
وقت اقوام کا ایک سخت گیر استاد ہے۔ یہ اتحادوں کی ہیئت بدل دیتا ہے، قومی ترجیحات کو نئی سمت عطا کرتا ہے اور بار بار یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ جغرافیہ اسی وقت تقدیر بنتا ہے جب سیاسی بصیرت اسے بروئے کار لانے کا ہنر جانتی ہو۔ ممالک نظریات، وسائل اور عزائم میں ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں، مگر تاریخ انہیں بارہا ایک ہی نتیجے تک پہنچاتی ہے کہ ایک غیر یقینی دنیا میں سلامتی اور خوش حالی تنہائی میں حاصل نہیں کی جا سکتیں۔
آج سے باسٹھ برس قبل پاکستان، ایران اور ترکی کو بھی اسی نوعیت کے ایک سوال کا سامنا تھا۔ جولائی 1964ء میں مرکزی معاہدہ تنظیم ( سینٹو) کے تین علاقائی ارکان نے استنبول معاہدے کے ذریعے علاقائی تعاون برائے ترقی، یعنی آر سی ڈی قائم کیا۔ سینٹو کے برعکس آر سی ڈی کا تصور کسی فوجی اتحاد کی صورت میں نہیں کیا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد اقتصادی، فنی اور سماجی و معاشی تعاون کا فروغ تھا۔ اس کے ذریعے جغرافیائی قربت کو تجارتی مواقع میں اور سیاسی مفاہمت کو عملی ترقی میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی۔ تینوں ممالک نے صنعت، تجارت، مواصلات اور ثقافت کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھایا، جبکہ سفری سہولتوں اور ڈاک کے تبادلے کو بھی فروغ دیا گیا۔ پاکستان میں اس تعاون کی ایک دیرپا عملی یادگار آر سی ڈی ہائی وے تھی، جسے آج این۔25 کہا جاتا ہے اور جو سندھ اور بلوچستان کو ملانے والی ایک اہم شاہراہ کے طور پر اب بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
لیکن آر سی ڈی خواہش اور کامیابی کے درمیان موجود فاصلے کی ایک تاریخی مثال بھی بن گئی۔ مالی مشکلات، تحفظ پسندانہ پالیسیاں، انتظامی کمزوریاں اور قومی ترجیحات میں اختلافات نے اس کے عملی سفر کو سست کر دیا۔ یہ تنظیم وہ مضبوط ادارہ جاتی گہرائی پیدا نہ کر سکی جو حقیقی معاشی انضمام کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ ایران میں سیاسی ہلچل نے 1979ء میں اس کے رسمی اختتام کی راہ ہموار کی۔ تاہم اس کا تصور زندہ رہا۔ 1985ء میں پاکستان، ایران اور ترکی نے اسی سوچ کو اقتصادی تعاون تنظیم ( ای سی او) کے ذریعے نئی زندگی دی، جس میں بعد ازاں وسطی ایشیائی ریاستوں اور افغانستان کو بھی شامل کیا گیا۔ آر سی ڈی کی تاریخ کا ایک دلچسپ تضاد یہی ہے کہ اس کا ادارہ جاتی سفر اگرچہ محدود رہا، لیکن اس کا تزویراتی تصور اپنے زمانے سے کہیں آگے تھا۔
آج خطہ ایک مرتبہ پھر مشترکہ مفادات کو اجتماعی قوت میں ڈھالنے کی ایک نئی کوشش کا مشاہدہ کر رہا ہے، لیکن اس بار اس کوشش کا محور بنیادی طور پر سلامتی ہے۔ 7اگست 2026ء کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ غیر معمولی علاقائی بے یقینی کے ماحول میں مکہ مکرمہ میں طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد اجتماعیروک تھام اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ تینوں حکومتوں نے واضح کیا ہے کہ یہ انتظام دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔
یہ معاہدہ کسی خلا میں وجود میں نہیں آیا۔ پاکستان اور سعودی عرب ستمبر 2025ء میں پہلے ہی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ کر چکے تھے۔ چنانچہ مکہ معاہدہ ایک موجودہ دفاعی رشتے کو مزید وسیع اور مستحکم کرتا ہے۔ ترکیہ خطے کی ایک موثر مسلح قوت اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت کا حامل ہے۔ سعودی عرب اپنی معاشی قوت، تزویراتی جغرافیے اور دفاعی پیداوار کو مقامی بنانے کے پُرعزم پروگرام کے باعث ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کئی دہائیوں پر محیط عسکری تجربے، دفاعی صنعتی صلاحیت اور مسلم دنیا کی واحد مسلمہ جوہری روک تھام ( ڈیٹرنس) صلاحیت کا حامل ہے۔ یوں تینوں ممالک مل کر عسکری استعداد، معاشی قوت اور تکنیکی صلاحیت کا ایک منفرد امتزاج پیش کرتے ہیں۔
اگر اس تعاون کو دانش مندی کے ساتھ ادارہ جاتی شکل دی جائے تو یہ محض علامتی اظہار سے کہیں آگے بڑھ سکتا ہے۔ مشترکہ فوجی مشقیں، انٹیلی جنس کا تبادلہ، انسدادِ دہشت گردی، بحری سلامتی، سائبر دفاع، دفاعی پیداوار اور تکنیکی تحقیق و ترقی بتدریج ایک فعال علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کو جنم دے سکتی ہیں۔ یہی امتیاز بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ آر سی ڈی کی تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جب ادارے کمزور ہوں تو معاہدے بھی وقت کی گرد میں گم ہو جاتے ہیں۔ مکہ معاہدہ بھی اسی کسوٹی پر پرکھا جائے گا؛ اس کا مستقبل اس کے اعلان کی شان و شوکت سے نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد کی سنجیدگی سے متعین ہوگا۔
پاکستان کے لیے اس انتظام کی اہمیت کچھ زیادہ ہے۔ اسلام آباد کو دو ایسے ممالک کے ساتھ ایک مضبوط علاقائی سلامتی کا شراکت دار میسر آتا ہے جو سفارتی(باقی صفحہ5پر ملاحظہ فرمائیں)
، معاشی اور عسکری اعتبار سے غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کا ایک اہم معاشی شراکت دار ہے، جبکہ ترکیہ ایک قابلِ اعتماد دفاعی اور تکنیکی شریک کے طور پر ابھرا ہے۔ دونوں کے ساتھ تعلقات کا یہ امتزاج ایک ایسے بین الاقوامی نظام میں پاکستان کو زیادہ تزویراتی گہرائی فراہم کرتا ہے جو مسلسل انتشار اور تقسیم کا شکار ہے۔
تاہم پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اعتماد کے ساتھ ساتھ تدبر کا دامن بھی تھامے رکھنا ہوگا۔ کوئی دفاعی معاہدہ معاشی قوت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ پائیدار قومی طاقت کی بنیاد معاشی استحکام، تکنیکی ترقی، سیاسی استحکام اور مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت پر قائم ہوتی ہے۔ اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس تعلق کو محض دفاعی تعاون تک محدود نہ رکھے بلکہ اسے صنعتی شراکت داری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، سرمایہ کاری، توانائی کے تعاون اور باہمی تجارت کے فروغ میں تبدیل کرے۔
اس کے ساتھ ایک اور خطرہ بھی موجود ہے: کہیں بیرونی قوتیں اس معاہدے کی تعبیر اپنے مفادات کے مطابق نہ کرنے لگیں۔ بعض حلقے اسے ایران کے خلاف کسی فرقہ وارانہ اتحاد کے طور پر دیکھتے ہیں، کچھ اسے مغرب مخالف بندوبست قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض اس میں پوشیدہ جوہری پہلو تلاش کر رہے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل بھی اس سہ فریقی مفاہمت سے خاصے فکرمند دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم ایسے نتائج اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ معاہدے کے فریقین فرقہ وارانہ یا جوہری اتحاد کے تاثر کو مسترد کر چکے ہیں اور اسے دفاعی نوعیت کا قرار دے چکے ہیں۔ یہ مغرب سے لاتعلقی کا اعلان بھی نہیں۔ تینوں ممالک کے مغربی دنیا کے ساتھ اہم تعلقات بدستور موجود ہیں۔ زیادہ درست تعبیر شاید تزویراتی تنوع ہے، یعنی علاقائی طاقتیں اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے کسی ایک بیرونی ضامن پر انحصار کے بجائے اپنی داخلی اور باہمی صلاحیت کو مضبوط بنانا چاہتی ہیں۔
آر سی ڈی کے دور سے آج تک کی سب سے اہم تبدیلی شایدیہی ہے۔ 1964ء میں علاقائی تعاون کی زبان ترقی کی زبان تھی، سڑکیں، تجارت، صنعت اور ثقافت۔ 2026ء میں اس لغت کے الفاظ بدل چکے ہیں : روک تھام ( ڈیٹرنس) ، بحری سلامتی، دہشت گردی، تکنیکی جنگ، توانائی کا تحفظ اور تزویراتی خود مختاری۔ مگر اس بدلتی ہوئی زبان کے نیچے ایک ہی بنیادی خیال اپنی جگہ موجود ہے: علاقائی ممالک مشترکہ مفادات کو مشترکہ قوت میں تبدیل کریں۔
اگر موجودہ انتظامات مستقل ادارہ جاتی نظام، مشترکہ صلاحیتوں اور مسلسل سیاسی عزم میں ڈھل گئے تو مکہ معاہدہ ایک زیادہ خودمختار علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے محض دستخط کافی نہیں ہوں گے؛ معاہدے کو زندہ رکھنے کے لیے ادارے، وسائل، باقاعدگی اور سیاسی ارادے درکار ہوں گے۔
پاکستان کو اس لمحے سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، مگر وسیع تر علاقائی ذمہ داریوں کو نگاہ سے اوجھل کیے بغیر۔ سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے۔ تاریخ عین اسی صورت میں خود کو دہراتی نہیں؛ وہ اپنی بازگشت ضرور سناتی ہے۔ آر سی ڈی نے علاقائی ترقی کا خواب دیکھا تھا۔ مکہ معاہدہ علاقائی سلامتی کی ضرورت سے جنم لیتا ہے۔ ایک نے سرحدوں کے آرپار سڑکیں تعمیر کرنے کی کوشش کی تھی، دوسرا سرحدوں کے آرپار دفاعی حصار قائم کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ ایک سیاسی عزم اور ادارہ جاتی صلاحیت کی کمزوری کے باعث اپنے امکانات کو مکمل نہ کر سکا؛ دوسرے کو بھی اسی امتحان سے گزرنا ہوگا۔
مکہ مکرمہ میں ہونے والے یہ دستخط کسی کہانی کا اختتام نہیں، بلکہ اس کے پہلے جملے ہیں۔ یہ جملہ ایک اور مختصر المدت انتظام ثابت ہوگا یا ایک پائیدار علاقائی نظم کی بنیاد بنے گا، اس کا فیصلہ اس امر سے ہوگا کہ تقریب کے اختتام کے بعد یہ تینوں ممالک کیا کرتے ہیں، جب تاریخ ان سے نتائج کا تقاضا شروع کرے گی۔
اقوام کے لیے بھی، انسانوں کی طرح، کسی وعدے کی اصل قدر اس لمحے میں نہیں ہوتی جب وہ زبان پر آتا یا کاغذ پر ثبت ہوتا ہے، اس کی حقیقی قدر ان برسوں میں ظاہر ہوتی ہے جن میں اسے نبھایا جاتا ہے۔ وعدہ دستخط سے نہیں، وفا سے تاریخ بنتا ہے۔



