نئی امریکی پالیسی: پاکستان، بھارت اور افغانستان کیلئے چیلنجزمیں اضافہ
تحریروتحقیق:عمیر خان
جنوبی ایشیا ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کے لیے ایک اسٹریٹجک خطہ رہا ہے۔ یہاں کے سیاسی تنازعات، معاشی امکانات اور جغرافیائی اہمیت نے اسے بارہا بین الاقوامی طاقتوں کے کھیل کا میدان بنایا ہے۔ افغانستان کی جنگ، پاکستان اور بھارت کی کشیدگی اور چین کا بڑھتا ہوا کردار پہلے ہی خطے کو حساس بنا چکا تھا۔ اب جنوری 2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ وائٹ ہاؤس آنے کے بعد امریکی پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ ان تبدیلیوں نے نہ صرف پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر اثر ڈالا ہے بلکہ افغانستان کے مستقبل اور خطے کے طاقت کے توازن پر بھی گہرے سوالات کھڑے کیے ہیں۔
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران دونوں ممالک قریب آئے، لیکن بعد میں عدم اعتماد اور پالیسی اختلافات نے دوریاں بڑھا دیں۔ ٹرمپ کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد ایک نئی لہر سامنے آئی ہے۔
پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے جون سے ستمبر 2025 کے درمیان تین بار امریکہ کا دورہ کیا۔ پہلی بار جون میں صدر ٹرمپ نے انہیں وائٹ ہاؤس میں ظہرانے اور ملاقات کے لیے مدعو کیا۔ اگست میں ان کا دوبارہ دورہ ہوا، جہاں انہوں نے بھارت کو سخت پیغام دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ پہلا موقع تھا کہ امریکی سرزمین سے کسی تیسرے ملک کے خلاف ایسے کلمات ادا کیے گئے۔ ستمبر میں وزیراعظم شہباز شریف بھی جنرل منیر کے ہمراہ وائٹ ہاؤس پہنچے۔
اس دوران امریکہ نے پاکستان کے ساتھ کئی تجارتی معاہدے کیے اور 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جس کا مقصد معدنیات اور تیل کی تلاش ہے۔ پاکستان، جو اس وقت معاشی بحران اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی سے دوچار ہے، کے لیے یہ سرمایہ کاری وقتی سہارا سمجھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قربت امریکہ کی بھارت مخالف حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ دہلی کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور آزاد خارجہ پالیسی کو محدود کیا جا سکے۔
بھارت، جو خطے کی سب سے بڑی معیشت ہے، اس وقت امریکی تجارتی پالیسیوں کے نشانے پر ہے۔ اگست 2025 میں امریکہ نے بھارت پر 50 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کیا، جبکہ 25 ستمبر کو بھارتی فارماسیوٹیکل سیکٹر پر یہ شرح 100 فیصد تک بڑھا دی گئی۔ یہ کسی بھی ملک پر لگائے گئے سب سے زیادہ ٹیرف ہیں۔
ان اقدامات کے نتیجے میں بھارتی معیشت کو شدید جھٹکا لگا۔ اگست کے پہلے ہفتے میں ہی 900 ملین ڈالر کا سرمایہ بھارتی اسٹاک مارکیٹ سے نکل گیا، جبکہ جولائی میں 2 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری واپس چلی گئی۔ موڈیز نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جی ڈی پی کی شرح نمو کم از کم 0.3 فیصد پوائنٹس کم ہو سکتی ہے۔
بھارتی برآمدات کے بڑے شعبے جیسے ٹیکسٹائل، جواہرات، مشینری اور فارما ان اقدامات سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ اندازہ ہے کہ 30 سے 35 ارب ڈالر کی براہِ راست برآمدات خطرے میں ہیں، جبکہ بالواسطہ نقصان کو شامل کیا جائے تو یہ حجم 64 ارب ڈالر تک جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی صنعتی تنظیموں کے مطابق تقریباً 2 سے 3 لاکھ ملازمتیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اگرچہ مجموعی طور پر امریکہ کے ساتھ بھارت کی تجارت اس کی جی ڈی پی کا صرف 2.5 فیصد ہے، لیکن مخصوص شعبوں میں نقصان شدید ہے۔ مثال کے طور پر 2024 میں امریکہ کو بھارت کی الیکٹرانکس برآمدات 14.4 ارب ڈالر، فارماسیوٹیکل 10.9 ارب ڈالر اور کٹے پالش شدہ ہیرے 4.8 ارب ڈالر تھیں، جو اب براہِ راست خطرے میں ہیں۔
افغانستان کی صورتحال ایک بار پھر امریکی پالیسی میں نمایاں ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے بگرام ایئر بیس پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ طالبان نے فی الحال اس مطالبے کو مسترد کیا ہے، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق مستقبل میں کسی ڈیل کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
اگر طالبان امریکہ سے براہِ راست معاہدہ کر لیتے ہیں اور اس کے بدلے مالی یا عسکری امداد حاصل کرتے ہیں تو یہ پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ پاکستان پہلے ہی طالبان پر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پناہ دینے اور حمایت فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ ایسے میں طالبان اور امریکہ کا براہِ راست تعلق پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوگا، کیونکہ اس سے طالبان مزید طاقتور ہو سکتے ہیں۔
امریکہ اس وقت "بیلنس آف پاور” کی پالیسی پر عمل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف وہ بھارت پر تجارتی دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ اسے اپنی شرائط پر لائے، دوسری طرف پاکستان کو سرمایہ کاری اور سفارتی قربت دے رہا ہے تاکہ دہلی کے اعتماد کو متزلزل کیا جا سکے۔ افغانستان میں ممکنہ واپسی امریکہ کو خطے میں موجودگی برقرار رکھنے کا موقع دے گی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ طالبان کو اپنی شرائط منوانے کا نیا پلیٹ فارم بھی مل سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد جنوبی ایشیا میں امریکی پالیسی نے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پاکستان کو وقتی طور پر فائدہ ضرور ہوا ہے، لیکن یہ فائدہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے سائے میں ہے۔ بھارت اپنی معیشت اور خارجہ پالیسی کے نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش میں ہے، خاص طور پر روس اور دیگر ایشیائی ممالک کے ساتھ۔ افغانستان کی غیر یقینی صورتحال اس خطے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ امریکہ کب تک اس خطرناک کھیل کو کامیابی سے جاری رکھ سکے گا؟ اور آخرکار اس پالیسی کا حقیقی فائدہ کس کو ہوگا۔۔۔ پاکستان، بھارت، طالبان یا پھر صرف امریکہ؟ اب وقت ہی اس کا فیصلہ کرے گا۔



