خاران، پشاور، کراچی (ویب ڈیسک) بلوچستان کے ضلع خاران کے علاقے لجے میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے 7 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ متعدد دہشتگردوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید ہوگیا۔
خاران میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن
سکیورٹی ذرائع کے مطابق خاران کے علاقے لجے میں دہشتگردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت کارروائی کی گئی۔
آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔ کارروائی میں 7 دہشتگرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے جدید اسلحہ، بھاری مقدار میں گولہ بارود، دیگر جنگی سامان، 2 گاڑیاں اور ایک موٹرسائیکل بھی برآمد کی گئی۔
دہشتگرد مختلف وارداتوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشتگرد خاران اور لجے کے علاقوں میں مبینہ طور پر لوٹ مار، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔
سکیورٹی فورسز بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آخری دہشتگرد کے خاتمے تک تعاقب جاری رکھا جائے گا اور دہشتگردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
بنوں میں فائرنگ، پولیس اہلکار شہید
ادھر خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے پولیس اہلکار کو شہید کردیا۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ تھانہ بسیہ خیل کی حدود مرزا بیگ سورانی میں پیش آیا۔
پولیس اہلکار سیف اللہ چوکی ٹاؤن شپ میں تعینات تھا اور صبح ڈیوٹی کے لیے اپنے گھر سے روانہ ہوا تھا کہ نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے اسے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔
فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگیا۔ میت ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بنوں منتقل کردی گئی جبکہ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
کراچی میں فتنہ الخوارج کا مبینہ دہشتگرد گرفتار
دریں اثنا کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ اور محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے خفیہ اطلاع پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے جیکب لائن، جمشید ٹاؤن سے فتنہ الخوارج کے ایک مبینہ دہشتگرد کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان پاکستان رینجرز سندھ کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت شہزاد عرف ڈنگر کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق فتنہ الخوارج کے منصور گروپ سے بتایا گیا ہے۔
کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور بارود بھی برآمد کیا گیا۔
گرفتار ملزم پر دہشتگردی کے لیے فنڈنگ جمع کرنے کا الزام
رینجرز ترجمان کے مطابق دہشتگرد منصور نے شہزاد کو کراچی سے تنظیم کے لیے مبینہ طور پر فنڈنگ جمع کرنے کا ٹاسک دیا تھا۔
ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم مختلف افراد سے ماہانہ بنیادوں پر فتنہ الخوارج کے لیے مبینہ طور پر فنڈنگ جمع کرتا رہا، جبکہ یہ رقوم ایزی پیسہ اکاؤنٹس کے ذریعے وزیرستان منتقل کی جاتی تھیں۔
رینجرز کے مطابق منتقل کی جانے والی رقوم مبینہ طور پر دہشتگردی کی مختلف کارروائیوں میں استعمال ہوتی تھیں۔
وزیرستان میں مبینہ ملاقاتوں کا بھی انکشاف
ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزم مبینہ طور پر وزیرستان جا کر دہشتگرد منصور سے خفیہ ملاقاتیں بھی کرتا رہا، جبکہ جون 2026 میں بیرمل میں منصور سے اس کی ملاقات ہوئی۔
ترجمان کے مطابق ملاقات کے دوران منصور نے شہزاد کو دہشتگردی اور بھتہ وصولی کے لیے نیٹ ورک مزید مضبوط کرنے کا ٹاسک دیا۔
بعد ازاں ایک نامعلوم ساتھی کے ذریعے ملزم کو اسلحہ اور بارود بھی فراہم کیا گیا۔
حکام کے مطابق گرفتار ملزم اور اس کے ساتھی حساس مقامات پر دہشتگردی کی مبینہ منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری
رینجرز کے مطابق کارروائی کے بعد گرفتار ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے، جس کے دوران اس کے مبینہ نیٹ ورک، مالی معاونت اور دیگر ساتھیوں سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔



