انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

آئی پی پیز سے نجات ناگزیر

تحریر:محمد قیصر چوہان

 

حکومت نے گزشتہ پانچ سال میں آئی پی پیز کو 13 ہزار 397 ارب روپے کی ادائیگیاں کی ہیں، آئی پی پیز معاہدے ختم اور ان معاہدوں کا فرانزک آڈٹ کرائے،حکمرانوں کی ناقص اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقہ سخت مالی مشکلات کا شکار ہے۔ ایک طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے مہنگائی کا طوفان برپا کر رکھا ہے، تو دوسری جانب یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی عوام کے لیے سوہانِ روح بن چکی ہے۔ پورے ملک میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ شدید اذیت کا باعث ہے، مگر اس کے باوجود بجلی کے بھاری بلوں اور اوور بلنگ کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

بجلی کمپنیوں کا اضافی یونٹ بلز میں شامل کرنا، بجلی چوری کا تدارک نہ کرنا، سرکاری افسروں اور ملازمین کومفت بجلی کے کروڑوں یونٹ کی تقسیم اور بد عنوانی کی شکایات پر حکومت اور بجلی کمپنیوں کی بے حسی شہریوں میں غصے کی شدت بڑھانے کا باعث بن رہی ہے۔کوئی بھی حکومت اس حوالے سے قابل عمل پالیسی متعارف کرانے میں ناکام رہی اور اپنی ناکامیوں اور ساری خرابیوں کا ملبہ عالمی مالیاتی ادارے پر گرا کر پاکستانی عوام کو گمراہ کرتی رہیں۔ بجلی کا بل محض بجلی کی قیمت نہیں ہے۔

بل میں 48 فیصد رقم مختلف قسم کے ٹیکس کی مد میں ہے۔ سلیب سسٹم کے نام پر ایک پیچیدہ نظام مسلط کیا گیا ہے۔صارفین اس سٹسم سے آگاہ نہیں ہیں، میٹر ریڈر کی ریڈنگ پر کوئی چیک نہیں۔ قانون پسند صارفین مہنگی بجلی سے پریشان ہیں ، بجلی چوری کرنے والوں اور سرکاری مراعات کے تحت مفت بجلی استعمال کرنے والوں کا بل بھی قانون پسند صارفین پر ڈالنا سراسر زیادتی ہے ،اشرافیہ کو بجلی کے 37کروڑ یونٹ سالانہ مفت فراہمی غریب عوام کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔ ایک محتاط اندازہ ہے کہ بجلی کے بلوں میں اصل قیمت کا 48 فیصد ٹیکسوں کی مد میں وصول کیا جاتا ہے اور کم و بیش 900 ارب کی بجلی چوری ہوتی یا پھر مراعات یافتہ طبقے کو مفت میں ملتی ہے، یہ پالیسی کہ ہر مراعات یافتہ طبقات کا بوجھ قانون پسند شہریوں پر لاد دو، کب تک چل سکتی ہے۔

حکومت نے گزشتہ پانچ سال میں آئی پی پیز کو 13 ہزار 397 ارب روپے کی ادائیگیاں کی ہیں، جن میں سے 7 ہزار 275 ارب روپے نجی بجلی گھروں کو بجلی کی پیداوار کی مد میں دیے گئے، تاہم صارفین سے وصول کی گئی بھاری رقم کا ایک حصہ ایسے آئی پی پیز کو بھی ادا کیا گیا جنہوں نے بجلی پیدا ہی نہیں کی۔ بجلی کی پیداواری لاگت میں مسلسل کمی کے باوجود ان کپیسٹی پیمنٹس میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جو بالآخر عوام پر بھاری بلوں کی صورت میں مسلط کیا جا رہا ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق بجلی کے فی یونٹ وصول کی جانے والی رقم کا تقریباً 70 فی صد حصہ آئی پی پیزکو ادا کیا جاتا ہے، یہی بوجھ صارفین کے مہنگے بجلی بلوں کی بنیادی وجہ بن چکا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ حکومت آئی پی پیز سے چھبیس ہزار میگاواٹ کے مزید معاہدے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مذکورہ صورتحال کا المناک پہلو یہ ہے کہ ایک طرف غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں ستائے عوام مہنگی بجلی کے بوجھ تلے دبے ہیں تو دوسری جانب اربوں روپے ایسے بجلی گھروں کو ادا کیے رہے ہیں جو بجلی پیدا ہی نہیں کرتے جبکہ مالی سال دوہزار بائیس سے دوہزار چھبیس تک بجلی کی خریداری پر اخراجات میں کمی آئی مگر اس کے برعکس کپیسٹی پیمنٹ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔

گزشتہ پانچ سال کے دوران سو سے زائد آئی پی پیز کو تیرہ ہزار تین سو ستانویں ارب روپے ادا کیا گیا ہے ان ادائیگیوں میں صرف چھے ہزار ایک سو اکیس ارب روپے بجلی کی اصل قیمت تھی جبکہ باقی سات ہزار دو سو پچھتر ارب روپے سے زائد رقم آئی پی پیز کو کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کی گئی یعنی سات ہزار ارب سے زائد رقم سارفین سے وصول کر کے اس بجلی کے لیے دی گئی جو پیدا ہی نہیں کی گئی تھی۔

گزشتہ دنوں سینیٹ کی خزانہ کمیٹی کے اجلاس میں میں نیپرا کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جہاں ایف بی آر کے رکن نے بتایا کہ ہم نے آئی پی پیز کو ٹیکس ہالی ڈے دے رکھا ہے آئی پی پیز انکم ٹیکس بھی ادا نہیں کرتی جس مانیٹرنگ کمیٹی کے ذمے داری ہے کہ ان پلانٹس کو وزٹ کرنا انہوں نے کبھی جا کر انہیں وزٹ ہی نہیں کیا کہ پلانٹس پر بجلی بن بھی رہی ہے یا نہیں۔

اجلاس میں چیئرمین نیپرا اور ارکان کی تنخواہوں میں از خود اضافے کے معاملے پر بھی بحث ہوئی نیپرا حکام نے بتایا کہ چیئرمین نیپرا کی الاﺅنسز سمیت تنخواہ 32 لاکھ روپے ہے سابق قانون کے مطابق یہ تنخواہ و مراعات 11 لاکھ روپے تھے سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے از خود اضافے کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنخواہوں میں اضافے کی منصوری کابینہ سے لینی چاہیے تھی کیوں یہ معاملہ اب بحث ٹیکنیکی یا پالیسی کی بحث نہیں رہا بلکہ ایک مکمل گورننس فیلیئر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر حکومت کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ وہ ان معاہدوں پر نظر ثانی نہیں کرتی؟ نہ ہی حکومت اس حوالے سے کسی چیک اینڈ بیلنس کا نظام وضع کرنے پر آمادہ ہے۔ جب تک حکومت آئی پی پیز کے معاہدوں کی قیدی بنی رہے گی عوام مہنگے داموں بجلی خریدنے پر مجبور ہوں گے۔ اس صورتحال کے ازالے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت فی الفور آئی پی پیز معاہدے ختم کرے، اور ان معاہدوں کا فرانزک آڈٹ کرائے۔

حقائق کچھ یوں ہیں کہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں ڈیمز اور نیوکلیئر ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے ساتھ پاور پلانٹ لگا کر فرنس آئل سے بجلی بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور نجی کمپنیوں کو پاور پلانٹس لگانے کی اجازت دے کر ان سے حکومت نے بجلی خریدنے کے ایسے معاہدے کیے جن کا فی یونٹ ریٹ دیگر ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی سے تین گ±نا زیادہ رکھا گیا۔ مزید ستم یہ کہ تمام معاہدے ڈالر میں کیے گئے جس کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ اول تو سرمایہ کار غیر ملکی ہیں جو بجلی بنانے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے آرہے ہیں۔

دوم، جس فیول سے بجلی بنائی جانی ہے وہ بھی درآمد کرنا ہوگا اِس طرح فیول درآمد کرنے اور منافع کی ادائیگی ڈالر میں کرنے کا سلسلہ شروع ہوا یہ ایسی واردات تھی جس کی ابتدا میں تو کسی کو سمجھ ہی نہ آئی اِکا دکا مخالفانہ آوازیں جو سنائی بھی دیں انھیں بھی حیلے بہانوں سے خاموش کرا دیا گیا۔

نجی پاور پلانٹس کے معاہدے میں یہ لکھا گیا کہ پاور پلانٹ کی بجلی پیدا کرنے کی جو بھی صلاحیت معاہدے میں لکھی جائے گی اسی کے مطابق حکومت ان پلانٹس کو بجلی کی قیمت ادا کرنے کی پابند ہوگی، اور یہ پاور پلانٹ کبھی بھی معاہدے میں لکھی ہوئی بجلی پیدا کرنے کی اصل صلاحیت کے مطابق نہیں چلے، لیکن بجلی کی قیمت پوری کی پوری وصول کررہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بجلی کے گردشی قرضے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔

مزیدستم ظریفی یہ ہوئی کہ پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہونے کے بعد جب ن لیگ اقتدار میں آئی تو ا±س نے بھی اِن نجی کمپنیوں کو چیرہ دستیوں سے نہ روکا بلکہ ہر حوالے سے سرپرستی شروع کردی۔ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ نجی کمپنیاں سالانہ ایک ہزار ارب سے زائد منافع کما رہی ہیں نیز کوئی پاور پلانٹ بجلی پیدا کرے یا نہ کرے بلکہ اگرکوئی پلانٹ بند بھی رہے تو بھی بجلی پیدا کرنے کی اس کی استطاعت کے مطابق حکومت اسے ادا کرنے کی پابند ہے۔

یہی پاور سیکٹر میں گردشی قرضے کی وجہ ہے کیونکہ ملک میں اکثر کارخانے بند ہونے سے ہمارے پاس برآمدی سامان کی کمی ہونے سے ضرورت کے مطابق ڈالرنہیں آرہے لیکن نجی پاور کمپنیوں کو ہر صورت ادائیگی ڈالر میں کرنا ہوتی ہے جس کا نتیجہ ہے کہ ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے لیکن کوئی بھی اِس کا نتیجہ خیز حل تلاش کرنے پر آمادہ نہیں سب اپنے معمولی مالی فائدے کے لیے پوری قوم کو اندھیروں کے حوالے اور دیوالیہ کے قریب پہنچا گئے۔

جس طرح بجلی کی پیدا وار کو نجی شعبے میں دیا گیا اسی طرح بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو بھی آہستہ آہستہ کر کے نجکاری کی بھینٹ چڑھانے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ درحقیقت ہماری تمام حکومتیں بجلی کے مہنگے معاہدوں میں تخفیف نہیں کرا سکیں بلکہ عوام کی جیبیں خالی کرانے کے منصوبوں میں سہولت کارکا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

ملک میں مہنگی بجلی کے منصوبوں سے جان چھڑانے کے بے شمار مواقعے ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر عوامی ردِ عمل کی شدت کم کی جا سکتی ہے لیکن اِس کے لیے ضروری ہے کہ آئی پی پیز سے ملنے والے مالی مفادات کو چھوڑ کر فیصلے کیے جائیں۔تمام سیاسی پارٹیوں اور میڈیا پر بیٹھے دانشور جب بجلی کے موضوع پر بات کرتے ہیں تو وہ صرف اور صرف گردشی قرضوں کے بڑھ جانے کا ذکرکرتے ہیں اور ان کو جلد از جلد اتارنے کی بات کرتے ہیں کیونکہ آئی ایم ایف نے یہ احکامات جاری کیے ہیں کہ بجلی کی قیمت بڑھائی جائے تاکہ گردشی قرضوں کی ادائیگی میں تعطل نہ ہو اور ادائیگی مسلسل ہوتی رہے۔

ان دانشوروں میں سے کوئی بھی اس مسئلے کی جڑ یعنی سرمایہ داروں کی منافع خوری اور عالمی مالیاتی اداروں کی عوام و مزدور دشمن پالیسیوں پر بات کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ بجلی کے بحران کو حقیقی معنوں میں سمجھنے کے لیے لازمی ہے کہ مسئلے کو جڑ سے پکڑا جائے۔
حکومت آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کا از سر نو جائزہ لیکر انھیں عوامی مفاد کے مطابق بنائے، اس حوالے سے جتنی تاخیر کی جائے گی وہ عوامی نفرت کی شدت میں اضافے کا سبب بنے گی جس سے ملک مزید سیاسی عدمِ استحکام کا شکار ہوتا جائے گا۔

ایک سے زائد بار حکومت کی توجہ ماہرین اس جانب مبذول کرا چکے ہیں کہ درآمد کیے جانے والے فرنس آئل سے بجلی بنانے کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے دیگر ذرائع ڈیمز، نیوکلیئر اور ونڈ انرجی پر انحصار بڑھایا جائے لیکن ہر حکومت میں نجی کمپنیوں سے مالی مفاد لینے والے ا±ن کے نمائندے ایسے کسی فیصلے کی نوبت نہیں آنے دیتے بلکہ نجی کمپنیوں کے مفادات کی نگہبانی کرتے ہیں اب جب کہ حکومت کو بظاہر کسی دباو¿ کا سامنا نہیں اسے عوامی مفاد کے لیے اقدامات میں سستی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔

خوشی قسمتی سے پاکستان میں سارا سال سورج چمکتا ہے جس کی وجہ سے غیر معمولی سولر انرجی کے مواقعے ہیں جن سے فائدہ نہ اٹھانا کفران نعمت ہے آٹھ سو کلومیٹرکی طویل ساحلی پٹی ونڈ انرجی کے لیے بہترین ہے جس سے ضرورت کے مطابق بجلی انتہائی سستے داموں مل سکتی ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ درآمدی فرنس آئل اورکوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبے ختم کیے جائیں،ٹرانسمشن لائن لاسز، چوری اور مفت بجلی کی سہولت ختم کرنا بھی بحران کے حل میں مددگار ہو سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button