انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادب
کینسراورساتوں براعظموں کا سفر طے نہیں بلکہ جینے والے باہمت مسعوداسلم
سپیڈبریکر، میاں حبیب


عزت، شہرت، مقام یہ سب اللہ کی عنایات ہیں ہر انسان کی کوشش ہوتی ہے وہ جو کام کرے اسے پذیرائی حاصل ہو کچھ لوگ بہت محنت کرکے بہت اچھا لکھتے ہیں لیکن ان کی قسمت میں وہ پذیرائی نہیں ہوتی جس کے وہ حق دار ہوتے ہیں یہ سب اللہ کی نوازشات ہیں ہمارے دوست مسعود اسلم نے ساتوں براعظموں کی سیاحت پر، سفرMasood Aslam Lillah، لکھی ہے جسے قلم فاونڈیشن نے شائع کیا یہ ان کے تصنیفی سلسلہ کا دوسرا شاہکار ہے اس نادر اور منفرد عالمی سفر نامے نے منفرد اعزازات پائے ہیں۔

یہ کتاب اس حوالے سے بھی منفرد ہے کہ پاکستان کی 79 سالہ تاریخ میں آج تک کسی بھی سفری نامہ نگار نے تمام براعظموں پر مشتمل سفر نامہ نہیں لکھا آپ حیران ہوں گے کہ مصنفMasood Aslam Lillah وینکوور کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں اور بدقسمتی سے سٹیج فور کینسر سے زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں وہ اپنی کتاب کی تقریب رونمائی پاکستان میں کرنا چاہتے تھے لیکن وہ اپنی طبی حالت کی وجہ سے پاکستان نہ آ سکے۔

واضح رہے کہ ان کی پہلی کتاب آواز مسعوداسلم کی تقریب رونمائی لاہور کے بڑے ہوٹل میں ہوئی تھی جس کا افتتاح سابق وزیراعظم اور موجودہ چیرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق نے کیا تھا اس بار یہ اعزاز میرے اور برٹش کولمبیا کی صوبائی اسمبلی کے سپیکر راج چوہان کے حصے میں آیا اس کتاب کی تقریب رونمائی کا آغاز مصنف کے آبائی گاؤں للہ ٹائون ضلع جہلم سے ہوا تھا اور دلچسپ امر یہ ہے کہ مصنف کی غیر موجودگی میں ان کے دوستوں اور چاہنے والوں نے پاکستان کے گیارہ شہروں میں افتتاحی تقریبات
سجائیں۔

یہ اعزاز شاید ہی کسی کتاب یا مصنف کے حصے میں آیا ہو گا میں اس وقت کینیڈا کے وزٹ پر ہوں اور اتفاق سے وینکوور بھی آنا ہوا اس خوبصورت شہر کو دیکھنے کی تشنگی دہائیوں سے دل میں تھی اللہ نے وینکوور کو حسن کی دولت سے بڑا نوازا ہوا ہے جگہ جگہ قدرت کے شاہکار دکھائی دیتے ہیں یہاں بسنے والے لوگ بھی قدرتی حسن سے ہم آہنگ ہیں مختلف قومیتوں کے لوگ ایک لڑی میں پروے ہوئے لگتے ہیں۔

برداشت، تعاون، عاجزی ان کا خاصا ہے وینکوور میں میرے میزبان میرے دوستMasood Aslam Lillah جن سے میری چالیس سالہ رفاقت ہے میرے اعزاز میں تقریب رکھنا چاہ رہے تھے میں نے انھیں مشورہ دیا کہ کیوں نہ اس موقع پر آپ کی کتاب کا بھی افتتاح ہو جائے جس پر انھوں نے اتفاق کیا تقریب سے ایک دن قبل ان کا جیم پیٹیسن ہسپتال میں ٹریٹمنٹ تھا میں بھی ان کے ہمراہ تھا اور سخت پریشان تھا کہ کل تقریب ہے اور پتہ نہیں ان کی حالت کیسی ہو گی ان کے معالج میرے چہرے کے تاثرات دیکھ کر پریشان ہو رہے تھے۔

انھوں نے مصنف سے پوچھا کہ یہ اتنے پریشان کیوں ہیں تو میرے دوست نے بتایا کہ یہ پاکستان سے آئے ہیں اور میری کنڈیشن سے پریشان ہیں خیر میرے دوست نے مجھے کہا آپ پریشان نہ ہوں میں نے کبھی بیماری کو سر پر سوار نہیں کیا میں نے تو اس بیماری کے ہوتے ہوئے کئی سفر بھی کیے ہیں۔
کتاب کی پر وقار تقریب رونمائی کا آغاز دونوں ملکوں کے ترانوں سے کیا گیا تمام کمیونٹیز کے سرکردہ خواتین و حضرات پرجوش انداز میں شریک ہوئے برٹش کولمبیا کے سپیکر، راقم، منسٹر فار انفراسٹرکچر Garry begg سابق لیبر منسٹر ہیری بینس رکن پارلیمنٹ سکھ دالیوال کی اہلیہ نے فیتہ کاٹ کر کتاب کا افتتاح کیا صوبائی وزیر معدنیات جگروپ برار اور صوبائی وزیر تعلیم jessy sunner نے تہنیتی پیغامات بھیجوائے۔
مقررین نے مسعود للہ کو اپنی ذات میں انجمن قرار دیا کسی نے سماجی و سیاسی خدمات کو قابل قدر گردانا اور کسی نے انھیں بہترین مصنف ہونے کا اعزاز بخشا صدر محفل عزت مآب سپیکر برٹش کولمبیا راج چوہان نے برٹش کولمبیا کے وزیر اعلی ڈیوڈ ای بی، برٹش اسمبلی اور بطور سپیکر اپنی طرف سے مبارکباد پیش کی اور جلد اپنی تصانیف کا انگلش ترجمہ کرنے کی درخواست کی مصنفMasood Aslam Lillah نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے زندگی کی طرح ساتوں براعظموں کا سفر طے نہیں کیا بلکہ اسے جیا ہے۔

دنیا بھر کے مناظر صرف دیکھے نہیں بلکہ انھیں محسوس کیا ہے لمحے صرف گزارے نہیں انھیں اپنے اندر جذب کیا ہے یہ کتاب بیماری کے سائے میں ضرور لکھی گئی ہے لیکن شکست کے لہجے میں ہرگز نہیں کینسر نے میرے جسم کو کمزور ضرور کیا ہے مگر میرے ارادوں کو شکست نہ دے سکا۔

میں نے جان لیا کہ زندگی کی قدر اس کی طوالت میں نہیں اس کے سانسوں کے شعور میں ہے انھوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مناظر دیکھنے سے ان کے ماضی حال اور کسی حد تک مستقبل کا اعادہ ہوتا ہے انھوں نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے مرحوم والدین اور بےلوث اور پرخلوص دوستوں کے نام کیا۔




