
نیویارک کے ایک پرانے علاقے گرین وچ ولیج میں دو نوجوان لڑکیاں، سو اورجانسی ایک ہی کمرے میں رہتی تھیں۔ دونوں مصورہ تھیں اوربڑے خواب دیکھتی تھیں۔ ایک دن سخت سردی کی وجہ سے جانسی نمونیا کا شکار ہوگئی،ڈاکٹر نے علاج تو شروع کیا، لیکن اسے محسوس ہوا کہ بیماری سے زیادہ خطرناک چیزجانسی کی ٹوٹتی ہوئی امید ہے۔ اس نے سو سے کہا ۔۔۔
اگرمریض نے جینے کی خواہش ہی چھوڑ دی تو دوائیں بھی اپنا اثرکھو دیتی ہیں ۔۔۔۔جانسی جس اسپتال میں داخل تھی، اس کے بسترکے بالکل سامنے کھڑکی تھی،جس کے باہرایک پرانی بیل تھی،جسے وہ ہروقت دیکھتی رہتی تھی، جس کے پتے خزاں میں ایک ایک کرکے گررہے تھے۔ نہ جانے کیوں اس نے اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا لی کہ جس دن اس بیل کا آخری پتا گرے گا، اسی دن وہ بھی مرجائے گی، سو اسے بار بار سمجھاتی، اس کا حوصلہ بڑھاتی، مگر جانسی اپنی ضد پرقائم رہی،ہرگرتے ہوئے پتے کے ساتھ اس کی امید بھی کم ہوتی جا رہی تھی۔

ایک دن سو اسے تسلی دے رہی تھی،لیکن جانسی نے کہا، دیکھو !! دو پتے رہ گئے ہیں، اور وہ پرسوں مرجائے گی،سو انتہائی پریشان ہوگئی،وہ اپنا غم ہلکا کرنے کیلئے کسی کو جانسی کا دکھ بیان کرنا چاہتی تھی، اسی عمارت میں ایک بوڑھا مصوربہرمن بھی رہتا تھا، وہ برسوں سے ایک عظیم شاہکار بنانے کا خواب دیکھ رہا تھا، مگرکبھی کامیاب نہ ہوسکا تھا،سو بہرمن کے پاس جاتی ہے اورجانسی کے بارے سب کچھ بتاتی ہے۔
بہرمن کو جانسی کی کہانی سن کربہت دکھ ہوا اورسو کو کچھ نہ بولا،خاموشی اختیارکرلی، اسی رات شدید بارش، تیزآندھی اور یخ بستہ ہوا چل رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ صبح تک بیل کا آخری پتا بھی گرجائے گا، مگرصبح ہوئی تو جانسی نے حیرت سے دیکھا کہ آخری پتا اب بھی شاخ سے چمٹا ہوا ہے۔۔۔ دن گزرا، پھررات آئی، پھربارش ہوئی، پھرتیزہوا چلی، لیکن وہ پتا پھربھی نہ گرا۔۔۔۔
جانسی نے سوچا، اگرایک بے جان پتا اتنی سخت آندھی اوربارش کا مقابلہ کرسکتا ہے تومیں ایک زندہ انسان ہوکرکیوں ہارمانوں۔۔۔؟ اسی لمحے اس کے اندر جینے کی خواہش لوٹ آئی،اس نے کھانا مانگا، دوا وقت پرلی، اورآہستہ آہستہ صحت یاب ہونے لگی،چند دن بعد ڈاکٹرنے بتایا کہ اب جانسی خطرے سے باہر ہے اور کچھ دن بعد جانسی صحت یاب ہوکرگھرآجاتی ہیں۔۔۔یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی،اس کا دلچسپ پہلوابھی باقی ہے،ہم تھوڑی دیرکیلئے دوسری طرف چلتے ہیں ۔۔۔۔
ہردور، ہرمعاشرے اورہرملک میں ’’ جانسی ‘‘ ضرورہوتے ہیں، جوحالات سے شکست کھا کریہ یقین کر بیٹھتے ہیں کہ اب زندگی میں کچھ باقی نہیں رہا۔ بدقسمتی سے آج ہمارا معاشرہ بھی ایک ایسی ہی اجتماعی مایوسی کے دور سے گزررہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی، سیاسی کشمکش، معاشی دباؤ، تعلیم اورصحت کے مسائل، ہجرت کرتی ہوئی نوجوان نسل، اورہرروز پھیلتی ہوئی منفی خبروں نے لاکھوں لوگوں کے دلوں سے امید چھین لی ہے۔ بہت سے لوگ جسمانی طورپرزندہ ہیں، مگرذہنی اورجذباتی طورپرہارمان چکے ہیں۔
ان کے لیے بھی زندگی کے درخت پرشاید ایک ہی آخری پتا باقی رہ گیا ہے۔ لیکن قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ معاشرے صرف سڑکوں، عمارتوں اور منصوبوں سے نہیں بنتے، بلکہ امید پیدا کرنے والے انسانوں سے بنتے ہیں۔
ایک اچھا استاد کسی طالب علم کی زندگی بدل دیتا ہے، ایک دیانت دارجج انصاف پریقین واپس لے آتا ہے، ایک ایماندار سرکاری افسر ریاست پراعتماد بحال کردیتا ہے، ایک مخلص ڈاکٹرمریض کے چہرے پرمسکراہٹ لوٹا دیتا ہے، اورایک سچا لکھنے والا کبھی کبھی اپنے الفاظ سے ہزاروں دلوں میں نئی زندگی پھونک دیتا ہے۔
شاید اسی لیے دنیا کی ہربڑی تہذیب نے امید کو سب سے بڑی انسانی طاقت قراردیا ہے۔ کیونکہ جب امید مرجائے تو انسان زندہ رہ کر بھی زندگی سے محروم ہوجاتا ہے، لیکن جب امید زندہ ہوتو اندھیری رات بھی صبح کی نوید بن جاتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے گرد کتنی تاریکی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا ہے جوکسی دوسرے کے لیے آخری پتے کا کردار ادا کرسکے۔۔۔۔؟
ہمیں شاید اپنی زندگی میں کبھی یہ معلوم نہ ہو کہ ہمارے ایک جملے، ایک مسکراہٹ، ایک حوصلہ افزا لفظ، ایک مخلص مشورے یا ایک بے لوث عمل نے کسی ٹوٹے ہوئے انسان کو دوبارہ جینے کا حوصلہ دے دیا۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کسی معجزے کے انتظار میں نہیں، صرف ایک ایسے انسان کے منتظر ہیں جوانہیں یہ یقین دلا دے کہ ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔۔۔۔
اب ہم واپس جانسی کی کہانی کی طرف چلتے ہیں، کہ وہ پتا کیوں نہ گرا۔۔۔۔؟ ہوا کچھ اس طرح، سو نے جب بہرمن کواپنی دوست جانسی کےبارے سب کچھ بتایا توبہرمن افسردہ ہوگئے تھے اور خاموشی اختیارکرلی تھی،رات کو جب بارش اور تیز ہوا چل رہی تھی،بہرمن نے سوچا، پتا تو آج گرجائے گا، اورجانسی مرجائے گی،بہرمن شدید شردی،برستے بادل میں گھرسے نکلا اوراسپتال پہنچ گیا،وہ مصورتھا،اس نے پینٹنگ کرکے پتا شاخ سے باندھ دیا،پینٹنگ اتنی اچھی تھی کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا کہ پتا مصنوعی ہے،حالانکہ اصل پتا گرچکا تھا،صبح جب جانسی نے دیکھا،کہ آج پتا نہیں گرا،دوسرے دن بھی نہیں گرا،تیزآندھی اورشدید بارش کا سامنا کرگیا،اس کے دل میں حوصلہ پیدا ہوگیا،جینے کی خواہش زندہ ہوگئی اورصحت یاب ہوگئی۔۔۔
او ہنری امریکی مصنف ہیں،یہ اس کی تحریرکردہ کہانی ہے جس کا نام ہے’’ دی لاسٹ لیف‘‘ ۔۔۔۔ او ہنری نے ’’ دی لاسٹ لیف ‘‘ میں ایک پتے کی تصویربنا کردراصل پوری انسانیت کی تصویرکھینچ دی تھی۔ آج بھی ہمارے گھروں، محلوں، اداروں اورملک کو ایسے بے شمار ’’ آخری پتوں ‘‘کی ضرورت ہے۔ ایسے اساتذہ، ڈاکٹر، صحافی، جج، سیاست دان، تاجر، مزدوراورعام شہری، جو اپنے حصے کی شمع جلائیں تاکہ کسی دوسرے کی زندگی اندھیرے سے نکل سکے۔
معاشرے صرف قانون سے نہیں، کردار سے بنتے ہیں۔ قومیں صرف وسائل سے نہیں، بلکہ ایک دوسرے پراعتماد، ایثاراور امید سے آگے بڑھتی ہیں۔۔۔۔ شاید ہم سب ’’ بہرمن ‘‘ نہ بن سکیں، لیکن ہم سب کسی نہ کسی جانسی کی زندگی میں امید کا ایک پتا ضرور بن سکتے ہیں۔ اگرہمارے لفظ کسی مایوس شخص کو ہمت دے دیں، اگر ہمارا عمل کسی گرتے ہوئے انسان کو سنبھال لے، اگرہماری موجودگی کسی کے دل سے ناامیدی کم کر دے، تو یہی ہماری زندگی کا سب سے بڑا شاہکارہوگا۔۔۔۔ بعض اوقات امید، دوا سے زیادہ طاقتورہوتی ہے۔ ایک انسان کی بے غرض قربانی دوسرے انسان کو نئی زندگی دے سکتی ہے۔ حقیقی عظمت صرف بڑے کارنامے انجام دینے میں نہیں، بلکہ کسی کی زندگی میں امید کا چراغ جلانے میں ہے۔۔۔



