لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے تشکیل دیئے گئے خصوصی مانیٹرنگ یونٹ نے سروسز ہسپتال لاہورکا فالواپ دورہ کیا اس دوران ٹیم نے کرپشن،اقرباپروری اور نااہلی کا بغور جائزہ لیا۔

اوپی ڈی میں پرچی جاری کرنے سے لے کر ہر شعبہ میں رشوت خوری، بدعنوانی اور مریضوں کا استحصال سامنے آیا،3ارکان پر مشتمل ٹیم کے مطابق آیااو پی ڈی سلپ اورمریضوں کے ڈاکٹرز روم تک رسائی کیلئے سرعام 500روپے وصول کررہی تھیں اس میں کلرک بھی ملوث نکلے ۔
سی این این اردوڈاٹ کام کے مطابق ایس ایم یو رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دوسرے نمبر پر گائنی وارڈ کے فیصل مسعودٹاور میں سکیورٹی گارڈ علی حسنین اور تہزیم رسول ہر آنے جانے والے سے 100سا 200روپے وصول کررہے تھے جنہوں نے پوچھنے پر بتایا کہ انہیں پچھلے 6ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ،ایک مریض نے کہا کہ اس سے ایم آرآئی کیلئے عملہ نے 2500روپے لئے ہیں جبکہ ایک مریض نے بتایا کہ پرائیویٹ ڈاکٹر سے چیک کے نام پر اس سے 300رشوت لی گئی۔
پلمونولوجی وارڈ میں داخل ایک مریض نے بتایا کہ یہاں پربھی گارڈرشوت وصول کرتے ہیں جبکہ ڈاکٹر بھی باہر سے ٹیسٹ کرانے کیلئے مجبورکرتے ہیں،کلمہ بلاک اورآئی پی ڈی میں بھی داخلہ فیس کے نام پر پیسے وصول کئے جاتے ہیں
ہسپتال کی کینٹین میں بھی اشیا مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہیں جبکہ پارکنگ میں ایڈوانس وصولی کی جارہی ہے جوکو قواعد کی خلاف ورزی ہے
ضروری ادویات ،ڈائیگناسٹ کٹوں اورضروری سامان کی بھی کمی تھی ،نرسری وارڈ ٹو،پیڈیا ٹرک میں بھی ادویات اور ضروری سامان کی کمی ہے۔
گائنی وارڈ میںایک خاتون مریضہ نے بتایا کہ اس کو 3ایچ بی ایف سی کٹ اور ایک ایچ آئی وی کٹ اور نلسٹیٹ دوائی بھی باہرسے لانے پر مجبورکیا گیا۔
گائنی وارڈ میں ہی رحم میں مردہ جنین کی مریضہ کی چار دن تک کوئی جراحی نہیں ملی جس سے اس کی جان خطرے میں پڑ گئی۔
گائنا کالوجی لیبر روم میں تومریضائیں ایک ہی بیڈپر شدید درد سے کراہ رہی تھیں۔
گائنا کالوجی اوپی ڈی میں ایک خاتون مریضہ کو سی ٹی سکین کا کہا گیا لیکن ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں رش کی وجہ سے اس کو 20ستمبرکی تاریخ دے کر جان خطرے میں ڈال دی گئی۔
نیورووارڈمیں ایک مریض کا سرجیکل آلات اور ادویات پر 49000خرچ آیا،2خواتین مریضوں نے بتایا کہ انہیں باہر سے ادیات لانے پر مجبور کیا گیا۔
ایک شہری نے بتایا کہ اس کا بیٹا یہاں 10دن سے زیر علاج ہے لیکن کسی قسم کی ادویات میسر نہیں کئی ہفتو ں سے سی ٹی سکین انجکشن بھی نہیں۔
دوسری جانب ہسپتال میں موجود ادویات اور ڈرپیں ایکسپائر ہونے کے قریب ہیں ،میڈیکل ریپ ہرطرف ہرجگہ موجود تھے ،ڈاکٹرز کی ملی بھگت کی وجہ سے میڈیکل ریپ ایمرجنسی،اوپی ڈی اور وارڈز میں بھی دندنا رہے تھے جو بروشر اور ادویات کے نمونہ جات بھی دے رہے تھے جبکہ مریضوں کو بھی ادویات کے حوالے سے بتا رہے تھے جبکہ ڈاکٹر دوسری ادویات کی بجائے صرف انہی کی ادویات تجویز کررہے تھے ۔
ہسپتال میں عملہ کی غیر خاضری ،غفلت اور برارویہ عام ہے جبکہ سرجیکل سپیشل یونٹ میں ڈاکٹرز کا ڈیوٹی روسٹر بھی آویزاں نہیں ،مریضوں کے الڑاسائونڈ کیلئے عملہ موجود نہیں تھا جبکہ اہلکارمریضوں اوران کے لواحقین بدتمیزی کررہے تھے ،ڈاکٹر اوپی ڈی سے سوا12بجے ہی غائب تھے جبکہ فزیوتھراپی بھی ساڑھے بارہ بجے بند ہوچکا تھا۔
ڈاکٹر حرا کی جانب سے بدسلوکی اور بدتمیزی کی متعدد مریضوں نے شکایات کیں ،نرسیں وقت ختم ہوجانے کابہانہ بنا کر ڈرپ نہیں لگا رہی تھیں جبکہ ڈاکٹر موبائل کے استعمال میں مگن تھے
نیورووارڈ سے ڈاکٹر ہنا غائب تھیں جبکہ خالی دفاتر میں پنکھے چل رہے تھے ،گائنی وارڈ 2میں کوئی بھی ڈاکٹر اور نرسیں نہ تھیں ایم آرآئی ،سکن اور پلمونولوجی وارڈمیں نرسنگ کائونٹرز خالی تھے سائیکاٹرک وارڈ میں صرف ایک ڈاکٹر اور ایک نرس تھی جبکہ کوئی سکیورٹی اور وارڈ بوائے موجود نہ تھا ۔
چلڈرن ایمرجنسی میں ایک خاتون ڈاکٹراور نرسیں موبائل استعمال کررہی تھیں جبکہ فارماسسٹ ثمرہ شاہد غیر حاضر تھیں۔
آئی سی یو ،آئی وارڈ،سرجیکل گرائونڈ فلور،میل سرجیکل وارڈمیں اے سی غیر فعال تھے جبکہ گندگی بھی تھی،واش رومزبھی گندے تھے جبکہ ٹوٹیاں خراب تھیں اور پانی ضائع ہورہا تھا ۔
فیصل مسعود ٹاورمیں مریضوں نے کرپشن کے حوالے سے شکایات کے انبار لگا دیئے ۔
ایمرجنسی کے سی ٹی سکین سیکشن میں صفائی کرنیوالا موجود تھا جبکہ کلمہ ٹاور میں مریضوں کو باہر سے پرائیویٹ طور پر چغتائی لیب سے ٹیسٹ کرانے اور ادویات بھی باہر سے خریدنے پر مجبور کیا جارہا تھا
سکیورٹی گارڈ عمیر عادل نے بتایا کہ 4ماہ سے تنخواہ نہیں ملی بغیر تنخواہ کے کام کررہے ہیں۔
ایس ایم یو ٹیم کے پولیس خدمت مرکز داخلے پر پتہ چلا کہ کوئی میں میل سٹاف موجود نہیں تھا جبکہ ایس ایم یو ٹیم نے تصاویر بھی بنائیں اس دوران خاتون سٹاف صبا نے عملہ کو دھمکیا ں دیں بدزبانی بھی کی کچھ دیر بعد دومرد اہلکار جن میں سے ایک اجمل نامی اہلکاراورایک بغیر وردری اہلکار بھی آگیا اور ایس ایم یو ٹیم کو کام سے روک دیا ۔
ای این ٹی وارڈ سے ڈاکٹر نازیہ غیر حاضر تھیں ،ٹوکن ساڑھے گیارہ بجے بند کردیئے گئے تھے جبکہ گارڈزکو کھانے پینے کی اشیا دینے کے بعد سرعام ہاکر اشیا فروخت کررہے تھے۔
ٹیم نے جامع نتائج مرتب کرتے ہوئے قراردیا کہ ہسپتال میں گورننس،اخلاقیات اور مریضوں کی صحت کے حوالے سے کوئی انتظام نہیں ،اوپی ڈیز،وارڈوں میں سرعام کرپشن جاری ہے جبکہ کینٹین اور پارک سٹینڈز پر بھی بے ضابطگیاں پائی گئیں،زندگی بچانے والی ادویات اور آلات غائب تھے جبکہ مریضوں کوباہر سے ادویات کی خریداری کیلئے ہزاروں روپے خرچ کرنے پر مجبور کیا جارہاہے۔
نوٹ :وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم کی مبینہ رپورٹ میں حوالے کے طور پر درجنوں مریضوں کی مکمل تفصیلات اور ان کے فون نمبر بھی شامل کیے گئے۔شکایات کا اندراج کرانے والے مریضوں اور ان کے لواحقین کی شناخت خفیہ رکھی گئی ہے ۔



