بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

شکوہ سب کا ایک ہی، راستے جدا کیوں؟

انسانی تاریخ کا ایک مستقل سوال یہ رہا ہے کہ جب مسئلہ اجتماعی ہو تو حل انفرادی کیوں تلاش کیا جاتا ہے؟ایک ہی باپ کے چار بیٹے ہوں سوچ میں اختلاف، مزاج میں تنوع، راستوں میں جدت اس کے باوجود اگر شکوہ ایک سا ہو جائے تو یہ محض گھریلو مسئلہ نہیں رہتا، یہ اختیار اور اطاعت کے ازلی تضاد کی علامت بن جاتا ہے۔
باپ اگرچہ نیت میں مخلص ہوتا ہے، مگر جب اختیار مکالمے سے آزاد ہو جائے تو وہ رہنمائی نہیں رہتا، حکم بن جاتا ہے۔ فلسفہ ہمیں بتاتا ہے کہ طاقت جب دلیل سے الگ ہو جائے تو وہ نظم نہیں، جمود پیدا کرتی ہے۔ ایسے میں اختلاف جرم نہیں ہوتا، مگر جرم بنا دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً چاروں بیٹے ایک ہی خاموش نتیجے پر پہنچتے ہیں: ہم سنے نہیں جاتے یہی خاموش نتیجہ اگر ہم ریاستی سطح پر دیکھیں تو پاکستان کی سیاسی تاریخ اس کی واضح مثال بن کر سامنے آتی ہے۔ یہاں تقریباً ہر سیاسی جماعت، ہر دور میں، کسی نہ کسی شکل میں ایک ہی شکوہ دہراتی نظر آتی ہے کہ اصل فیصلہ کہیں اور ہوتا ہےکہ سیاست دان محض مہرے ہیں کہ جمہوریت ایک عمل نہیں، ایک رسم بن چکی ہے۔

یہاں فلسفیانہ سوال جنم لیتا ہے اگر سب اس حقیقت کو مانتے ہیں تو پھر سب اس کے خلاف اکٹھے کیوں نہیں ہوتے؟اس کا جواب شاید انسانی نفسیات کے اس گوشے میں پوشیدہ ہے جہاں خوف، امید اور مفاد ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو جاتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت یہ سمجھتی ہے کہ شاید میں استثنا ہوں، شاید میرے ساتھ ایسا نہ ہو، شاید مجھے وقتی رعایت مل جائے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں اجتماعی شعور شکست کھا جاتا ہے اور انفرادی مفاد فاتح بن جاتا ہے فلسفہ کہتا ہے کہ ظلم کی سب سے مضبوط غذا خاموشی نہیں، بلکہ منتخب خاموشی ہوتی ہے وہ خاموشی جو صرف اس وقت ٹوٹتی ہے جب خنجر اپنی جانب بڑھتا دکھائی دے۔

جب ایک جماعت کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو باقی اسے سیاسی توازن کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیتی ہیں۔ یوں ظلم معمول بن جاتا ہے، اور معمول آخرکار روایت ریاست اور باپ کی تمثیل یہاں مکمل ہو جاتی ہے باپ اگر یہ سمجھ لے کہ اس کی حیثیت سوال سے بالاتر ہے تو وہ رشتہ قائم تو رہتا ہے، مگر زندہ نہیں رہتا۔ریاست بھی اگر خود کو احتساب سے ماورا سمجھے تو نظام باقی رہتا ہے، مگر معنی کھو دیتا ہے۔

اصل بحران یہ نہیں کہ شکوے موجود ہیں؛ اصل بحران یہ ہے کہ شکوے سوچ میں تبدیل نہیں ہوتے، اور سوچ عمل میں۔ ہمارے ہاں سیاست دان بھی اور معاشرہ بھی، دونوں شکوے کو وقتی بیانیہ سمجھتے ہیں، مستقل اصول نہیں ہم انصاف کو اپنی باری کے ساتھ مشروط کر دیتے ہیں، اور یہی مشروط اخلاقیات قوموں کو تاریخ میں پیچھے چھوڑ دیتی ہیں۔

فلسفیوں نے ہمیشہ کہا ہے کہ آزادی کسی ایک فرد یا جماعت کا حق نہیں، بلکہ ایک اجتماعی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ جو قومیں اس ذمہ داری کو تقسیم کر دیتی ہیں، وہ بالآخر آزادی بھی تقسیم کر بیٹھتی ہیں کچھ کو زیادہ، کچھ کو کم، اور کچھ کو بالکل نہیں۔

سوال آج بھی اپنی پوری فکری شدت کے ساتھ موجود ہے جب شکوہ سب کا ایک ہی ہے تو راستے جدا کیوں ہیں؟شاید اس لیے کہ ہم نے سچ کو وقتی فائدے کے تابع کر دیا ہے اور جب سچ مصلحت بن جائے تو تاریخ تو لکھی جاتی ہےمگر تہذیب آگے نہیں بڑھتی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button