امریکی تجارتی جنگ،پاکستان کو ایک ارب ڈالر نقصان کا خدشہ،چین،یورپی یونین جوابی ٹیرف کیلئے تیار
سر نہیں جھکائیں گے: چین،امریکی ٹیرف سے پاکستان کی برآمدات پر شدید اثرات ہونگے، خسارہ مزید بڑھ سکتا،وزارت تجارت
واشنگٹن، لاہور (ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مزید 50 فیصد ٹیرف کی دھمکی پر چین کا سخت ردعمل سامنے آ گیا ہے۔ ترجمان چینی وزارتِ تجارت نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ اپنی ضد پر قائم رہا تو چین آخر تک لڑے گا، امریکہ کے اس طرح کے اقدامات کبھی قبول نہیں کریں گے۔

امریکہ کی جانب سے لگائے جانے والے نام نہاد ٹیرف بلاجواز ہیں، جنہیں چین سختی سے مسترد کرتا ہے۔ امریکی رویے کو بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے ترجمان نے کہا چین ایسے کسی بھی دباو کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ امریکہ ٹیرف بڑھاتا رہا تو چین اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے سخت جوابی اقدامات کرے گا۔
ترجمان چینی وزارتِ تجارت کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں، تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا اور تحفظ پسندی کسی مسئلے کا حل نہیں، لہذا امریکہ فوری طور پر یکطرفہ اقدامات واپس لے اور چین سے برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر مذاکرات کرے۔
یورپی یونین نے صنعتی مصنوعات پر امریکہ کو زیرو ٹیرف معاہدے کی پیشکش کی ہے مگر ساتھ ہی تجارتی جنگ کے لیے بھی تیار ہوتے ہوئے جوابی ٹیکس عائد کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ یورپی یونین کے وزرائے تجارت کا لکسمبرگ میں اجلاس ہوا جس میں امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے نئے تجارتی ٹیرف پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں یورپی یونین ٹریڈکمشنر کا کہنا تھا کہ امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائدکرنےکی تیاری کرلی ہے، ٹیرف کے لیے مصنوعات کی فہرست پر یورپی پارلیمنٹ میں 9 اپریل کو ووٹنگ ہوگی، حتمی فہرست 15 اپریل کو منظور ہوگی جس کے بعد امریکی مصنوعات پر یورپی ٹیکسوں کا نفاذ شروع ہوجائےگا۔ ٹریڈکمشنر کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ٹرمپ کے عائد ٹیرف پر امریکہ سے بات چیت پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
لکسمبرگ کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات سے مسئلہ حل نہ ہوا تو یورپی یونین کو مزید جارحانہ اقدامات کی ضرورت پڑے گی۔آئرلینڈ، پولینڈ اور یورپی کمیشن کے نمائندوں نے بھی ٹیرف کے عالمی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔
ڈچ وزیر تجارت کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کو امریکی ٹیرف کے جواب میں تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنےکی کوشش کرنی ہوگی۔ڈچ وزیر تجارت کا کہنا تھا کہ اگر ضروری ہوا تو ہم جوابی اقدامات کے لیے بھی تیار ہیں تاکہ امریکیوں کو مذاکرات پر لایا جاسکے۔
دوسری طرف وائٹ ہاس نے ٹرمپ ٹیرف کے نفاذ میں 90 روز کا وقفہ کرنے کی خبر کو جعلی قرار دیا ہے، مغربی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ تجارتی ٹیرف لگانے کے اپنے اختیارات کو محدود کرنے والے بل کو ویٹو کر دیں گے۔
علاوہ ازیں امریکہ کی جانب سے پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف کے نفاذ کے بعد ملکی تجارت کو ممکنہ نقصان سے متعلق دستاویز سامنے آگئی۔وزارت تجارت کی دستاویز کے مطابق ٹیرف کے نفاذ سے پاکستان کو ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوگا اور ٹیرف کے نفاذ کے باوجود امریکہ کو 2 ارب ڈالرز کے تجارتی خسارے کا سامنا رہے گا۔
دستاویز کے مطابق پاک امریکہ تجارت کا حجم گزشتہ مالی سال 7.3 ارب ڈالرز رہا، امریکہ کی جانب سے پاکستان کو 2.1 ارب ڈالرز کی مصنوعات برآمد کی گئی۔ امریکی مصنوعات کی برآمدات میں مالی سال 2023 کی نسبت 4.4 فیصد اضافہ ہوا۔پاکستان نے امریکہ کو 2024 میں 5.1 ارب ڈالرز کی مصنوعات ایکسپورٹ کیں۔
پاکستان کی امریکہ کو ایکسپورٹ میں 2023 کی نسبت 4.9 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔امریکہ کا پاکستان کے ساتھ تجارتی خسارہ بڑھ کر 3 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا، امریکا کا تجارتی خسارہ 2023 کی نسبت 5.2 فیصد تک بڑھا۔پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات امریکہ کو سب سے زیادہ 55 فیصد تک رہیں۔
پاکستان کے آئی ٹی شعبے کی برآمدات امریکا میں 1 ارب ڈالر سے زائد ہوگئیں،ذرائع وزارت تجارت کے مطابق امریکہ کے 29 فیصد ٹیرف سے پاکستان کی برآمدات پر شدید اثرات ہوں گے، پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات امریکا میں مہنگی ہو جائیں گی، جس سے طلب کم ہو سکتی ہے جبکہ نئے ٹیرف سے پاکستان کا تجارتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان کو چاول اور ٹیکسٹائل کے لیے متبادل مارکیٹوں کی تلاش میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں، پاکستان کی برآمدات میں 10 سے 15 فیصد تک کمی کا امکان ہے۔ ٹیرف سے بچنے کے لیے فوری تجارتی مذاکرات ناگزیر ہیں۔
دریں اثنا امریکہ کی جانب سے پاکستانی طلباء کے لیے گلوبل انڈر گریجویٹ نامی اہم تبادلہ پروگرام بند کر دیا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے لیے گلوبل انڈرگریجویٹ ایکسچینج پروگرام (Global UGRAD) کا اختتام کر دیا گیا ہے۔ یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن ان پاکستان کے مطابق، یہ پروگرام گزشتہ 15 سالوں سے کامیابی کے ساتھ جاری تھا لیکن اب مزید پیش نہیں کیا جائے گا۔



