آصف علی زرداری، سیاست ، توڑ جوڑ ، مفاہمت ، مزاحمت !
محمد نصیر الحق ہاشمی

مصائب و آلام کا مردانہ وار مقابلہ کیا تو ”مردِ حر“، صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا تو ”ایک زرداری سب پر بھاری“ کا نعرہ مقبولِ عام ہوا
سیاست کی دنیا بھی بڑی عجیب ہے، یہاں صرف وہی کامیاب ہے جو اس کے نشیب و فراز سے بخوبی واقف ہے۔ دنیا میں بہت کم شخصیات ہیں جو اس شعبے کی ماہر مانی جاتی ہیں، انہیں میں ایک نام صدر مملکت آصف علی زرداری کا بھی ہے۔ آصف علی زرداری سیاست کی دنیا کے وہ بے تاج بادشاہ ہیں جن کے فولادی اعصاب اور گہرے تدبر کا ہم عصر تاریخ میں کوئی ثانی نہیں۔
وہ بدترین سیاسی طوفانوں میں بھی چٹان کی طرح پرسکون رہنے کے ماہر ہیں، وہ اپنی اسی پراسرار خاموشی کے باعث مخالفین کے اعصاب پر ایسا سحر طاری کرتے ہیں کہ ان کے سامنے بڑے بڑے سیاستدانوں کے فیصلے مفلوج ہو کر رہ جاتے ہیں۔ وہ وقتی فائدے پر طویل مدتی وژن کو ترجیح دیتے ہیں، وہ وقت کی نبض کو کنٹرول کر کے ہاری ہوئی بازی کو بھی تاریخی فتح میں بدلنے میں مہارتِ تامہ رکھتے ہیں۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری صاحب کی شخصیت کا سب سے منفرد پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے سخت ترین مخالف کو بھی اپنی بصیرت اور مہارت سے اپنا گرویدہ بنانے کے ماہر ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جب سب راستے بند ہو جاتے ہیں، تو ایسے میں وہ اقتدار اور کامیابی کی نئی راہ نکالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ‘ایک زرداری سب پر بھاری’ کا نعرہ مقبولِ عام ہوا۔
سونا جس طرح آگ کی بھٹی میں تپ کر کندن بنتا ہے، بالکل اسی طرح آصف علی زرداری نے بھی سیاست کے تپتے صحرا اور قید و بند کے خاردار راستوں سے گزر کر اپنی سیاسی قابلیت کو منوایا۔ انہیں پاکستانی سیاست میں "مردِ حر” کا خطاب دیا گیا۔ ان کی بصیرت و مفاہمانہ صلاحیتوں کی بدولت "ایک زرداری سب پر بھاری” کا نعرہ زبان زدِ عام ہوا۔
ان کی شخصیت اور سیاسی فیصلوں سے اختلاف ممکن ہے، کیونکہ انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہے، لیکن ملکی سیاست میں ان کی شخصیت کے انمٹ نقوش سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
سیاست کی دنیا میں آصف علی زرداری کی بےمثال خدمات کا روشن ترین پہلو ان کا نظریہِ مفاہمت ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ملک جب شدید بحران اور انتشار کا شکار تھا، تو انہوں نے "پاکستان کھپے” کا نعرہ لگا کر نہ صرف ملک کو انتشار اور انارکی سے بچایا بلکہ عوام کو بھی یہ درس دیا کہ حالات چاہے کتنے ہی دگرگوں کیوں نہ ہوں اپنے حواس کو ہرصورت قابو میں رکھیں۔عین اس وقت جب وفاق بری طرح لرز رہا تھا ، انہوں نے اپنی خداداد بصیرت و حکمت عملی سے کام لے کر وفاق کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ، تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی بنیاد رکھی۔ یہ ان کا ایک ایسا کارنامہ ہے جس پر اگر پی ایچ ڈی کی بیسیوں ڈگریاں بھی حاصل کر لی جائیں تو بھی سیاست کی اس معراج پر پہنچنا ممکن نہیں۔
بحیثیت صدرِ مملکت ان کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے انہوں نے صدر کے وسیع اختیارات، بشمول پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا قانون، رضا کارانہ طور پر پارلیمنٹ کو منتقل کر دیے۔ اس اقدام نے ملک میں جمہوریت کو استحکام بخشا اور صوبائی خودمختاری کے دیرینہ خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔
ان کے دورِ حکومت میں صوبہ سرحد کو "خیبر پختونخوا” کا نام دے کر وہاں کے عوام کی شناخت کو تسلیم کیا گیا۔ بلوچستان کے عوام کے مادی و سیاسی زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے "آغازِ حقوقِ بلوچستان” پیکیج کا آغاز کیا گیا۔ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے عظیم الشان منصوبے کی بنیاد ان کے دورِ صدارت میں ہی رکھی گئی، جس نے پاکستان کے لیے ترقی کے نئے افق کھولے۔
اس کے علاوہ، پاکستان پیپلز پارٹی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے آصف علی زرداری نے غریب اور پسے ہوئے طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے "بینظیر انکم سپورٹ پروگرام” (BISP) شروع کیا، جو آج بھی ملک میں سماجی تحفظ کا سب سے بڑا اور موثر ترین پروگرام ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک بڑی خوبی یہ رہی کہ اس نے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کے بعد اپنے کارکنوں اور ورکرز کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ آصف علی زرداری نے اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے عام ورکروں کو عزت و منصب عطا کیے۔ انہوں نے سیاسی انتقام کے بجائے سیاسی رواداری کو فروغ دیا اور اپنے بدترین مخالفین کو بھی بات چیت کی میز پر لا بٹھایا۔ ان کی یہی مفاہمانہ سیاست انہیں پاکستان کے معاصر سیاسی منظر نامے میں سب سے ممتاز اور بااثر رہنما بناتی ہے۔
آصف علی زرداری 26 جولائی 1955ء کو سندھ کے ایک نامور زمیندار اور سیاسی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم حاکم علی زرداری خود ایک معروف سیاست دان اور کاروباری شخصیت تھے۔ ابتدائی تعلیم کراچی کے سینٹ پیٹرک سکول اور کیڈٹ کالج پٹارو سے حاصل کی۔ آغاز میں ان کی توجہ کاروبار اور پولو کے کھیل پر مرکوز تھی، لیکن قدرت نے ان کے لیے ایک ایسا راستہ چن رکھا تھا جو آگے چل کر ملکی تاریخ کا رخ بدلنے والا تھا۔
1987ء آصف علی زرداری کی زندگی کا سنگ میل ثابت ہوا ، جب ان کی شادی عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قائد محترمہ بینظیر بھٹو سے ہوئی۔یہ صرف دو خاندانوں کا ملاپ نہیں تھا، بلکہ اس نے آصف علی زرداری کو براہِ راست ملکی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ۔ انہوں نے محترمہ کا ہر محاذ پر ساتھ دیا اور بھٹو خاندان کی سیاسی وراثت کے نگہبان بن کر ابھرے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کا سیاسی سفر پھولوں کی سیج نہیں بلکہ خاردار تاروں کا راستہ تھا۔جس میں انہیں طویل قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں لیکن ان کے پایہ استقلال میں معمولی جنبش بھی نہ آئی۔اپنی زندگی کے تقریباً 11 بہترین سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے۔ ان پر بے شمار مقدمات قائم کیے گئے، جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، لیکن انہوں نے کبھی کسی ڈیل یا دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ جیل کی انہی صعوبتوں نے ان کے اعصاب کو فولاد بنا دیا، ان کی اسی استقامت کی بدولت انہیں صحافت کے بے تاج بادشاہ محترم مجید نظامی نے "مردِ حر” کے خطاب سے نوازا۔
"27 دسمبر 2007ء محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا۔ اس سانحے کے بعد پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، اور ملک خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ایسے نازک موڑ پر آصف علی زرداری نے کمال تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے "پاکستان کھپے” (پاکستان زندہ باد) کا تاریخی ساز نعرہ لگایا۔اس ایک نعرے نے نہ صرف بھڑکتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کر دیا بلکہ ملک کو ٹوٹنے سے بھی بچا لیا۔ اس اقدام نے اپنوں کے ساتھ ساتھ ان کے سخت ترین سیاسی مخالفین کے دل بھی جیت لیے۔
محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد 2008ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی اور آصف علی زرداری ملک کے صدر منتخب ہوئے۔ ان کا پہلا صدارتی دور پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کا سنہری دور مانا جاتا ہے۔ انہوں نے 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کے تمام آمرانہ اختیارات رضا کارانہ طور پر پارلیمنٹ کو منتقل کر دیے۔ انہی کے دور میں "بینظیر انکم سپورٹ پروگرام” کا آغاز ہوا اور پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کی بنیاد رکھی گئی۔
اپنے پہلے دور صدارت میں آصف علی زرداری نے ملکی سیاست کو ایک نیا رخ دیا۔ان کا سب سے بڑا کمال ان کی "مفاہمت کی سیاست” ہے۔ ماضی کی سخت ترین سیاسی دشمنیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، انہوں نے چوہدری برادران کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور چوہدری پرویز الٰہی کو ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ دیا۔ اسی طرح اپنے دوسرے بڑے سیاسی حریف میاں محمد نواز شریف کے ساتھ قربتیں بڑھائیں، چارٹر آف ڈیموکریسی کو آگے بڑھایا اور مل کر حکومتیں تشکیل دیں۔انہوں نے ثابت کیا کہ سیاست میں کوئی چیز حرفِ آخر نہیں ہوتی اور ملک کے وسیع تر مفاد میں مخالفین کو بھی گلے لگایا جا سکتا ہے۔
آصف علی زرداری کی سیاسی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ان کا حالیہ دورِ سیاست ہے۔ انہوں نے جوڑ توڑ اور بہترین حکمتِ عملی کے ذریعے نہ صرف خود دوسری مرتبہ صدرِ مملکت کا منصب سنبھالا، بلکہ پیپلز پارٹی کو ملک کی سب سے بااثر سیاسی قوت بنا دیا۔ ان کی سیاسی چالوں کی بدولت آج سینیٹ کے چیئرمین کا عہدہ پیپلز پارٹی کے پاس ہے، پنجاب اور خیبر پختونخوا جیسے اہم صوبوں میں پیپلز پارٹی کے گورنر تعینات ہیں، جبکہ سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومتیں قائم ہیں۔ یہ غیر معمولی سیاسی کامیابی۔نے اس نعرے کو سچ ثابت کر دیا کہ "ایک زرداری، سب پر بھاری”۔
خارجہ پالیسی کے محاذ پر آصف علی زرداری نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں پاکستان کو عالمی تنہائی سے نکالنے کے لئے بہت سے اہم فیصلے کئے۔پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) اس عظیم الشان منصوبے کا حقیقی سہرا آصف علی زرداری کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے چین کے متعدد دورے کیے اور بیجنگ کے ساتھ اس سٹرٹیجک شراکت داری کی بنیاد رکھی جس نے پاکستان میں انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں کا جال بچھا دیا۔
عالمی دباؤ اور پابندیوں کے خطرات کے باوجود، انہوں نے ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدے پر دستخط کر کے اپنی آزاد مصلحت پسندانہ خارجہ پالیسی کا ثبوت دیا۔ گوادر پورٹ کا انتظام سنگاپور سے لے کر چین کے حوالے کرنا ان کا ایک ایسا تزویراتی (Strategic) فیصلہ تھا جس نے خطے کی جیو پولیٹکس کا رخ بدل دیا۔ان کے دور میں شروع کیا گیا "بینظیر انکم سپورٹ پروگرام” (BISP) آج بھی پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور شفاف ترین سماجی تحفظ کا نیٹ ورک مانا جاتا ہے، جس کی تعریف عالمی بینک (World Bank) جیسے بین الاقوامی اداروں نے بھی کی۔
اس پروگرام کے ذریعے کروڑوں غریب خواتین کو براہِ راست مالی امداد فراہم کر کے ان کی معاشی خودمختاری کے سفر کا آغاز کیا گیا۔اپنے موجودہ دورِ سیاست میں آصف علی زرداری نے ایک مرتبہ پھر خود کو پاکستان کا سب سے بڑا "سیاسی معمار” (Kingmaker) ثابت کیا۔ چیلنجوں سے بھرپور سیاسی ماحول میں انہوں نے نہ صرف دوسری مرتبہ صدرِ مملکت کا معزز عہدہ سنبھالا، بلکہ چاروں صوبوں سمیت وفاق، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے میں پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک ناگزیر قوت بنا دیا۔
سینیٹ، پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں پارٹی کے سیاسی اثر و رسوخ کو عروج پر پہنچانا ان کی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کی دلیل ہے۔ وہ پاکستان کی تاریخ کے واحد سویلین صدر ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنا پہلا صدارتی دور کامیابی سے مکمل کیا بلکہ آج بھی ملکی سیاست کے استحکام کے لیے سب سے اہم ستون بنے ہوئے ہیں۔
آصف علی زرداری کی سیاست کا ایک منفرد پہلو یہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ "شخصی حکمرانی” پر "اداروں کی بالادستی” کو فوقیت دی۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ صدور نے ہمیشہ اپنے اختیارات بڑھانے کی کوشش کی، لیکن آصف علی زرداری وہ واحد صدرِ مملکت ہیں جنہوں نے 2010ء میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کو حاصل پارلیمنٹ توڑنے کا بدنامِ زمانہ اختیار (آرٹیکل 58-2B) اور مسلح افواج کے سربراہان کی تعیناتی کے اختیارات رضاکارانہ طور پر منتخب وزیراعظم اور پارلیمنٹ کو منتقل کر دیے۔ انہوں نے صدر کے عہدے کو ایک آمرانہ پوزیشن سے نکال کر ایک آئینی اور وفاق کی علامت کا منصب بنایا۔ اس اقدام نے ملک میں بار بار لگنے والے مارشل لا کے راستے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا اور پارلیمنٹ کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا۔
2024ء کے عام انتخابات کے بعد بننے والے پیچیدہ سیاسی منظرنامے میں جب ملک شدید معاشی بحران، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار تھا، تو آصف علی زرداری نے ایک بار پھر ملک کو سنبھالا دیا۔ دوسری مرتبہ صدرِ مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد، انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خلیج کو کم کرنے کے لیے "میثاقِ معیشت” (Charter of Economy) کی ضرورت پر زور دیا۔وہ زرعی شعبے کو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی مانتے ہیں۔ ان کی موجودہ پالیسیوں کا بڑا محور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار بڑھانا اور سندھ و بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں کسانوں کو براہِ راست امداد فراہم کرنا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری خلیجی ممالک (خصوصاً سعودی عرب اور یو اے ای) اور چین کے ساتھ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے پلیٹ فارم کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تاکہ ملک میں ڈالر کی آمد بڑھے اور آئی ایم ایف (IMF) پر انحصار کم ہو۔ان کے موجودہ دور صدارت میں جہاں چاروں صوبوں اور وفاق میں مختلف سیاسی جماعتوں کا اثر ہے، وہاں صدر زرداری وفاق کی علامت کے طور پر پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم (NFC Award) اور ترقیاتی منصوبوں میں توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔آصف علی زرداری نے اپنے پورے سیاسی کیریئر میں یہ ثابت کیا ہے کہ سیاست جذبات سے نہیں بلکہ ٹھنڈے دماغ، صبر اور دور اندیشی سے کی جاتی ہے۔
انہوں نے جیل کی تاریک کوٹھڑیوں سے لے کر ایوانِ صدر کی چمک دمک تک ہر دور کو کمالِ ضبط کے ساتھ گزارا۔آصف علی زرداری کی سیاسی بصیرت کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ انہوں نے بڑی خوبصورتی سے پارٹی کی عملی کمان اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کے ہاتھ میں سونپی۔ بلاول بھٹو زرداری کی جدید اور ترقی پسند سوچ کو آصف علی زرداری کی روایتی سیاسی حکمتِ عملی کی بدولت اب میکرو فائنانس سپورٹ بھی حاصل ہے۔ اسی کی بدولت پیپلز پارٹی اب انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT)، موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) اور گرین انرجی جیسے جدید چیلنجز پر کام کر رہی ہے۔سندھ اور بلوچستان میں مضبوط حکومتوں کے بعد، پیپلز پارٹی کا اگلا ہدف پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اپنے کھوئے ہوئے سیاسی تنظیمی ڈھانچے کو دوبارہ فعال کرنا ہے، جس کے لیے آصف علی زرداری پسِ پردہ رہ کر جوڑ توڑ اور اتحاد کی سیاست کے تانے بانے بن رہے ہیں۔ اس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی جا رہے ہیں۔
آصف علی زرداری کی شخصیت پاکستان کی تاریخ میں صبر، برداشت اور غیر متزلزل عزم کا استعارہ ہے۔ قید و بند کی صعوبتوں سے لے کر ایوانِ صدر کی دوسری مدت تک، انہوں نے ہر بحران کو پاکستان کے حق میں بدلا۔ وہ بلاشبہ معاصر تاریخ کے سب سے دور اندیش اور زیرک سیاست دان ہیں جنہوں نے "سیاست ممکنات کا کھیل ہے” کے مقولے کو سچ کر دکھایا۔
آصف علی زرداری کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ عزم و استقلال کا وہ پہاڑ ہیں جس نے ہر طوفان کا رخ موڑ دیا۔ تنقید اور اختلافات سے بالاتر ہو کر، وہ بلاشبہ پاکستان کے معاصر سیاسی منظر نامے کے سب سے بڑے "کنگ میکر” اور مدبر رہنما کے طور پر تاریخ میں یاد رکھے جائیں گے۔



