٹھہرتی ہے ۔

اچانک آسمان سے اتنا پانی برستا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے برف پگلنے کے بعد بارشیں شروع ہو چکی ہیں کئی جگہوں پر سیلابی کیفیت ہے مختلف حادثات میں 15 کے قریب افراد جان بحق ہو چکے ہیں ہمارا روایتی دشمن ہمارے خلاف پانی کا کھیل کھیل رہا ہے وہ کبھی ہمارا پانی بند کر کے ہمیں خشک سالی سے دوچار کرتا ہے کبھی پانی چھوڑ کر ڈبونے کی کوشش کرتا ہے۔

فائل فوٹو

پچھلے سال بھی پنجاب کے سارے دریائوں میں سیلاب تھا جو بڑی تباہی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا اور ہم ابھی تک اس کے اثرات بھگت رہے ہیں کہ اس بار پھر سیلابی کیفیت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بھارت نے دریائے جہلم میں پانی چھوڑ دیا ہے جس سے جہلم دریا میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے بھارت پانی کو پاکستان کے خلاف آبی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

RAIN

روٹین میں ستلج، راوی، چناب اور جہلم میں عالمی قوانین کے مطابق کم سے کم پانی جو چھوڑنا ضروری ہوتا ہے بھارت وہ بھی روک لیتا ہے اور پانی جمع ہونے کی صورت میں کسی حکمت عملی کے بغیر ہی بڑے پیمانے پر پانی چھوڑ کر پاکستان کو ڈبونے کی کوشش کرتا ہے اس نے اپنے تائیں سندھ طاس معاہدہ بھی ختم کر دیا ہے اس معاہدہ کے مطابق بھارت دریاوں میں پانی چھوڑنے سے پہلے پاکستان کو آگاہ کرنے کا پابند ہے لیکن بھارت نے پچھلے سال بھی ہمیں بروقت آگاہ نہیں کیا تھا اور جب پانی پاکستان کی سرحدوں کو چھو رہا تھا اس وقت اس نے ہمیں پانی چھوڑنے کی اطلاع دی تھی ۔

 

بھارت کی کارستانیاں اپنی جگہ پر لیکن ہم بھی حفاظتی اقدامات کو کوئی زیادہ سنجیدہ نہیں لیتے نہ ہمارے پاس بارشوں کا پانی محفوظ کرنے کے لیے کوئی ذخائر ہیں نہ ہمارے پاس سیلابی کیفیت سے بچنے کی کوئی منصوبہ بندی ہے ہم بارشوں میں ڈوبنے کے لیے تیار ہوتے ہیں ہمارا حال یہ ہے کہ شدید گرمی میں ہم جھلس کر مر جاتے ہیں قحط سالی کا شکار ہو جاتے ہیں شدید سردیوں میں ہم ٹھٹھر کر مر رہے ہوتے ہیں کبھی ہم پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہوتے ہیں اور کبھی ہم پانی میں ڈوب کر مر رہے ہوتے ہیں۔

بےشمار جگہوں پر ہم پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیم بنا سکتے ہیں لیکن آپس کی لڑائیوں اور سازشوں کے باعث ہم تماشہ دیکھنے کے علاوہ کچھ کر نہیں پا رہے حالانکہ جس پانی میں ہم ڈوب کر مر رہے ہوتے ہیں جو ہمارے مال مویشی بہا کر لے جا رہا ہوتا ہے وہ ایک نعمت ہے اور وہ اربوں ڈالر کا اثاثہ ہوتا ہے جس کو سنبھالنے کی ہمارے پاس استعداد نہیں ہم اربوں ڈالر کا قدرتی انعام ضائع کر دیتے ہیں حالانکہ اس کو ذخیرہ کرکے اس پانی سے ہم سارا سال اپنی ضرورتیں پوری کر سکتے ہیں لیکن ہم بار بار کے جھٹکوں کے باوجود سوچنے سمجھنے سے عاری ہیں اس پانی سے ہم غیر آباد زمینوں کو آباد کر سکتے ہیں اور غذائی قلت دور کر سکتے ہیں لیکن شاید ہماری ترجیحات کچھ اور ہیں ۔

قارئین آج کل مون سون کا موسم ہے سب سے زیادہ شاعری گیت تحریریں اسی موسم پر ہیں اس موسم کے پکوان بھی بڑے خاص ہیں اور یہ ہے بھی بڑا بے اعتبارا سا موسم کچھ پتہ نہیں چلتا کس وقت بارش ہو جائے کس وقت حبس ہو جائے اچانک خوشگوار ہوا چلنا شروع ہو جائے اس موسم کی ایک اور خوبی یہ بھی ہے کہ اس موسم میں برسنے والی برسات بھی عجیب ہوتی ہے گھر کے ایک حصے میں بارش ہو رہی ہوتی ہے تو دوسرا حصہ خشک ہوتا ہے۔

اکبر بادشاہ نے اپنے نو رتنوں سے پوچھا کہ سب سے اچھا موسم کون سا ہے اور سب سے گندا موسم کون سا ہے سب سے سمجھدار وزیر نے بتایا کہ سب سے اچھا موسم برسات کا ہے اور سب سے گندا موسم بھی برسات کا ہے بادشاہ نے پوچھا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ہی موسم بیک وقت اچھا بھی ہو اور برا بھی وزیر نے عرض کی حضور اگر بارش کے بعد ہوا چلنا شروع ہو جائے تو اس سے خوشگوار کوئی اور موسم نہیں ہو سکتا لیکن اگر بارش کے بعد ہوا بند ہو جائے اور حبس ہو جائے تو اس سے گندا اور کوئی موسم نہیں ۔

 

بارشوں کا موسم شجر کاری کا بھی موسم ہے یہ افزائش کا بہترین موسم ہوتا ہے ہمیں اس موسم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیں پاکستان پہلے ہی درختوں کی کمی کے باعث موسمیاتی تغیرات کا شکار ہے ان موسمی تغیرات سے بچنے کا واحد حل درخت ہیں ہمیں قومی پالیسی کے تحت شجرکاری کی ضرورت ہے پاکستان سے آلودگی کو ختم کرنے کے لیے صحت مند ماحول کے لیے سموگ کے خاتمہ کے لیے اور بیماریوں سے بچنے کے لیے بھی درخت بہت ضروری ہیں اس لیے بطور معاشرہ ہمیں اپنے طور پر درخت لگا کر آنے والی نسلوں کو محفوظ بنانے کی مہم کا حصہ بننا چاہیے گرین پاکستان ہی ہمیں موسموں کی انتہا پسندی سے بچا سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button