بلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

کیا نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا قیام ناگزیر ہے۔۔۔؟

تحریر:حافظ محمد صالح

گزشتہ دنوںاسلام آباد میں پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ میں ملک بھر کے بزنس مینوں کے سامنے وفاقی وزیراخلہ محسن نقوی نے ایک ہی سانس میں بہت سارے سچ بولے تھے، محسن نقوی نے کہاتھاکہ ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے اور مزید آگے بڑھ کر ایک اور سچ بولا کہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ اور اس کے ذریعے مسائل حل کرنا ممکن نہیں۔ محسن نقوی کے اس بیان کے بعد پاکستان کی سیاست میں ایک نیا سیاسی بھونچال آگیا ، کئی دن گزرنے کے بعد بھی ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام، انتظامی یونٹس یا مقامی حکومتوں کو مستحکم کرنے کے حوالے سے بحث جاری ہے ۔وزیر ِ داخلہ محسن نقوی نے کھل کر پاکستان کے گورننس بحران کا حل نئے صوبوں سے جوڑ دیا ہے اور ان کے بقول جب تک نئے صوبوں کی تشکیل ممکن نہیں ہوگی، حکمرانی کا یہ بحران ختم نہیں ہوگا۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جانب سے نظام کی ناکامی کے اعتراف اور نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کے بیان نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا ئی جبکہ بعد ازاں ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس نے نئی قیاس آرائیوں کو جنم دے کر اس سیاسی بھونچال میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ اس حوالے سے سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں کا ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے۔ بلاشبہ محسن نقوی نے نظام کی تباہی کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس میں کوئی کلام نہیں تاہم ان کی تقریر کے دیگر مندرجات بین السطور میں جن پیغامات کے حامل ہیں وہ سیاسی سیٹ اپ کے لیے خطرے کی ایک گھنٹی ہے۔ حکومتی منصب پر فائز ایک اہم ذمے دار فرد کا نظام کی ناکامی کا اعتراف اس امر کی کھلی دلیل ہے کہ موجودہ سسٹم عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے، اس نظام میں عوام کے مسائل حل نہیں ہورہے
، یہ اعتراف خود موجودہ نظام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بھی ہے، بعض سیاسی بالخصوص قوم پرست جماعتیں نئے صوبوں کے قیام کی باتوں سے خطرہ محسوس کر رہی ہیں۔محسن نقوی اور آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اندرونِ خانہ کوئی نئی کھچڑی پک رہی ہے اور کسی نئے نظام کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ سیاسی افق کا یہ منظر نامہ ایک نئے سیٹ اپ کا پیش خیمہ محسوس ہوتا ہے، جس نے نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ عوام کو بھی شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔
نئے انتظامی یونٹس یا صوبوںکے حوالے سے بحث کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کافی مشکل کا شکار نظر آتی ہیں اور خاص طور پر پیپلز پارٹی اس فیصلے کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیونکہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ سندھ کی تقسیم سے ان کے سیاسی مفادات کو بھی نقصان پہنچے گا۔ مسلم لیگ (ن) بھی نئے صوبوں کے قیام کی حامی نہیں ہے اور وہ اس وقت اس بات پر زیادہ توجہ دے رہی ہے کہ ہمیں نئے صوبوں کے مقابلے میں مقامی حکومتوں کو مستحکم کرنے پر زور دینا چاہیے۔ لیکن واقفانِ حال یہی بتا رہے ہیں کہ طاقت کے حلقے ہر صورت میں نئے صوبے بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر طاقتور حلقے نئے صوبوں کی تشکیل کو طاقت ہی کی بنیاد پر حل کرنے کی کوشش کریں گے یا انہیں اسی انداز سے بنائیں گے تو اس سے صوبائی سطح پر ایک نیا سیاسی بحران پیدا ہوگا اور مختلف علاقائی گروہ، علاقائی کارڈ وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھیلیں گے۔صوبائی سطح پر اضلاع میں مقامی حکومتوں کا نظام کمزور ہے اور لوگوں کو نچلی سطح پر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے لوگ نئے صوبوں کا مطالبہ کرتے تھے اور ان کو لگتا تھا کہ نئے صوبے کی تشکیل کے بغیر ان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ لیکن اب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ کے سامنے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر کوئی بڑی مزاحمت کر سکیں گی یا خاموشی سے سمجھوتا کر لیں گی، یا معاملات میں تاخیری حربے اختیار کریں گے؟ اس وقت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی پالیسی یہی لگتی ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل پر زیادہ سے زیادہ تاخیر اختیار کی جائے اور محسن نقوی کے بیانات پر زیادہ سخت ردِعمل دینے کے بجائے براہِ راست اسٹیبلشمنٹ سے اپنے تعلقات کو بہتر بنایا جائے اور ان کی مدد سے کوئی ایسا درمیانی راستہ نکالا جائے جو دونوں کے مفاد کو پورا کرتا ہو۔ لیکن کچھ خبریں ایسی بھی سامنے آ رہی ہیں جہاں مسلم لیگ (ن) کے لوگ دبے لفظوں میں نئے صوبوں کی حمایت کر رہے ہیں اور ان کو لگتا ہے کہ ایسا کرنا ان کی مجبوری ہے۔ کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو انہیں اسٹیبلشمنٹ کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کے موجودہ نظام کی ناکامی کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ وزیراعظم کے ماتحت کام کرنے والا وزیر ِ داخلہ خود اپنی حکومت کے خلاف چارج شیٹ پیش کر رہا ہے اور اس کے بقول ملک کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔اصل میں تو آئین کے اندر مضبوط بنیادوں پر مقامی حکومتوں کے نظام کا تصور موجود ہے۔ اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد یہی منطق دی گئی تھی کہ وفاق نے اختیارات صوبوں کو منتقل کیے ہیں اور اب صوبے اپنے سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات مقامی حکومتوں کے نظام کو دے کر اسے مضبوط کریں گے۔ لیکن صوبائی حکومتوں کی ناکامی کی وجہ سے نہ تو گورننس کا بحران حل ہو سکا اور نہ ہی مقامی حکومتوں کے نظام کو طاقت دی جا سکی۔ اس وقت بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے ہمارے ہاں مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط کیا جائے اور اس کے بعد نئے صوبوں کی بحث کو طویل مشاورت اور اتفاقِ رائے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ کیونکہ اس وقت ہم جن داخلی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں ان کے درمیان ہم نئی محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس وقت قومی سیاست کو تدبر کی سیاست کی ضرورت ہے اور اس میں سیاسی اور عسکری قیادت کو مل بیٹھ کر ملک کے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے پر اپنا اپنا ایجنڈا مسلط کر کے آگے بڑھا جائے۔ اگر صوبے بنانا واقعی ناگزیر ہے تو اس کے لیے بتدریج آہستہ آہستہ آگے بڑھا جائے اور اس میں کسی قسم کی سیاسی عجلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ نئے صوبوں کے لیے آئین کے پانچ آرٹیکلز میں ترمیم کرنا ہوگی، نیا صوبہ بنانے کے لیے سینیٹ و قومی اسمبلی اور متعلقہ صوبائی اسمبلی دونوں سے آئین میں ترمیم کی منظوری لازمی ہوگی اور دو تہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کرنا ہوگی۔ اس سلسلے میں آئین کے 5 اہم آرٹیکلز (آرٹیکل 1، 51، 59، 106 اور 239) میں ترمیم کرنا ہوگی ۔اس کے علاوہ صوبوں کی تعداد، قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کے ساتھ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کی نئی تقسیم بھی کرنا ہوگی جبکہ نئے صوبے کے قیام کے بعد خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کا ازسرنو تعین کرنا ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button