پاکستانتازہ ترینکالم

سونے کے انڈے

بےلگام/ ستارچوہدری

کارل مارکس کا قول ہے۔۔۔!!
اگر جہالت نہ ہوتی تو پجاری بھوکے مرتے اور ظالم زوال پذیر ہوتے۔
ایک عربی کہاوت ہے ۔۔۔!!
ایک نسل کی جہالت دوسری نسل کی روایت اور پھر تیسری نسل کا عقیدہ بن جاتی ہے۔
ملک ریاض کے ساتھ اصل مسئلہ کیا ہے؟ سب نے ہاتھوں میں پتھر اٹھالئے۔۔۔
جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں
ان کو زباں ملی تو ہمیں پر برس پڑے ۔۔۔۔۔
برطانیہ کی چار ریاستوں میں سے ایک ویلز بھی ہے۔۔۔وہاں کی حکومت نے 2026 کے انتخابات سے قبل ایک ایسا قانون متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت جان بوجھ کر جھوٹ بولنے اور گمراہ کن بیانات دینے پر اراکین پارلیمان کو معطل کیا جاسکتا ہے،ویلز حکومت کے قونصل جنرل مک انٹونیو نے پارلیمنٹ کو بتایا اگر کوئی سیاست دان گمراہ کن بیانات کا مرتکب پایا گیا تو اس قانون کے تحت اس کی ایوان کی رکنیت معطل کردی جائے گی۔۔۔اس قانون پر مختلف سیاسی جماعتوں اور ان کے اراکین پارلیمان میں گوکہ اختلاف تھا تاہم آخری لمحے اس مجوزہ قانون کو پارلیمان کے اگلے الیکشن سے قبل نافذ کرنے پر رضامندی ظاہر کردی، اس قانون کے حق میں 26 اراکین نے ووٹ دیے جب کہ 13 نے مخالفت کی اور 13 دیگر نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔قانون نافذ ہوجانے کی صور ت میں کسی بھی رکن پارلیمان کو اپنے جھوٹے یا گمراہ کن بیانات کو واپس لینے کے لیے 14دنوں کی مہلت دی جائے گی، اگر وہ اس سے انکار کرتا ہے تو عدالت کے ذریعہ اس پر اگلے چار سال تک کے لیے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی جائے گی،یہ طے ہونا ابھی باقی ہے ایسے اراکین کیخلاف جھوٹ بولنے پر فوجداری مقدمہ چلایا جائے گا یا سول پابندی کے تحت کیس درج کیا جائے گا۔ویلز کی مقننہ میں ایک اہم سیاسی جماعت پلیڈ کائمرو کے رہنما ایڈم پرائس نے قانون کی حمایت کرتے ہوئے کہا،بطور سیاستدان ہم جو کچھ کہتے ہیں اس پر عوام کا اعتماد تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے،قونصل جنرل نے قانون سازی کا جو اعلان کیا ہے وہ دراصل ایک تاریخی اعلان ہے اور حقیقتاً دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون ہے،سیاست میں اعتماد کے انہدام سے دنیا بھر کی جمہوریتوں کو حقیقی خطرہ لاحق ہے،جمہوریت اسی دن سے بکھرنا شروع ہو جاتی ہے جب منتخب کرنے والے عوام اپنے منتخب شدہ نمائندوں پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔۔
یہ ہے قوم، یہ ہیں انکے اصول۔۔۔ یہ ہیں وہ لوگ جنہیں ہم’’ کافر‘‘ کہتے ہیں،اور ہمارے مولانا حضرات اورمفتیان صاحب انہیں ایک منٹ میں دوزخ پہنچا دیتے ہیں، اورانہوں نے قانون پاس کردیا ہے،جھوٹ بولنے والا سیاستدان الیکشن نہیں لڑ سکے گا اور ادھر ہمارے ہاں پکے مومن،بغیر ٹکٹ کے سیدھے جنت میں جانے والے حکمران بیچ چوراہے ننگے کھڑے ہیں اور قانون پاس کیا ہے ہمارے ملبوسات کی تعریف کی جائے،محمد شاہ رنگیلے۔۔۔ اربوں روپے کے بجٹ،پی ٹی وی میں94اینکرز،قوم کے پیسوں سےچلنے والےانکے میڈیا ہاؤسز،جہاں چوبیس گھنٹے جھوٹ بولاجارہا۔۔۔ تاریخی فراڈ کرکےبننے والی جعلی حکومت ’’ پیکا ایکٹ‘‘ لائی ہے،فیک نیوز پر تین سال سزا۔۔۔مطلب۔۔۔؟۔۔۔۔ ’’ ہمارے علاوہ کوئی جھوٹ نہ بولے ،یہ اختیار صرف ہمیں حاصل ہے‘‘۔۔۔ فیک نیوز کا فیصلہ وہ کرینگے جو فیک طریقےسے ارکان اسمبلی بنے۔۔۔ان حکمرانوں کا بس ’’ طوطے‘‘ چاہیے۔۔۔ جو یہ کہیں ،وہی بولیں۔۔۔ جہالت۔۔۔۔ کارل مارکس نے ٹھیک کہا تھا، اگر جہالت نہ ہوتی تو پجاری بھوکے مرتے اور ظالم زوال پذیر ہوتے۔۔۔ اور یہ جہالت عقیدہ بن چکی ہے۔۔۔
ملک ریاض کی بات کرلیں،آخر کیا ہوا ان کے ٹکڑوں پر پلنے والے بھی اب انکے خلاف زبان درازی کررہے ہیں،کیوں انہیں اچانک ملک ریاض بدعنوان لگنے لگے ہیں۔۔۔؟۔۔۔۔ دو وجوہات ہیں۔
بابا جی کا تاریخی قول ہے۔۔۔!!
’’ جس دیگ میں ہمارا حصہ نہیں،اس میں سور پکا ہوا ہے ‘‘۔۔۔
’’ جو لڑکی ہمارے ساتھ نہیں پھستی،وہ غلط ہے ‘‘ ۔۔۔۔۔
ایک وجہ تو یہ ہے،جو بابا جی نےبتا دی۔دوسری وجہ سمجھنےکی کوشش کریں۔
ملک ریاض کی تو اب عمران خان کیخلاف گواہی کی ضرورت ہی نہیں رہی،کتنا ڈھٹائی سے جھوٹ بولا جارہا۔۔۔ اوبھئی۔۔۔!! عمران خان کا القادر ٹرسٹ کا ٹرائل مکمل ہوچکا،سزاہوچکی،اب گواہی کی تو ضرورت ہی نہیں،آئین اور قانون کے مطابق دوبارہ ٹرائل تو ہو ہی نہیں ہوسکتا۔۔۔مسئلہ کیا ہے۔۔۔؟؟؟ دراصل ملک ریاض سونے کے انڈے دینی والی مرغی تھی،جس سے ہر شعبے کے لوگ مسفید ہوتے رہے، اب وہ مرغی امارات چلی گئی ہے، انڈوں سے محروم ہونےوالے افراد کو غصہ تو آئے گا،سب سے بڑا مسئلہ،پراپرٹی پر سرمایہ کاری کرنیوالے پاکستانی اب دبئی کا رخ کرینگے،اوورسیز پاکستانی بھی اب پاکستان میں نہیں،دبئی میں سرمایہ کاری کرینگے۔۔۔ اگر بیس،تیس فیصد افراد بھی ادھر چلے گئے تو پاکستان میں پراپرٹی کاروبار ڈوبنے کا خطرہ ہے،ان میں مختلف شہروں میں پھیلے اہم منصوبے بھی ہیں۔۔۔آسان الفاظ میں،اگر کسی کی سونے کے انڈے دینی والی مرغی ہمسائے کے گھر چلی جائے،بنتا تو یہی ہے آپ اسے مار ڈالیں،لیکن آپ اسکی واپسی چاہتے ہیں،شاید آپکو علم نہیں،جہاں مرغی گئی ہے وہ آپ سے زیادہ طاقتور ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button