
افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر نئی سیاسی و عسکری کشمکش کا مرکز بنتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں طالبان انتظامیہ اور طالبان مخالف قوتوں کے درمیان باقاعدہ جھڑپوں کی اطلاعات نے خطے کے امن و امان کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔نام نہاد امارتِ اسلامیہ کی جانب سے اپنی دھرتی پر کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کو بلا روک ٹوک پناہ گاہیں، تربیتی مراکز اور مکمل سہولت کاری فراہم کرنے کے غیر ذمہ دارانہ رویے نے پہلے ہی پاک افغان سرحدی علاقوں کو کشیدہ بنا رکھا تھا اب افغانستان کے اندرونی محاذ پر عدم استحکام اور اقتدار کی اس بڑھتی ہوئی جنگ نے طالبان کی ناقص حکمتِ عملی اور یکطرفہ پالیسیوں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمسایہ ممالک کے جائز سیکیورٹی خدشات کو یکسر نظر انداز کرنے اور پاکستان جیسے خیر خواہ ملک کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرنے کا نتیجہ اب خود افغانستان کے اندر شدید انارکی اور بدامنی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ریاست پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی اور موقف بالکل درست اور مبنی بر حقیقت تھا۔افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان کی چوٹیوں اور دروں میں گونجتی گولیوں کی آوازیں اس بات کا روشن اور ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ طالبان کا جابرانہ، استبدادی اور غیر قانونی اقتدار شدید نوعیت کے داخلی و خارجی بحرانوں میں گھیر چکا ہے۔
طالبان مخالف مزاحمتی قوتوں اور مقامی آبادی کے ساتھ جاری مسلسل اور شدید جھڑپوں نے طالبان کے اس تمام تر من گھڑت سیکیورٹی بیانیے کا جنازہ نکال دیا ہے، جس کے تحت وہ گزشتہ کچھ عرصے سے عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے کہ انہوں نے تمام 34 صوبوں پر مکمل، پرامن اور بلا شرکتِ غیرے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ بدخشان میں سامنے آنے والی یہ نئی اور خوفناک صورتحال اس حقیقت کو بالکل واضح کرتی ہے کہ محض طاقت، بندوق اور جابرانہ قوانین کے زور پر قائم کیا گیا تسلط کبھی دیرپا استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتا اور طالبان کی نام نہاد سیکیورٹی کا پورا ڈھانچہ درحقیقت ریت کی دیوار سے زیادہ کچھ نہیں۔
طالبان کی حکومت کا سب سے بڑا مجرمانہ اور الم ناک پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی اقتدار، فسطائی سوچ اور قبائلی جمود کو دوام دینے کے لیے مقدس اسلامی اقدار کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا ہے۔ دینِ اسلام بنی نوع انسان کے لیے عدل، مساوات، علم، رحم دلی اور انسانی تکریم کا ابدی پیغام ہے۔
اسلام کا سب سے پہلا حکم "اقرأ” ہے اور علم کا حصول ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے برعکس طالبان نے طالبات کے لیے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے دروازے یکسر بند کر کے اور خواتین کو ملازمتوں سے محروم کر کے اسلامی تعلیمات کی روح کا کھلم کھلا مذاق اڑایا ہے۔
اسلام میں مساوات اور حق و انصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے جبکہ طالبان کا نظامِ عدل محض شک کی بنیاد پر سزاؤں، بغیر مقدمے کے سزائے موت اور اختلافِ رائے کو ظلم و تشدد سے دبانے کا نام بن چکا ہے۔ اسی طرح اسلامی ریاست میں اقلیتوں اور معصوم شہریوں کی جان، مال اور آبرو کی حفاظت کی ضمانت ہوتی ہے لیکن طالبان کے زیرِ سایہ مختلف قومی و مذہبی گروہوں کو جبری کوچ اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کہ خالصتاً اسلامی رواداری کے منافی ہے۔اگر انسانی حقوق کے زاویے سے دیکھا جائے تو موجودہ افغانستان ایک کھلی جیل اور انسانی حقوق کی سب سے بڑی مقتل گاہ کا منظر پیش کر رہا ہے۔
بدخشان سمیت تمام شمالی و مغربی اضلاع میں انسانی حقوق کی زبوں حالی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ سابق سیکیورٹی اہلکاروں، سول سوسائٹی کے ارکان اور اختلاف رکھنے والے شہریوں کے ماورائے عدالت قتل اور انہیں اغوا کر کے قتل کر دینا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ آزاد صحافت اور بولنے کی آزادی کو مکمل طور پر سلب کر لیا گیا ہے اور جن صحافیوں نے سچ لکھنے یا مظالم کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کی، انہیں بدترین تشدد اور قید و بند کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ معصوم دیہاتیوں کو صرف اس شک کی بنیاد پر کہ وہ مزاحمت کاروں کی مدد کر رہے ہیں، اجتماعی سزاؤں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پورا خطہ اس وقت بدترین خوف، ہراس اور مایوسی کے سایے میں سانس لے رہا ہے جسے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل ریکارڈ کر رہی ہیں لیکن طالبان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا۔اس تمام تر علاقائی اور انسانی بحران میں پاکستان کا کردار ہمیشہ ایک نہایت ذمہ دار، پرامن اور خیرخواہ پڑوسی کا رہا ہے۔
پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک نہ صرف لاکھوں افغان مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دی، ان کی معاشی و سماجی دیکھ بھال کی بلکہ افغانستان میں امن، بحالی اور عالمی سطح پر افغان عوام کی آواز بننے کے لیے تمام سفارتی اور اخلاقی وسائل وقف کر دیے تاہم اس بے مثال خیرسگالی اور قربانیوں کے بدلے طالبان حکومت کا رویہ پاکستان کے ساتھ انتہائی احسان فراموش اور شرمناک رہا ہے۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے نہ صرف پاکستان مخالف کالعدم اور شرپسند تنظیموں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں بلکہ ان کی سرپرستی کر کے پاکستان کی قومی سلامتی، پاک افغان سرحد کی حرمت اور پاکستانی شہریوں کے امن کو شدید خطرے میں ڈالا۔ طالبان کا یہ متعصبانہ، دوغلا اور معاندانہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی قسم کے پائیدار امن کے خواہاں نہیں ہیں اور پاکستان کی سلامتی و خطے کے استحکام کے لیے ان کا یہ طرزِ عمل ایک براہِ راست چیلنج بن چکا ہے۔
اب بدخشان سے اٹھنے والی یہ تازہ ترین فائرنگ اور مزاحمتی لہر اس بات کا واضح پیش خیمہ ہے کہ طالبان کا غیر قانونی اور غاصبانہ اقتدار اب داخلی سطح پر اپنی عوامی حمایت مکمل طور پر کھو چکا ہے۔ اسلام کی مسخ شدہ تعبیر، انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں، اپنے ہی عوام پر مظالم اور پاکستان جیسے محسن پڑوسی کے ساتھ معاندانہ پالیسیاں طالبان حکومت کے زوال کی بنیاد بن چکی ہیں۔ اگر طالبان نے اپنے اس سفاکانہ، فسطائی اور انتہا پسندانہ رویے کو فوری طور پر تبدیل نہ کیا، تو بدخشان کی ان برف پوش پہاڑیوں سے شروع ہونے والی یہ عوامی و مسلح مزاحمت ان کے غیر آئینی اور انسانیت سوز اقتدار کے تانے بانے بکھیر کر رکھ دے گی۔



