پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

زچگی کی چھٹی کے دوران برطرفی، خاتون ملازمہ بحال،نجی ادارہ کوکتنا جرمانہ؟

برطرف کرنے پرادارہ ہراسیت کا مرتکب قرار،ماں بننا خاتون کی ملازمت ختم کرنیکی بنیاد نہیں بن سکتا:وفاقی محتسب انسداد ہراسیت

 

 

اسلام آباد:(ویب ڈیسک)وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت نے نجی ادارے کو زچگی کی چھٹی کے دوران خاتون ملازمہ کو برطرف کرنے پر ہراسیت کا مرتکب قرار دے دیا ہے۔ ادارے کو 5 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے اور ملازمہ کو فوری بحال کرنے کا حکم بھی صادر کیا گیا ہے۔

شکایت کنندہ نومبر 2024 میں ادارے میں بطور ایچ آر ایگزیکٹو تعینات ہوئیں۔ انتظامیہ نے انہیں 13 نومبر 2025 سے 13 مئی 2026 تک 6 ماہ کی تنخواہ سمیت زچگی کی چھٹی دی۔

درخواست میں کہا گیا چھٹی کے دوران انتظامیہ نے بار جلدی ڈیوٹی پر واپسی کا دبا ڈالا۔ شکایت کنندہ نے آپریشن سے صحتیابی، نومولود کی کم عمری اور بچے کی دیکھ بھال کا مسئلہ بتاتے ہوئے قبل از وقت واپسی سے معذرت کی۔

چھٹی کی میعاد ختم ہونے سے پہلے ہی واٹس ایپ کے ذریعے بتایا گیا کہ انتظامیہ نے استعفے کا فیصلہ کر لیا اور نوٹس پیریڈ شروع ہو چکا ہے، بعد میں مجھے استعفی دینے یا برطرفی کا آپشن دیا گیا۔ اسی دوران بغیر کسی شوکاز نوٹس یا وارننگ کے سرکاری ای میل اور دفتری نظام تک رسائی بھی بند کر دی گئی۔

انکوائری کے دوران فورم نے قرار دیا ملازمت ختم کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب شکایت کنندہ قانونی طور پر منظور شدہ زچگی کی چھٹی پر تھیں۔ چھٹی ختم ہونے سے پہلے استعفی پر مجبور کرنا اور دفتری رسائی منقطع کرنا صنفی امتیاز ہے۔

حمل اور زچگی کی بنیاد پر امتیازی سلوک "تحفظِ خواتین بمقابلہ ہراسیت برائے مقامِ کار ایکٹ 2010” کی دفعہ 2(h) کے تحت ہراسیت کے زمرے میں آتا ہے۔وفاقی محتسب نے حکم دیااگر شکایت کنندہ خود استعفی دینا چاہے تو ادارہ بغیر کسی منفی ریمارکس کے درست سروس یا تجربہ سرٹیفکیٹ جاری کرے۔

ادارے کو انسدادِ ہراسیت ایکٹ 2010 پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے اور حمل و زچگی کی بنیاد پر امتیاز روکنے کے لیے موثر داخلی پالیسیاں بنانے کا بھی حکم دیا گیا۔ ادارے کو پندرہ دن کے اندر دستاویزی شواہد کے ساتھ تعمیل رپورٹ رجسٹرار کو جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔محتسب نے اپنے فیصلے میں واضح کیاماں بننا کسی خاتون کی ملازمت ختم کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button