پاکستان اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی میں جوہری تعاون فریم ورک کا معاہدہ
پاکستان پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے فروغ میں اہم شراکت دار:رافائل ماریانو گروسی، پرامن جوہری تعاون، سائنسی ترقی کیلئےکام جاری رہیگا:چیئرمین پی اے ای سی ڈاکٹرعلی رضا انور
اسلام آباد،ویانا:(ویب ڈیسک) پاکستان اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے درمیان جوہری تعاون فریم ورک کا معاہدہ طے پاگیا۔
عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور آئی اے ای اے نے جوہری تعاون کے کنٹری پروگرام فریم ورک پر دستخط کر دیے۔ یہ پانچواں پروگرام 2026 سے 2031 تک قابل عمل رہے گا۔
پاکستان کے پرامن جوہری پروگرام کو ایک بار پھر عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل ماریانو گروسی نے پرامن جوہری پروگرام میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف و توثیق کرتے ہوئے صلاحیت میں اضافے کو سراہا اور پاکستان کی جوہری توانائی کے شعبے میں مسلسل پیشرفت اور ایجنسی کے ساتھ قریبی تعاون کو سراہتے ہوئے اسے قابلِ تقلید قرار دیاہے۔
ویانا میں آئی اے ای اے کی 69ویں جنرل کانفرنس کے موقع پرچیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر راجہ علی رضا انورسے ملاقات کے بعدرافائل گروسی نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں پاکستان کی سول نیوکلیئر انرجی کی ترقی کو اجاگر کیااورکہاپاکستان کا جوہری توانائی پروگرام اچھی رفتار سے آگے بڑھ اور ملک کی توانائی کی ضروریات کو پائیدار اور صاف ذرائع سے پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے خاص طور پرچشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ 5 (C-5) کا ذکر کرتے ہوئے کہا اس منصوبے کی بنیاد فروری 2025 ءمیں رکھی گئی، جو پاکستان کے جوہری توانائی کے سفر میں اہم سنگ میل ہے۔ گروسی کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کی توانائی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اورکم لاگت، لو کاربن بجلی کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
ملاقات میں فریقین کے درمیان آئی اے ای اے کے مختلف پروگراموں کے تحت جاری تعاون کا بھی جائزہ لیا گیا۔ان میں خاص طور پر”ایٹمز فار فوڈ،جو جوہری ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافہ، غذائی تحفظ اور بیماریوں کے خلاف مدد فراہم کرتا ہے۔ریز آف ہوپ، ایشیا پیسیفک خطے میں کینسر کے علاج کے لیے نیوکلیئر میڈیسن اور ریڈیوتھراپی تک رسائی بہتر بنانے کے منصوبے شامل ہیں ۔ڈائریکٹر جنرل گروسی نے پاکستان کی جانب سے ان پروگرامز میں فعال شمولیت اور خطے میں جوہری علم و مہارت کے اشتراک کو قابلِ قدر قرار دیا۔
ان کا کہنا تھاپاکستان پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے فروغ میں اہم شراکت دارکے طور پر کام کر رہا ہے۔اس موقع پر چیئرمین پی اے ای سی ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہاپاکستان پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کیلئے پرعزم ہے اور یہ عزم قومی ترقیاتی ترجیحات اور آئی اے ای اے کے فریم ورک سے مکمل ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے واضح کیاپاکستان کے تمام نیوکلیئر پاور پلانٹس اعلی ترین حفاظتی اورسلامتی کے معیارات کے مطابق چلائے جا رہےہیں۔
پاکستان کا جوہری توانائی پروگرام نہ صرف قابلِ بھروسہ اور کم لاگت توانائی فراہم کر رہا ہےبلکہ یہ ماحولیاتی طور پر محفوظ بھی ہے، کیونکہ یہ کم کاربن اخراج کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے کہا پی اے ای سی کی سرگرمیاں آئی اے ای اے کے وژن، یعنی امن، صحت اور خوشحالی کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے فروغ کے عین مطابق ہیں۔ملاقات میں ایشیا پیسیفک خطے میں پاکستان کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا، جہاں پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ جوہری اطلاقات میں اپنی مہارت کا اشتراک کر رہا ہے۔
فریقین نے اتفاق کیا کہ خطے میں پائیدار ترقی، عوامی فلاح اور سائنسی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔آخر میں پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئی اے ای اے اور رکن ممالک کے ساتھ مل کر پرامن جوہری تعاون، سائنسی ترقی اور خطے کے عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے کام کرتا رہے گا۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈی جی پاکستان کی سول نیوکلیئر انرجی کی صلاحیت میں اضافہ کی تعریف کی۔



