انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

اسرائیلی حملے، 120 شہید: فلسطینی ریاست کی حمایت نہیں کرتے، امریکہ

غزہ عالمی مارچ کا پہلا قافلہ مصر روانہ: جب تک کچھ بنیادی تبدیلیاں نہیں ہوتیں تب تک ریاست کا قیام ممکن نہیں، مائیک ہاکابی

غزہ،صنعا،تل ابیب( ویب ڈیسک) دہشتگرد اسرائیلی فورسزکی جانب سے فلسطینیوںکی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔ صیہونی فوج نے غزہ بھر میں ڈرون، ہیلی کاپٹر اور ٹینکوں سے براہ راست حملے کئے، اسرائیلی فوج نے 24 گھنٹے میں 120 فلسطینی شہید، 474 زخمی کر دیئے ۔ عرب میڈیا کے مطابق صیہونی فوج نے امداد کے متلاشی فلسطینیوں پر حملے کئے، ایک روز میں 57 شہید، 363 زخمی ہوگئے۔
امدادی مراکز پر شہید پونے والے فلسطینیوںکی تعداد 224 ہوگئی، 1 ہزار 858 زخمی ہوئے، اسرائیلی فوج نے امدادی مراکز پر فلسطینیوں پر گولیاں چلانے کا اعتراف بھی کیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی شہداکی مجموعی تعداد 55 ہزار 104ہوگئی، 1لاکھ 27ہزار 394 فلسطینی زخمی ہوئے۔دریں اثنا اسرائیلی بحریہ نے یمن کے بحیرہ احمر میں واقع الحدیدہ بندرگاہ پرحوثی اہداف کو نشانہ بنایا۔عرب ٹی وی کے مطابق اسرائیل نے الحدیدہ بندرگاہ کے ڈاکس پر دو فضائی حملے کئے۔ تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اسرائیلی فوج نے حوثیوںکے زیرکنٹرول بندرگاہوں راس عیسیٰ، الحدیدہ اور صلیف کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے خبردار کیا ہے کہ اگر حوثی اسرائیل پر حملے جاری رکھتے ہیں تو اسرائیل ان کے خلاف بحری اور فضائی ناکہ بندی کریگا۔علاوہ ازیں غزہ پر جاری اسرائیلی مظالم کو روکنے کیلئے دنیا بھر کے 50 ممالک سے انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت دیگر ہزاروں افراد نے مصر اور غزہ کے درمیان واقع رفح بارڈر کی طرف مارچ کا فیصلہ کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ’’غزہ گلوبل مارچ‘‘کے عنوان سے شروع کی گئی اس تحریک کا پہلا قافلہ جو تقریبا 1000 افراد پر مشتمل ہے تیونس سے روانہ ہونے کے بعد گزشتہ روز لیبیا پہنچا۔رپورٹ کے مطابق آج 12 جون کو یہ قافلہ جب مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچے گا تو وہاں دنیا بھر کے 50 ممالک سے ہزاروں لوگ جمع ہونگے جس کے بعد مصر اور غزہ کے درمیان واقع رفح بارڈر کی طرف مارچ کیا جائے گا۔
اسرائیل میں تعینات امریکہ کے سفیر نے واضح کیا ہے کہ اب واشنگٹن مکمل طور پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت نہیں کرتا۔ اگر ایسی کوئی ریاست قائم بھی کی جائے تو وہ مغربی کنارے کے بجائے خطے کے کسی اور مقام پر ہو سکتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقرر کردہ سفیر مائیک ہاکابی نے خبر رساں ادارے بلومبرگ کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ جب تک کچھ بنیادی تبدیلیاں نہیں ہوتیں جو فلسطینی ثقافت کو بدل سکیں، تب تک ریاست کا قیام ممکن نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تبدیلیاں شاید ہماری زندگی میں تو نہیں ہوں گی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اب بھی فلسطینی ریاست کا قیام امریکی پالیسی کا مقصد ہے، جیسا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے رہا ہے تو انہوں نے دو ٹوک جواب دیا: مجھے ایسا نہیں لگتا۔ فلسطینی ریاست کے ممکنہ محلِ وقوع سے متعلق گفتگو میں ہاکابی نے تجویز دی کہ کسی اسلامی ملک کے ایک حصے کو اس مقصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے، بجائے اس کے کہ اسرائیل سے زمین چھینی جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button