اسلام آباد:(ویب ڈیسک )پی ایس ایل کے فرنچائز ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے پاکستان کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے قانونی نوٹس اور معافی مانگنے کے مطالبے کے پرخچے اڑا دیے، ملتان سلطانز کے نوجوان مالک نے پی سی بی کے مطالبے پر سرعام ’معافی‘ تو مانگ لی مگر اس سے معاملہ مزید بگڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
علی ترین نے جمعرات کی رات پاکستان سپر لیگ کی انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے ’اوسط درجے کے طرزِ فکر‘ سے ناخوش ہیں۔
پی ایس ایل انتظامیہ نے جمعرات کو علی ترین کی جانب سے بار بار پی سی بی اور پی ایس ایل پر تنقید کے بعد کارروائی کرتے ہوئے انہیں متنبہ کیا تھا کہ اگر وہ عوامی سطح پر معافی نہیں مانگتے تو قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
یہ اقدام بورڈ اور ملتان سلطانز کے درمیان جاری تناؤ میں ایک اہم اضافہ سمجھا جا رہا ہے۔
بعد ازاں، علی ترین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں وہ پی ایس ایل انتظامیہ کی جانب سے موصول ہونے والا مبینہ قانونی نوٹس ہاتھ میں لیے نظر آئے۔
علی ترین نے ویڈیو پیغام کی ابتدا میں پی سی بی کا قانونی نوٹس دکھاتے ہوئے کہا کہ ‘دوستو! ہماری پسندیدہ پی ایس ایل کی انتظامیہ نے مجھے قانونی نوٹس بھیجا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ میں نے پی ایس ایل انتظامیہ کے خلاف جو باتیں کی ہیں وہ واپس نہ لیں اور سرعام معافی نہیں مانگی تو وہ ملتان سلطانز کا فرنچائز ایگریمنٹ منسوخ کردیں گے اور مجھے ہمیشہ کے لیے بلیک لسٹ کردیں گے تاکہ میں کبھی کوئی ٹیم نہ لے سکوں‘۔
علی ترین نے مزید کہا کہ ’یہی تو مسئلہ ہے کہ آپ اپنے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتے، آپ بس یہ چاہتے ہیں کہ ہم سب چپ کرکے بیٹھیں اور آپ کی لائن ٹو کریں، آپ لوگوں کی ہاں میں ہاں ملانے والے بونوں کی اتنی عادت ہوچکی ہے کہ آپ تھوڑی سی بھی تنقید برداشت نہیں کر سکتے‘۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ انہیں پی سی بی کی طرف سے آج تک ایک کال، ایک میسیج، ایک ای میل اور ایک دعوت نامہ موصول نہیں ہوا کہ جس میں ان سے مسائل دریافت کیے گئے ہوں اور مل بیٹھ کر انہیں حل کرنے کی بات کی گئی ہو، اس کے برعکس انہیں سیدھا قانونی نوٹس بھیج دیا گیا۔
علی ترین نے کہا کہ ’اگر آپ لوگوں میں تھوڑی سی بھی صلاحیت ہوتی تو آپ کو پتا ہوتا کہ مسئلے ایسے حل نہیں ہوتے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ اس طرح کی دھمکیوں سے میں چپ ہوجاؤں گا تو یہ آپ لوگوں کی غلط فہمی ہے، کیونکہ میں اس لیگ سے محبت کرتا ہوں اور آپ لوگوں سے کہیں زیادہ اس سے محبت کرتا ہوں، کیونکہ یہ لیگ ہماری ہے، فینز کی ہے، پورے پاکستان کی ہے، جو آپ ڈھائی لوگ اسے چلارہے ہیں، آپ کی نہیں ہے‘۔
انہوں نے پیشکش کی کہ ’اگر آپ اصل میں چاہتے ہیں کہ ہم ان مسائل پر کام کریں، آپ مجھے بلائیں، دو، تین بسکٹ کے ساتھ ایک کپ چائے پلا دیں، اکٹھے بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں، فیصلہ کریں کہ آج کے بعد اس لیگ پر سرعام کوئی تنقید نہیں ہوگی، اکٹھے مل کر ہم اس لیگ کو ٹاپ لیگ بناتے ہیں‘۔
علی ترین نے کہا کہ ’آپ نے کیونکہ سرعام معافی کا مطالبہ کیا ہے، حالانکہ میری قانونی ٹیم کہہ رہی ہے کہ معافی کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہم نے کوئی غلط بات ہی نہیں کی، لیکن دیکھیں جو بڑا بندہ ہوتا ہے، وہی معافی مانگتا ہے، تو میں معافی مانگتا ہوں کہ میں چاہتا ہوں کہ پی ایس ایل بہتر ہو، میں معافی مانگتا ہوں کہ میں نے مسائل دیکھ کر آواز اٹھائی، میری غلط ہے کہ میں آپ کی اوسط درجے کی ذہنیت سے ناخوش ہوں، یہ میری غلطی ہے آپ کی نہیں ہے‘۔
علی ترین نے طنزیہ انداز میں مزید کہا کہ ’میں معافی مانگتاہوں کہ میں ناخوش ہوں کہ آپ لوگ ایک دوسرے کی اتنا کم کام کرنے پر بھی اتنی ستائش کرتے ہیں، آپ کی مرضی ہے آپ جتنی ستائش کریں، میں اپنی اس خواہش پر بھی معافی مانگتا ہوں کہ پی ایس ایل انتظامیہ میں قابل اور اہل لوگ آئیں، مجھے پتا ہے کہ یہ بہت بڑی بات ہے، تو یہ تو ناممکن ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ وہ پی ایس ایل کی کمال افتتاحی تقریب کو تنقید کا نشانہ بنانے پر بھی معافی مانگتے ہیں جس میں قومی ستاروں کو اسٹیڈیم میں لاکر ان سے کمال لپ سنگنگ کروائی گئی، براہ راست موسیقی کون سنتا ہے؟
ملتان سلطانز کے مالک نے مزید کہا کہ ’میری جرات کہ میں نے ڈرافٹ پر تنقید کی، کیونکہ میں چاہتا تھا کہ تقریب وقت پر شروع ہو اور وقت پر ختم ہو اور مائیکس کام کریں، یہ میں نے بہت بڑی فرمائش کردی مجھے یہ نہیں کرنی چاہیے تھے‘۔
علی ترین نے زوم میٹنگ میں 10 منٹ تاخیر سے شرکت پر بھی معافی مانگی، انہوں کہا کہ ’آپ کو اس سے اتنی تکلیف پہنچی کہ آپ نے اپنے قانونی نوٹس میں بھی اس کا ذکر کیا ہے، یہ واقعی ناقابل معافی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ وہ یہ کہنے پر بھی اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں کہ حالیہ پی ایس ایل سب سے بڑا نہیں تھا، ’میں بالکل غلط تھا، آپ لوگوں نے دیکھا کہ اسٹیڈیمز کے باہر لائن لگی ہوئی تھی، ہر اسٹیڈیم بھرا ہوا تھا، خاص طور پر کراچی، آپ لوگوں نے کیا شاندار طریقے سے ٹورنامنٹ منعقد کیا اور لاجسٹکس تو اتنے زبردست تھے کہ آدھی ٹیم اور کھلاڑی ایک ہوٹل میں، سپورٹ اسٹاف، اینالسٹس اور کوچز دوسرے ہوٹل میں، یہ تو مینجمنٹ کا بہترین طریقہ ہے، ہر کسی کو یہی کرنا چاہیے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹریننگ کا شیڈول اور اس کی سہولتیں بھی کمال تھیں کہ صرف 6 ٹیموں نے ان کی شکایت کی، لیکن 6 زیادہ تھوڑی ہوتا ہے۔
علی ترین نے کہا کہ ’ٹی وی پر لوگ کم دیکھ رہے ہیں؟ ارے تو ٹی وی پر دیکھتا کون ہے؟ آپ بالکل صحیح کہہ رہے تھے یہ واقعی سب سے بڑی لیگ تھی‘، انہوں نے ٹرافی کی رونمائی کے عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ویڈیو کے اختتام پر انہوں نے پی ایس ایل انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’تو میں آپ سے معافی مانگتا ہوں کہ میں نے آپ لوگوں سے اتنی غلط مطالبات کیے اور غلط چیزوں پر تنقید کی‘، انہوں نے پی سی بی کا قانونی نوٹس پھاڑتے ہوئے کہا کہ ’امید ہے آپ لوگوں کو یہ معافی پسند آئے گی‘۔



