جو رہ گیا، وہ کردار تھا
تحریر: محمد محسن اقبال

اس لامحدود کائنات میں اللہ تعالیٰ، جو بلند و برتر ہے، اس کی ذاتِ اقدس کے سوا ہر عروج اپنے اندر زوال کا ایک خاموش امکان لیے ہوئے ہوتا ہے۔ یہ وہ اٹل حقیقت ہے جو تخلیقِ کائنات کے آغاز سے چلی آ رہی ہے، اور حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ نے اسے ایک بار پھر دنیا کی آنکھوں کے سامنے نمایاں کر دیا۔
دنیا بھر کے بہترین کھلاڑی اس عظیم الشان میدان میں جمع ہوئے، ان کی بے مثال مہارت نے کروڑوں دلوں کو مسحور کیا اور ہر براعظم کے شائقین نے انہیں والہانہ محبت اور داد سے نوازا۔ ان درخشاں ستاروں کے ہجوم میں دو نام سب سے زیادہ روشن تھے؛ پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو اور ارجنٹائن کے لیونل میسی۔
پندرہ برس سے زائد عرصے تک ان دونوں عظیم کھلاڑیوں نے فٹ بال کی دنیا پر حکمرانی کی، اور ان کی لازوال رقابت نے اس خوبصورت کھیل کو ایسی دلکشی عطا کی جو شاید ہی کبھی دیکھی گئی ہو۔ دونوں نے عظمت کی بلند ترین چوٹیوں کو چھوا، مگر اس عالمی مقابلے میں اپنے آخری میچوں کے اختتام پر دونوں کی آنکھوں میں شکست کی نمی اور دلوں میں اداسی کی ایک گہری پرچھائیں موجود تھی۔
1985ء میں پیدا ہونے والے کرسٹیانو رونالڈو اور 1987ء میں دنیا میں آنے والے لیونل میسی جدید فٹ بال کے دو بلند ترین مینار سمجھے جاتے ہیں۔ رونالڈو غیرمعمولی جسمانی صلاحیت، برق رفتار دوڑ، فضائی گیندوں پر بے مثال گرفت، پنالٹی اور دور سے کیے جانے والے مہلک شاٹس اور ہر میدان میں خود کو منوانے کی حیرت انگیز استعداد کے باعث ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔
ان کا کیریئر اسپورٹنگ سی پی سے شروع ہوا، پھر مانچسٹر یونائیٹڈ کے دو ادوار، ریال میڈرڈ کے سنہری برس، یووینٹس اور اب النصر تک پھیلا ہوا ہے، جہاں وہ عمر کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کو بھی شکست دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ تیرہ سو سے زائد سینئر میچز اور تقریباً نو سو ستر گول انہیں مردوں کی فٹ بال کی تاریخ کا سب سے زیادہ گول کرنے والا کھلاڑی بناتے ہیں۔
پرتگال کے لیے ایک سو چھیالیس بین الاقوامی گول اور یوئیفا چیمپئنز لیگ میں ایک سو چالیس گول ان کے ناقابلِ تسخیر عزم اور کامیابی کی بے پایاں خواہش کا ثبوت ہیں۔
دوسری جانب لیونل میسی کی شخصیت گویا گیند کے ساتھ ایک سحر انگیز تعلق کی آئینہ دار ہے۔ ان کا گیند پر غیرمعمولی کنٹرول، دور اندیش پاسنگ، فری ککس پر حیران کن مہارت اور کھیل کو گہرائی سے ترتیب دینے کی صلاحیت انہیں اپنے عہد کا بے مثال فنکار بناتی ہے۔ نو سو دس سے زائد گول، لاتعداد معاون گول (اسسٹس) اور تخلیقی کھیل میں مسلسل برتری نے ان کے فن کو امر کر دیا ہے۔ بارسلونا سے ان کی طویل وابستگی، پھر پیرس سینٹ جرمین اور بعدازاں انٹر میامی تک کا سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ جہاں بھی گئے، اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں سے ہر میدان کو منور کر دیا۔
2006ء سے 2026ء تک کے چھ عالمی کپ دونوں عظیم کھلاڑیوں کی موجودگی سے جگمگاتے رہے۔ رونالڈو نے ہر ورلڈ کپ میں گول کرنے کا منفرد اعزاز حاصل کیا، مجموعی طور پر گیارہ گول کیے اور 2006ء میں پرتگال کو چوتھے نمبر تک پہنچایا۔ 2026ء کے عالمی کپ میں پرتگال پری کوارٹر فائنل تک پہنچا، جہاں اسپین کے ہاتھوں شکست اس کا مقدر بنی۔ رونالڈو نے اس مہم میں تین گول کیے، اور یہی ان کے عالمی کپ کیریئر کا آخری باب ثابت ہوا۔
میسی کی ورلڈ کپ داستان اپنے اختتام میں مزید درخشاں دکھائی دیتی ہے۔ عالمی کپ کی تاریخ میں اکیس گول اور متعدد معاون گول ان کے نام ہیں۔ 2022ء میں انہوں نے ارجنٹائن کو عالمی چیمپئن بنایا، جبکہ 2026ء میں بھی ارجنٹائن کو دوبارہ فائنل تک لے گئے۔ تاہم اضافی وقت میں اسپین کے خلاف ایک صفر کی معمولی شکست نے خواب کو ادھورا چھوڑ دیا۔ اس ٹورنامنٹ میں ان کے آٹھ گول، جن میں ایک ہیٹ ٹرک بھی شامل تھی، ان کے شاندار عالمی سفر میں ایک اور روشن باب کا اضافہ بن گئے۔
ان دونوں کی رقابت نے فٹ بال کو ناقابلِ بیان حسن عطا کیا۔ رونالڈو اپنی طاقت، استقامت اور طویل کیریئر کے باعث مجموعی گولز اور میچز میں برتری رکھتے ہیں، جبکہ میسی کارکردگی کی مؤثریت، کامیاب ڈرِبلز اور تخلیقی کھیل میں اکثر سبقت لے جاتے ہیں۔ بڑے مقابلوں اور ناک آؤٹ مرحلوں میں دونوں نے ایسے ناقابلِ فراموش لمحات تخلیق کیے جو نسلوں تک یاد رکھے جائیں گے۔
تاہم اعداد و شمار سے کہیں بڑھ کر ان کی شخصیت کا وہ پہلو ہے جو دلوں کو مسخر کرتا ہے۔ رونالڈو ہمیشہ اپنے مداحوں اور عوام کے ساتھ زیادہ کھلے دل سے ملنے والے، محبت بانٹنے والے اور مسکراتے چہرے کے مالک رہے ہیں۔ ان کی گرم جوشی اور خلوص نے انہیں صرف ایک عظیم کھلاڑی ہی نہیں بلکہ کروڑوں دلوں کی دھڑکن بنا دیا۔ اس کے برعکس میسی خاموش طبع اور کم گو ہیں، جو اپنی گفتگو سے زیادہ اپنے کھیل کو اظہار کا ذریعہ بناتے ہیں۔ کامیابی ہو یا ناکامی، رونالڈو کی عاجزی، انکساری اور انسان دوستی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ حقیقی عظمت صرف ٹرافیوں سے نہیں بلکہ انسانوں سے محبت، اعلیٰ اخلاق اور انکسار سے بھی ناپی جاتی ہے۔
میدان سے باہر بھی قسمت نے دونوں پر فراخ دلی سے مہربانی کی۔ بھاری معاوضوں، نائیکی اور ایڈیڈاس جیسے عالمی اداروں کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں اور کامیاب کاروباری منصوبوں نے انہیں دنیا کے امیر ترین کھلاڑیوں میں شامل کر دیا۔ رونالڈو کی دولت کا تخمینہ تقریباً ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر لگایا جاتا ہے، جس میں سی آر سیون (CR7) برانڈ، پیستانا سی آر 7 لگژری ہوٹلز، جدید جم، ملبوسات، خوشبوئیں، سپر کاروں کا وسیع ذخیرہ، نجی طیارہ اور تاریخ کے مہنگے ترین کلب معاہدوں میں سے ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔
اسی طرح میسی کی دولت تقریباً ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر کے قریب سمجھی جاتی ہے، جس میں ایم آئی ایم ہوٹلز، مشروبات کا برانڈ، ریٹیل اسٹورز، بارسلونا اور میامی میں وسیع جائیدادیں اور انٹر میامی میں حصص شامل ہیں۔ دونوں نے اپنی بے پناہ دولت کو صرف ذاتی آسائش تک محدود نہیں رکھا بلکہ انسانیت کی خدمت کو بھی اپنا شعار بنایا۔
رونالڈو نے کورونا وبا کے دوران اسپتالوں، کینسر مراکز، بچوں کے علاج اور قدرتی آفات کے متاثرین کے لیے لاکھوں ڈالر عطیہ کیے، خون کا عطیہ دیا اور اپنی قیمتی یادگاریں بھی نیلام کر کے فلاحی کاموں میں صرف کیں۔ میسی کی فاؤنڈیشن محروم بچوں کی تعلیم اور بہتر مواقع کی فراہمی کے لیے سرگرم ہے، جبکہ انہوں نے یونیسیف، اسپتالوں اور مختلف انسانی فلاحی منصوبوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ دونوں نے خاموشی سے بھی اور اعلانیہ بھی کروڑوں ڈالر انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کیے۔
ایک اور عالمی کپ کا پردہ گر چکا ہے۔ رونالڈو اور میسی اب بین الاقوامی فٹ بال کے افق سے رخصت ہو رہے ہیں، مگر ان کی عظمت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ وہ اپنے عہد کے ایسے دیوقامت کردار ہیں جنہوں نے ایک پورے دور کو روشن کیا۔ ان کی آخری شکستیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ دنیا کی ہر بادشاہت عارضی ہے، ہر تاج ایک دن سر سے اتر جاتا ہے اور ہر عروج کو زوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
خصوصاً رونالڈو کی کشادہ دلی، خوش اخلاقی اور محبت بانٹنے والی طبیعت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ انسان کی اصل کامیابی اس کے ریکارڈز میں نہیں بلکہ اس کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے جو وہ لوگوں کے دلوں میں چھوڑ جاتا ہے۔ اس کائنات میں ہر بلندی کو ایک دن ڈھلنا ہے، مگر عظیم کرداروں کی خوشبو، ان کے اخلاق کی روشنی اور ان کے چھوڑے ہوئے اسباق آخری سیٹی بج جانے کے بعد بھی مدتوں زندہ رہتے ہیں۔



