انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

بے لوث قومی مفاہمت کی اشد ضرورت

شاہد جاوید ڈسکوی / دستک

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ مملکت خداداد اس وقت بحرانوں کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے ،خاص طور پر پاکستان کا موجودہ سیاسی و معاشی منظر نامہ کسی عام بحران کا پتا نہیں دیتا بلکہ یہ ایک ایسا گرداب ہے جس نے پچیس کروڑ نفوس کی سانسوں کی ڈور توڑ رکھی ہے۔ ایک طرف معیشت کی جاں کنی، بے قابو مہنگائی کی تپش، بے روزگاری کی دیمک اور بدترین انتظامی بے حسی نے عام آدمی کو زندہ درگور کر دیا ہے تو دوسری طرف ایوانوں اور سڑکوں پر جاری لاحاصل سیاسی جنگ نے ریاست کے ستونوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے پورا ملک ایک بچھو کی طرح اپنی ہی دم سے ڈس رہا ہو جہاں آئین، قانون اور عوامی مفاد محض کاغذ کے پُرزے بن کر رہ گئے ہیں۔ایسے الم ناک اور دم گھٹنے والے ماحول میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی طرف سے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت اور یہ کہنا کہ "تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے”، محض ایک روایتی سیاسی بیان نہیں بلکہ شعلوں میں گھِری ہوئی ریاست کے لیے ایک ایسا ہنگامی راستہ ہے جس سے نظریں چرانا اب ممکن نہیں رہا۔ اس پیشکش کا وقت اور پس منظر پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اگر اب بھی انا کے ان بتوں کو نہ توڑا گیا اور سیاسی درجہ حرارت کو کم نہ کیا گیا تو راکھ کا یہ ڈھیر کسی کے ہاتھ نہیں آئے گا۔
اس سیاسی لہر میں تبدیلی کے اشارے محض حکومتی بیانات اور کاغذ کے بے جان ٹکڑوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ عدالتی ایوانوں سے ابھرنے والی سنسنی خیز پیش رفت بھی اس دکھی، مظلوم اور پسی ہوئی قوم کے لیے ایک آکسیجن کا کام کر رہی ہے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل کی تاریک اور گھٹن زدہ کوٹھڑی سے ہسپتال منتقل کرنے کا حکم اور اس کے بعد سامنے آنے والے آئینی، قانونی و انتظامی اقدامات دراصل انسانی اقدار، عدل اور آئینی پاسداری کی وہ روشن شمعیں ہیں جو نفرت کے گہرے اندھیروں کو چھاٹنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔ ایسے حساس، انسانی اور مدبرانہ فیصلے نہ صرف برسوں سے چلی آ رہی زہر آلود کشیدگی کو کم کرنے کا باعث بنتے ہیں بلکہ سیاسی فضا میں گھلے نفرت کے زہر کو زائل کر کے ایک نئی صبح، بھائی چارے اور اعتماد کی امید جگاتے ہیں۔ اگر تمام تر فریقین وقت کی دیوار پر لکھے ان واضح اور روشن اشاروں کا مثبت ادراک کر لیں تو یہ برسوں کے جمود کے خاتمے اور پائیدار سیاسی و آئینی استحکام کا وہ نقطہ آغاز بن سکتا ہے جس کی قوم کو دہائیوں سے تلاش ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ہر صفحہ خون کے آنسو رو کر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جب بھی ہماری سیاسی قیادت نے اپنی انا کے بتوں کو پوجا، انتقام کی آتش فشانیوں کو ہوا دی، طاقت کے غرور میں مبتلا رہے اور ذاتی مفادات کو ملکی سلامتی و بقا پر فوقیت دی، اس کی خوفناک، دردناک اور ناقابلِ تلافی قیمت صرف اور صرف اس ریاست اور اس کے بے بس، مظلوم عوام کو اپنے خون اور پسینے سے چکانی پڑی۔ اس لاحاصل اور خود غرضانہ عدم استحکام کے نتیجے میں جہاں روپیہ پائی پائی کو محتاج ہو کر بے قدر ہوا، افراطِ زر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا جنازہ نکل گیا، وہاں صحت، تعلیم، روزگار اور انفراسٹرکچر جیسے عوامی بقا کے بنیادی مسئلے ہمیشہ کے لیے بے گورو کفن دفن ہو گئے۔ ماضی کا یہ خونچکاں اور دردناک سبق بالکل روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ نہ تو یکطرفہ طاقت، انتقام اور جبر کے اقتدار سے کبھی پائیدار استحکام لایا جا سکتا ہے اور نہ ہی سڑکوں کی مسلسل ہنگامہ آرائی، اداروں سے تصادم، بائیکاٹ اور گھیراؤ کے خونیں راستے سے قوموں کی تقدیریں بدلتی ہیں۔
پیش منظر کی ہولناکیوں اور تباہی کے دہانے پر کھڑی معیشت پر نظر ڈالی جائے تو ریاست کی بقا، جغرافیائی سلامتی اور پچیس کروڑ غریب عوام کا مفاد صرف اور صرف اسی ایک نقطے میں مضمر ہے کہ تمام سیاسی طاقتیں اپنے اپنے نفع نقصان کے ترازو توڑ کر انتقامی ذہنیت کو جھٹک کر اور ذات کے حصار سے باہر نکل کر آئینِ پاکستان کی بالادستی پر سچے دل سے متفق ہو جائیں۔ اپوزیشن کو بھی اس کڑوی لیکن سچی حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ تشدد، انارکی اور دائمی محاذ آرائی کا راستہ ہمیشہ بند گلی میں جا کر ختم ہوتا ہے جو بالآخر جمہوریت اور خود ان کے اپنے سیاسی وجود کے لیے زہرِ قاتل بن جاتا ہے اور یہ کہ دنیا کے ہر بڑے سے بڑے سیاسی و سفارتی تنازع کا حل بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی برآمد ہوتا ہے۔دوسری جانب حکومت کو بھی اپنے عملی رویے اور اقدامات سے ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی یہ مذاکرات کی پیشکش کوئی عارضی سیاسی چال، لفظی جگل بندی، وقت گزاری یا محض نمائشی بیان بازی نہیں ہے بلکہ وہ اپنے سینے میں واقعی ایک کشادہ دل، وسیع ظرف اور خلوص رکھتی ہے اور ایک جامع، سنجیدہ، بلا تفریق اور بے لوث قومی ایجنڈے پر بات کرنے کے لیے پورے صدقِ دل کے ساتھ تیار ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کے بنیادی تحفظات کو دور کرے اور سیاسی انتقام کے تاثر کو عملی طور پر ختم کر کے ایک سازگار ماحول فراہم کرے۔
آج وقت کا آخری اور حتمی تقاضا ہے کہ تمام تر حریف "تالی دونوں ہاتھوں سے بجنے” کے اس آفاقی اور فطری اصول کو اپنی اپنی ذات، پارٹی پالیسی اور سیاسی عمل پر بلا تاخیر لاگو کریں۔ اگر حکومت مصالحت، خیر سگالی اور پیشرفت کا ہاتھ آگے بڑھاتی ہے تو اپوزیشن کو بھی اپنے سخت، ضدی اور جابرانہ رویوں میں لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ ایک تاریخی "میثاقِ معیشت” اور "میثاقِ جمہوریت” کی ایسی مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بنیاد رکھی جا سکے جو ملک کو ہر قسم کے بحرانوں سے نکال سکے۔اگر اب بھی ہماری سیاسی قیادت نے دانشمندی، تدبر، بصیرت اور کھلے دل کا مظاہرہ نہ کیا اور ذاتی، خاندانی و مفاداتی سیاست کا طوق گلے میں ڈالے رکھا تو آنے والی نسلیں، تباہ حال عوام اور تاریخ کا بے رحم قلم انہیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔ پاکستان مزید کسی سیاسی ایڈونچر، تجربے، محاذ آرائی یا انتقامی سیاست کا بوجھ اٹھانے کا مطلق متحمل نہیں ہو سکتا اس دیس کو اس وقت گلی محلوں اور سڑکوں پر جنگ و جدل نہیں بلکہ ایک وسیع تر، تاریخی، ہمہ گیر اور بے لوث قومی مفاہمت کی اشد ضرورت ہے جو اس ڈوبتی ہوئی کشتی کو ساحلِ مراد تک پہنچا سکے اور ملک کو پائیدار ترقی، امان، عدل اور خوشحالی کی تابناک و روشن راہ پر گامزن کر سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button