انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ،ملزم گرفتار
جہلم:(ویب ڈیسک)مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا پر جہلم میں حملہ کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق گزشتہ رات قاتلانہ حملے میں انجینئر محمد علی مرزا محفوظ رہے، ملزم خالی ہاتھ تھا۔
مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو گرفتار کر لیا
حملے کے وقت محمد علی مرزا درس کے بعد فوٹو سیشن میں مصروف تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم ایبٹ آباد کا رہائشی ہے اور اس کا تعلق کالعدم جماعت سے بتایا جا رہا ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اتوار کے روز لیکچر کے اختتام پر فوٹو سیشن کے دوران ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انجینئر محمد علی مرزا پر حملہ کرتے ہوئے اُن کے عمامہ (پگڑی) کو زمین پر پٹخ دیا اور اُن کے گلے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دبوچ کر اُن کا سانس روکنے کی کوشش کی۔
ایف آئی آر کے مطابق اس موقع پر حملہ آور نے بلند آواز میں نعرے بازی کی ،ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر موجود افراد نے ملزم کو پکڑا اور انھیں اکیڈمی کی ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکاروں کے حوالے کیا ہے۔
پولیس نے یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 324 (اقدام قتل) کے تحت درج کی ہے۔
جہلم پولیس کے مطابق انجینئر محمد علی مرزا پر مارچ 2021 میں بھی چاقو سے حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اُن کے بازو پر زخم آیا تھا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔ اسی طرح سنہ 2017 میں ہونے والے ایک قاتلانہ حملے میں بھی وہ محفوظ رہے تھے۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال انجینئر محمد علی مرزا کو مبینہ توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم دسمبر 2025 میں انھیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔



