انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

امن بورڈ سے لے کر عالمی تباہی تک

عاصم رضا خیالوی

 

تاریخ ایک عجیب موڑ پر کھڑی ہے۔ جس انسان نے صدیوں کی محنت، علم اور عقل و دانش سے اس دنیا کو جنت نظیر بنانے کی کوشش کی، بلند و بالا عمارات تعمیر کیں، خلائی تسخیر کی اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے انبار لگائے، آج وہی انسان اپنی ہی اس کامیابی سے بیزار نظر آتا ہے۔ اکیسویں صدی کا موجودہ منظرنامہ اس تلخ حقیقت کا غماز ہے کہ انسان کے اندر چھپا ہوا حیوان سر اٹھا چکا ہے اور اب وہ اپنی ہی تخلیق کردہ اس دنیا کو راکھ کا ڈھیر بنتے دیکھنا چاہتا ہے۔

آج دنیا اس مقام پر کھڑی ہے جہاں امن کی زبان کمزور اور اسلحے کی زبان طاقتور سمجھی جانے لگی ہے۔ سفارت کاری کی میزیں سکڑتی جا رہی ہیں جبکہ جنگی منصوبوں کے نقشے وسیع ہوتے جا رہے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسانیت کو خود سے سوال کرنا ہوگا کہ کیا ترقی کا سفر ہمیں امن کی طرف لے گیا ہے یا تباہی کی دہلیز تک؟

سب کچھ ایک خوبصورت فریب سے شروع ہوا تھا۔ دنیا کے تمام بڑے تھنک ٹینکس اور وہ بوڑھے سیاست دان، جو دہائیوں سے اقتدار کی مسند پر براجمان ہیں، نے مل کر ایک عالمی "امن کا بورڈ” تشکیل دیا تھا۔ لیکن یہ بورڈ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا اور دنیا کو دھوکا دینے کا پردہ ثابت ہوا۔ ان بوڑھے ذہنوں کے اندر، جو اپنی عمر کے آخری حصے میں موت کے قریب پہنچ چکے ہیں، ایک عجیب اور ہولناک حسد نے جنم لیا۔ گویا وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، پُرامن اور خوشحال دنیا چھوڑنے کے بجائے ایک ایسی زمین چھوڑنا چاہتے تھے جس پر بارود، خوف اور نفرت کے سائے ہوں۔

امن کے ان نام نہاد محافظوں نے اپنے خفیہ ایجنڈوں کے تحت دنیا کو ایک نئی جنگی بھٹی میں جھونک دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے امن کا وہ بورڈ دنیا کی سب سے بڑی "جنگ کی مجلس” میں تبدیل ہو گیا، جہاں سیاست پس منظر میں چلی گئی اور جنگ ایک منافع بخش کاروبار بن کر سامنے آ گئی۔

آج مشرقِ وسطیٰ سے لے کر بحیرۂ احمر تک بارود کی بو پھیلی ہوئی ہے۔ ایران نے اپنے حوثی اتحادیوں کو مضبوط کرنے کے لیے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈروں اور عسکری ساز و سامان کو یمن منتقل کیا ہے، جس کے بعد ریاض اور حوثیوں کے درمیان چار سالہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔ حوثیوں نے سعودی عرب کی سمندری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے تیل کے ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ تہران نے دھمکی دی ہے کہ امریکہ کی جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی صورت میں بحیرۂ احمر کے راستے بند کر دیے جائیں گے۔

دوسری جانب، سعودی عرب میں امریکی مفادات پر ہونے والے ڈرون حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں نے اس کشیدگی کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس اور تجزیوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اس تنازع میں بڑی طاقتوں کا کردار کس حد تک موجود ہے۔ اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں اور مختلف عالمی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ یہ اب صرف ایک علاقائی تصادم نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات عالمی سیاست اور عالمی معیشت تک پھیل رہے ہیں۔

جب پاسدارانِ انقلاب نے برطانوی اڈوں کو نشانہ بنانے کی وارننگ دی اور برطانیہ نے اپنے فضائی دفاع کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے ایرانی پراکسیز اور سائبر حملوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے، تو پوری مغربی دنیا کو احساس ہو گیا کہ آگ اب ان کے اپنے دروازوں تک پہنچ چکی ہے۔ یہ صورتحال اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید جنگیں اب صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ سائبر اسپیس، معیشت، اطلاعات اور شہروں کے اندر تک پھیل چکی ہیں۔

آج اگر آپ دنیا کا نقشہ اٹھا کر دیکھیں تو زمین کا ہر خطہ دھوئیں میں لپٹا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ماؤں سے ان کے جگر گوشے چھینے جا رہے ہیں، بچے خوف کے سائے میں پل رہے ہیں اور جلتے ہوئے شہر انسان کی ترقی پر ایک سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ انسان نے جو ایٹمی صلاحیت، ہائپرسونک میزائل اور مصنوعی ذہانت جیسی حیرت انگیز ٹیکنالوجی تخلیق کی تھی، وہی اگر تباہی کے لیے استعمال ہونے لگے تو یہ ترقی نہیں بلکہ انسانیت کی ناکامی ہے۔

"امن کے بورڈ” سے شروع ہونے والا یہ سفر اب "جنگ کے تخت” تک پہنچ چکا ہے، جہاں ہر طرف انسانی جانوں کا نقصان، بے گھر خاندان، یتیم بچے اور اجڑے ہوئے شہر دکھائی دیتے ہیں۔ اگر عالمی قیادت نے اپنے مفادات کو انسانیت پر ترجیح دینا جاری رکھا تو آنے والی نسلیں ہمیں ترقی یافتہ قوموں کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی نسل کے طور پر یاد رکھیں گی جس نے اپنی ہی بنائی ہوئی دنیا کو آگ کے حوالے کر دیا۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہر جنگ نے سلطنتیں تو ضرور بنائیں، مگر انسانیت کو ہمیشہ زخم ہی دیے۔ اب بھی وقت ہے کہ دنیا طاقت کے نشے سے نکل کر انصاف، مکالمے اور امن کی راہ اختیار کرے، کیونکہ جنگ کا کوئی حقیقی فاتح نہیں ہوتا۔ آخرکار شکست صرف انسانیت کی ہوتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button