پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

سابق صدر یا ریٹائرڈ افسر کس قانون کے تحت سرکاری رہائشگاہ کے حقدار ؟سندھ ہائیکورٹ

کراچی: (ویب ڈیسک) سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کو سرکاری رہائشگاہ نہ ملنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق صدر کی حیثیت سے عارف علوی کو تاحیات سرکاری رہائشگاہ رکھنے کا حق حاصل ہے۔
 بنگلہ نمبر 5 اے سابق صدر کو تاحیات الاٹ کیا گیا تھا، تاہم مذکورہ بنگلہ شہاب امام کے قبضے میں ہے۔2023 میں سٹیٹ آفس نے شہاب امام کی الاٹمنٹ منسوخ کردی تھی، جسے شہاب امام نے سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔
ڈاکٹر شہاب امام نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر عارف علوی پاکستان میں رہتے ہی نہیں، اس لیے انہیں سرکاری رہائشگاہ کی کیا ضرورت ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل مہرین ابراہیم نےکہا عارف علوی پاکستان میں نہیں رہتے اور وہ سرکاری رہائشگاہ کے حقدار نہیں ہیں۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیئے سابق صدر کی حیثیت سے سرکاری رہائشگاہ کے حقدار ہونے کی بات قانون سے ثابت کرنا ہوگی۔ وہ قانون بتایا جائے جس کے تحت سابق صدر یا ریٹائرڈ افسر سرکاری رہائشگاہ کا حقدار ہوتا ہے۔
عدالت نے درخواست کی فوری سماعت کی استدعا منظور کرتے ہوئے فریقین کو 31 اگست کے لیے نوٹس جاری کردیئے۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button