انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

غزہ: اسرائیلی بمباری، مزید 4 شہید، سردی سے 11بچے دم توڑ گئے، درجنوں فلسطینی گرفتار

غزہ کا انتظام فلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار، رفح سرحدی گزرگاہ کو مکمل کھولاجائے، حماس

غزہ، واشنگٹن (ویب ڈیسک ) صیہونی فوج کے غزہ میں زمینی اور فضائی حملے جاری، مزید 4فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ شدید سردی کے باعث 24گھنٹے میں 11بچے جان کی بازی ہار گئے۔ ادھر فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار ہے، تاہم رفح سرحدی گزرگاہ کو آئندہ چند دن میں مکمل طور پر کھولا جائے۔
عرب میڈیا کے مطابق حماس کے ترجمان حازم قاسم نے بتایا کہ غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں، فائلیں تیار ہیں اور مختلف شعبوں میں اختیارات کی منتقلی کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں۔ ان کے مطابق غزہ کی مکمل سول انتظامیہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کی جائے گی۔ واضح رہے کہ یہ 15رکنی نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) امریکی سرپرستی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت قائم کی گئی ہے، جو 10 اکتوبر 2025ء سے نافذ العمل ہے، یہ کمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی اور ایک اعلی نگران بورڈ کے تحت کام کرے گی، جس کی سربراہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔کمیٹی کے سربراہ اور فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر علی شعث کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ رفح بارڈر کھلتے ہی غزہ میں داخل ہوں گے۔
حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ رفح گزرگاہ دونوں سمتوں میں مکمل آزادی کے ساتھ کھولی جائے اور اس میں اسرائیلی رکاوٹیں شامل نہ ہوں۔ واضح رہے کہ رفح بارڈر مئی 2024سے بند ہے، حماس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے لیے تیار ہے اور دوسرے مرحلے کے تمام نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہے۔ ادھر حماس عہدیدار حسام بدران نے کہا کہ پہلے مرحلے کی جنگ بندی ک تمام شرائط پوری کی گئی ہیں، اسرائیل رفاہ کراسنگ کھولنے اور قبضہ شدہ علاقوں سے انخلا میں تاخیر کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے فوری نفاذ اور غزہ کی بحالی کیلئے امداد کی ترسیل کی ضروری ہے۔ دوسری جانب امریکا نے غزہ کی غیر فوجی کارروائی کا منصوبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں حماس کا کسی بھی صورت حکومتی کردار قبول نہیں۔ امریکی مندوب کے مطابق غزہ میں تمام سرنگیں اور اسلحہ ساز فیکٹریاں تباہ ہوں گی، بین الاقوامی مبصرین غزہ میں اسلحہ تلفی کے عمل کی نگرانی کریں گے، غزہ میں اسلحہ ضبطی کیلئی عالمی سطح پر بائی بیک پروگرام پر غور جاری ہے۔
امریکی منصوبے کے تحت حماس کے ہتھیار ڈالنے پر مرحلہ وار اسرائیلی انخلا ہوگا، غزہ میں بین الاقوامی سٹیبلائزیشن فورس تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، امریکی فوجی جنرل کی قیادت میں فورس امن و استحکام قائم کرے گی، امریکا، مصر اور قطر جنگ بندی کے ضامن ہوں گے۔ دوسری جانب روس اور چین نے امریکی قرارداد پر اقوام متحدہ میں احتجاج کیا اور ووٹنگ کے عمل میں حصہ لینے سے گریز کیا۔ دریں اثنا عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فورسز کی مقبوضہ مغربی کنارے میں پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔ صیہونی فورسز نے الخلیل، قلقیلیہ، بیت لحم اور نابلس سے درجنوں فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔ مزید برآں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دھمکی دی ہے کہ حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ پر کنٹرول برقرار رہے گا، اسرائیلی فوج دریائے اردن سے بحیرہ روم تک پورے علاقے پر سکیورٹی کنٹرول رکھے گی جس میں غزہ بھی شامل ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم نے غزہ کے مستقبل کے حوالے سے اپنا منصوبہ پیش کر دیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ غزہ کی تعمیرِ نو سے قبل حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا اور سرنگوں سمیت اس کے عسکری ڈھانچے کا خاتمہ کرنا ضروری ہے، انہوں نے واضح کیا کہ حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ پر سیکیورٹی کنٹرول ہماری فوج کا رہے گا۔ پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزیرِاعظم نے مزید بتایا کہ مصر سے ملحق رفح کراسنگ جلد دونوں طرف کیلئے کھولی جائے گی تاہم وہاں سے صرف لوگوں کی آمد و رفت ہوگی سامان لانے لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ روزانہ تقریبا 50افراد اور ان کے اہلِ خانہ کو داخلے کی اجازت دی جا سکتی ہے اور تمام افراد کی سخت جانچ پڑتال کی جائے گی، کسی کو غزہ چھوڑنے سے نہیں روکیں گے۔
نیتن یاہو نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ خود مختار اور علیحدہ فلسطینی ریاست قائم نہیں ہونے دی جائے گی، انہوں نے قطر اور ترکی کے کسی بھی فوجی کردار کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کے فوجی غزہ میں تعینات نہیں ہوں گے۔ نیتن یاہو کا کہ غزہ کی سول انتظامیہ کیلئے قائم ٹیکنوکریٹ کمیٹی پر بھی اسرائیل کی سخت جانچ پڑتال جاری ہے تاکہ حماس کے عسکری ونگ سے وابستہ افراد شامل نہ ہوں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button