
کامیابی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ آپ زیر بحث رہیں دنیا میں کوئی بندہ ایسا نہیں جس پر سب کا اتفاق ہو یہ انسانی فطرت ہے کہ ہر شخص کی سوچ کا زاویہ مختلف ہوتا ہے جو لوگ کچھ کر گزرنے کی نیت رکھتے ہوں وہ تنقید اور توصیف کی پرواہ کیے بغیر اپنا کام جاری رکھتے ہیں ایسی ہی ایک شخصیت پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ہیں جنھیں پاکستان کی سب سے متحرک شخصیت قرار دیا جا سکتا ہے۔
وہ بلا کے محنتی ہیں اور جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتے ہیں اس کی تہہ تک پہنچتے ہیں وہ خود رپورٹر رہے ہیں تو انھیں خبروں میں رہنے کا فن بھی خوب آتا ہے انھوں نے جب میڈیا انڈسٹری میں قدم رکھا تو بالکل ایک منفرد آئیڈیا کے ساتھ آئے لوگوں نے خاص کر صحافت کے جغادریوں نے بڑی تنقید کی لیکن وہ ثابت قدم رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے بلندیوں کی معراج کو چھونے لگے جب وہ نگران وزیر اعلی بنے تو ایک سال میں انھوں نے پانچ سال کا کام کر دکھایا ۔
ہم تو والٹن روڈ لاہور کینٹ کے مکین ویسے بھی ان کے احسان مند ہیں کہ انھوں نے دہائیوں کا مسلہ مہینوں میں حل کر دیا والٹن روڈ کا گندا نالہ ختم کر کے عالمی معیار کی سڑکیں بنا دیں سی بی ڈی روڈ،کیولری گراونڈ انڈر پاس والٹن روڈ کیولری گراونڈ اوور ہیڈ برج والٹن روڈ خیابان اقبال اوور ہیڈ برج کی تعمیر سے علاقے کی قسمت بدل دی ۔
چونکہ یہ کینٹ کا علاقہ تھا نہ وفاقی حکومت اس پر توجہ دیتی تھی نہ صوبائی اورنہ ہی کنٹونمنٹ بورڈ لیکن محسن نقوی نے ریکارڈ مدت میں یہ کام مکمل کروائے اسی طرح پنجاب کے ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن تھانوں کی خوبصورت عمارتیں چند دنوں میں تعمیر کرکے ریکارڈ قائم کر دیا اب جب سے وہ وفاقی وزیر داخلہ بنے ہیں اسلام آباد کی ضرورتوں کے مطابق ریکارڈ ترقیاتی منصوبے دنوں اور مہینوں میں مکمل کرکے ثابت کردیا ہے کہ اگر نیت کام کرنے کی ہو تو ہر کام ممکن ہے۔
بہت سارے اپنوں اور بیگانوں کو یہ بھی ہضم نہیں ہو رہا کہ محسن نقوی اتنا اہم کیوں ہے یہ تو اللہ کی رضا ہے وہ جس سے جو کام لینا چاہے لیکن حیران کن امر ہے کہ وہ جس حکومت کے وزیر داخلہ ہیں اس حکومت کے بعض ارکان سمیت بڑے بڑے نامور لوگ بھی ان سے خائف ہیں ان کی شخصیت کا خاصا ہے کہ انھوں نے جس طرح بہت مختصر وقت میں میڈیا میں اپنا نام بنایا تھا اسی طرح بہت کم عرصہ میں سیاست میں اپنا نام بنا لیا ہے اور آج صورتحال یہ ہے کہ کسی سیاسی جماعت کومنانا ہو کسی کی ناراضگی دور کرنی ہو کسی کو کوئی بات سمجھانی ہو وہ رابطہ کاری میں پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
وہ پیپلزپارٹی،مسلم لیگ ن،جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن،ایم کیو ایم،مسلم لیگ ق، مذہبی سیاسی جماعتوں کے علاوہ تحریک انصاف کے اکابرین کے ساتھ بھی رابطوں میں ہیں مجھے لگتا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ نوابزادہ نصراللہ خان بنتے جا رہے ہیں نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی خوبی تھی کہ وہ اندرون ملک رابطوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے لیکن محسن نقوی کا دائرہ کار اندرون ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک تک بھی پھیلا ہوا ہے۔
ایران کے ساتھ ثالثی میں ایرانی قیادت کے ساتھ ان کے قریبی رابطوں نے بڑا فعال کردار ادا کیا ہے اس کے علاوہ سعودی عرب،برطانیہ اور امریکہ کی بھی اہم شخصیات کے ساتھ ان کے قریبی رابطے ہیں انھوں نے کئی محاذ سنبھال رکھے ہیں ان کی رابطہ کاری کا وصف ہے کہ وہ معاملات کو خراب نہیں ہونے دیتے وہ بہت سارے سٹیک ہولڈرز کو معاملات سے باہر نہیں جانے دیتے ایسے لگتا ہے وہ کئی ایک کے گارنٹر ہیں بہر حال ان کی کارکردگی سے لگتا ہے کہ ان کا مستقبل بہت تابناک ہے ۔
ان کی ذمہ داریوں میں کرکٹ کے معاملات بھی ہیں نہ صرف انھوں نے پاکستان میں کرکٹ کی مکمل بحالی میں اہم کردار ادا کیا بلکہ کرکٹ میں بھارت کی اجارہ داری کو بے نقاب کیا بہترین حکمت عملی کے ساتھ بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا پاکستان میں نازک ترین حالات کے باوجود پی ایس ایل کروایا تین نئی فرنچائزز متعارف کروائیں کرکٹ بورڈ کے فنانس میں اضافہ کیا اب وہ پاکستان میں نئے نظام کے ذریعے بہتری لانے کے خواہاں ہیں لیکن ابھی تک اس کے خدوخال پٹاری میں بند ہیں سب کو تجسس ہے کہ نیا نظام کیسا ہو گا لوگوں کو اس کی تفصیلات کا شدت سے انتظار ہے۔



