ریڑھی بان پاکستان کے شہری اور نیم شہری علاقوں کا ایک لازمی جزو ہیں۔ یہ محنت کش طبقہ روزانہ کی بنیاد پر محنت کر کے اپنے اہل خانہ کی کفالت کرتا ہے۔ تاہم ریاستی پالیسیوں، بلدیاتی نظاموں اور قانونی تحفظ کے فقدان کے باعث ان کی زندگی ہمیشہ سے ہی بے یقینی اور پریشانی کا شکار رہی ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ایم سی آئی (میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد) کو اسلام آباد کے ریڑھی بانوں کے حوالے سے باقاعدہ پالیسی بنانے کی جو ہدایت دی ہے، وہ نہ صرف ایک اہم عدالتی قدم ہے بلکہ اس سے پاکستان میں نچلے طبقے کے معاشی حقوق کی بازیابی کی امید بھی پیدا ہوئی ہے۔
پاکستان میں ریڑھی کلچر کی تاریخ قیام پاکستان سے بھی پہلے کی ہے۔ تقسیم ہند کے بعد شہروں کی طرف آبادی کا رجحان بڑھا تو چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے افراد، خاص طور پر مہاجر طبقہ، ریڑھی کے ذریعے روزی کمانے لگا۔ اسلام آباد جو 1960 کی دہائی میں ایک منصوبہ بند شہر کے طور پر وجود میں آیا، وہاں بھی آہستہ آہستہ ریڑھی بانوں کا ظہور ہوا۔ تاہم چونکہ یہ شہر ایک بیوروکریٹک اور ایلیٹ کلاس کے لیے بنایا گیا تھا، اس لیے ابتدا سے ہی یہاں کے انتظامی ڈھانچے نے ریڑھی بانوں کو غیر رسمی، غیر قانونی اور بعض اوقات غیر ضروری سمجھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی حالیہ کارروائی اس تناظر میں نہایت اہم پیش رفت ہے کہ عدالت نے ایم سی آئی کو ریڑھی بانوں کے لیے باقاعدہ پالیسی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ وکیل ایمان مزاری کی جانب سے سی ڈی اے اور ایم سی آئی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ ریڑھی بانوں کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنا ان کے معاشی و انسانی حقوق کے منافی ہے۔ جسٹس اعجاز اسحاق خان کے ریمارکس کہ "ان لوگوں کا روز کا کام ہے، ہفتہ وار نہیں ہو سکتا” اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ عدلیہ محض قانون کی تشریح تک محدود نہیں بلکہ سماجی انصاف کی بحالی میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
اخباری رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں اس وقت 20 سے 21 ہزار ریڑھی بان موجود ہیں۔ ان میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جن کے پاس متبادل روزگار کا کوئی ذریعہ موجود نہیں۔ ایم سی آئی یا سی ڈی اے کی جانب سے ریڑھی بانوں کے لیے باقاعدہ لائسنس کا اجراء نہ ہونے کے باعث یہ لوگ ہمیشہ بے یقینی کا شکار رہتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی ریڑھیاں ضبط کر لی جاتی ہیں، جرمانے کیے جاتے ہیں یا انہیں زبردستی بے دخل کر دیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف آئین کے تحت دیے گئے معاشی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ شہری آزادیوں کے بھی منافی ہے۔
اگر ایم سی آئی سنجیدگی سے پالیسی بناتی ہے تو اس میں چند اہم نکات شامل کیے جا سکتے ہیں جن میں لائسنسنگ سسٹم سرفہرست ہے۔ ہر ریڑھی بان کو رجسٹر کیا جائے اور ایک معنولی سا فیس لے کر لائسنس جاری کیا جائے۔
ریڑی بانوں کے لیے مخصوص زونز مقرر کیے جائیں۔ اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں مخصوص سٹریٹ وینڈر زونز کا تعین کیا جائے تاکہ شہریوں کو بھی سہولت ہو اور ریڑھی بان بھی قانونی تحفظ میں کام کریں۔
ان کو بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جائیں جن میں پانی، صفائی اور روشنی جیسی بنیادی سہولیات ان زونز میں فراہم کی جائیں۔
ریڑھی بان یونینز کی شمولیت بھی ضروری ہے۔ پالیسی سازی کے عمل میں خود ریڑھی بانوں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ ان کے مسائل اور تجاویز براہ راست سنی جا سکیں۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں بیروزگاری، مہنگائی اور معاشی عدم مساوات عام ہے، وہاں ریاست کا اولین فریضہ ہونا چاہیے کہ وہ غیر رسمی معیشت کے محنت کش طبقے کو تحفظ دے۔ ریڑھی بان نہ صرف خود کفیل ہوتے ہیں بلکہ ریاست پر بوجھ بھی نہیں بنتے۔ اگر انہیں پالیسی کے ذریعے تحفظ دیا جائے تو یہ نہ صرف شہروں کی معیشت میں بہتری لا سکتے ہیں بلکہ غربت میں کمی کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ عدالت کی جانب سے کی گئی حالیہ ہدایت کو محض عدالتی فیصلہ نہ سمجھا جائے بلکہ ایک اصلاحی اشارہ تصور کیا جائے جو حکومتی اداروں کو ان کے فرائض کی یاد دہانی کراتا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ نہایت اہم، بامعنی اور دور رس نتائج کا حامل ہے۔ یہ صرف ریڑھی بانوں کے تحفظ کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان معاشی انصاف کے ایک نئے عہد کا آغاز بھی ہے۔ اگر ایم سی آئی اس عدالتی ہدایت کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ایک جامع، انسان دوست اور زمینی حقائق پر مبنی پالیسی مرتب کرے تو نہ صرف اسلام آباد بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قابل تقلید ماڈل سامنے آ سکتا ہے۔



