Trump Rejects Iran Response as Totally Unacceptable
مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ ختم کرنے کے امریکی منصوبے پر دیے گئے جواب کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے “بالکل ناقابل قبول” قرار دیا ہے۔
پاکستان کے ذریعے ایران کا پیغام
ایرانی خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق تہران نے اپنا جواب پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچایا، کیونکہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنی تجویز میں فوری جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور مستقبل میں کسی بھی حملے کی ضمانت کا مطالبہ کیا ہے۔
جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار
اگرچہ گزشتہ ماہ ہونے والی جنگ بندی پر زیادہ تر عمل کیا جا رہا ہے، لیکن واشنگٹن، تل ابیب اور تہران کے درمیان کشیدگی اب بھی خطرناک حد تک موجود ہے۔ مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
نیتن یاہو کا سخت مؤقف
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ایران کے یورینیم افزودگی مراکز مکمل طور پر ختم کیے بغیر جنگ کا خاتمہ ممکن نہیں۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام اب بھی بڑا خطرہ ہے اور تمام افزودگی مراکز کو مکمل ختم کرنا ضروری ہے۔
ایرانی صدر کا دوٹوک بیان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے براہِ راست امریکی تجویز کا ذکر کیے بغیر کہا کہ ایران کبھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کا مطلب کمزوری یا ہتھیار ڈالنا نہیں ہوتا۔
ٹرمپ کا سخت ردعمل
ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم Truth Social پر لکھا کہ ایران کے نمائندوں کا جواب پڑھنے کے بعد انہیں یہ “مکمل طور پر ناقابل قبول” لگا۔
ان کے بیان سے اشارہ ملا کہ امریکہ ایران پر مزید دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
امریکی منصوبے میں کیا شامل تھا؟
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کی عارضی معطلی، پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی بحال کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔
تاہم ان میں سے کئی شرائط حتمی معاہدے کے بعد ہی نافذ ہونا تھیں۔
آبنائے ہرمز میں صورتحال کشیدہ
ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت محدود کر رکھی ہے، جس کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
امریکہ نے بھی ایرانی بندرگاہوں کے قریب بحری سرگرمیاں بڑھا دی ہیں، جسے تہران اشتعال انگیز اقدام قرار دے رہا ہے۔
خطے میں جنگ کا خطرہ بڑھ گیا
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے فضائی حملوں کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی۔ ان حملوں میں ایرانی فوجی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ایرانی فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی ہدایات نظر انداز کرنے والے جہازوں کو “سنگین نتائج” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خلیجی ممالک ہائی الرٹ پر
قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کے قریب ڈرون حملوں اور بحری واقعات کے بعد خلیجی ممالک نے سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بڑی جنگ کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
برطانیہ اور فرانس بھی متحرک
برطانیہ اور فرانس خلیجی بحری راستوں کے تحفظ کے لیے ایک بین الاقوامی مشن پر غور کر رہے ہیں۔
تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی غیر ملکی طاقت نے آبنائے ہرمز میں فوجی مداخلت کی تو اس کا “فوری اور فیصلہ کن جواب” دیا جائے گا۔
مشرق وسطیٰ میں خطرناک صورتحال
اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن موجودہ صورتحال مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو مشرق وسطیٰ ایک بار پھر بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔



