پاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریں

عمران خان کی رہائی ،5اگست کو ملک بھر میں یوم سیاہ:پی ٹی آئی

جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے:سلمان اکرم راجہ، نورین نیازی کا بیان پارٹی پالیسی نہیں،پارٹی لیڈرشپ ہمارے ساتھ نکلے اور احتجاج کی قیادت کرے: علیمہ خان

 

راولپنڈی،کراچی:(نیٹ نیوز)تحریک انصاف کے رہنماؤں نےکہاہے پارٹی آئین، جمہوریت، عوامی مینڈیٹ کی بحالی اور عمران خان کی رہائی کے لیے اپنی پرامن اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے اعلان کیا 5 اگست کو عمران خان کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہونے پر پاکستان تحریک انصاف ملک بھر میں یومِ سیاہ منائے گی۔

آئین، قانون کی بالادستی اور حقیقی جمہوریت کے لیے اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا جبکہ نوجوان بہتر روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں نے عام آدمی پر معاشی بوجھ مزید بڑھا دیا۔انہوں نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ اٹھارہ برسوں میں صوبے کے وسائل کو نقصان پہنچایا گیا، کاشتکار پانی کی قلت کا شکار ہیں جبکہ سڑکوں اور بنیادی انفراسٹرکچر کی صورتحال بھی تشویشناک ہے، سندھ کے عوام اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔

دریں اثناراولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر نے واضح کیا معرکہ حق سے متعلق نورین نیازی کا بیان پارٹی پالیسی نہیں،ہرپاکستانی کو معرکہ حق میں کامیابی پر فخر ہے، پاکستان کا دفاع مضبوط ہے،کوئی دشمن شکست نہیں دے سکتا،میری اطلاع کے مطابق نورین نیازی کا انٹرویو 3 ماہ پراناہے، یہ ان کےذاتی خیالات ہیں، ہم یہی کوشش کررہے تھےکہ حالات بہترہوجائیں، یہ ہی کہیں گے پرانی چیزوں کو نہ چھیڑا جائے، یہ وقت ایک فٹ پیچھےجانے کا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان کی وضاحت کی ہے، جوش خطابت میں کچھ چیزیں نکل جاتی ہیں لیکن جو غلط ہے غلط ہے۔ کچھ چیزوں پرلب کشائی نہیں ہونی چاہیے تاکہ حالات بہتری کی جانب جائیں،عمران خان کی بہن کو ہراساں نہ کریں، مولانا کے بیان کو چھوڑیں، ایک بیان سے دفاع پر آنچ نہیں آئے گی۔

ذاتی مفادات کو پیچھے رکھیں گے تو ملک مضبوط ہو گا اور یہ چیزیں بھی ختم ہوں گی، دہشتگردی پر بھی موقف کلیئر ہے کہ دہشتگردی ملک کے لئے ناسور ہے۔ قائمہ کمیٹیوں اور جوڈیشل کمیشن کا ہمارا بائیکاٹ ہے، ہمیشہ کہا ہے کہ مذاکرات ہوں، ابھی تک آزادکشمیرانتخابات کا بائیکاٹ کا فیصلہ ہے، اگر حالات بہتر ہوئے تو فیصلہ پر نظرثانی کی جاسکتی ہے۔

ہم مذاکرات کی طرف ابھی تک بڑھے ہی نہیں،پہلے کہا مذاکرات پیشکش کی حد تک ہیں ، اگر میٹنگ ہوتی تو کچھ چیزیں طے ہوتی، میری خواہش ہے سیاسی مسائل کا لانگ ٹرم سیاسی حل نکالا جائےتاکہ ملک بھی ان حالات سے نکل جائے۔

علیمہ خان نے کہا پی ٹی آئی قیادت سے کہتی ہوں آپ بھی ہمارے ساتھ نکلیں، ہم اکیلے کتنا کر سکتے ہیں؟ اپنے ایم پی ایز، ایم این ایز کو کہتے ہیں آگے آئیں اور احتجاج کی قیادت کریں۔

اڈیالہ روڈ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفت گو میں انہوں نے کہا عمران خان کس حال میں ہیں؟ اس بارے میں ایک لفظ کی بھی معلومات نہیں، یہ عالمی و مقامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، جس جج نے عمران خان کے خلاف فیصلہ دیا اسے اعلی عدلیہ کا جج بنا دیا گیا،ہم اپنے بھائی کے لیے نکلے ہیں ،لوگوں کا جذبہ دیکھ کر ہمیں بھی حوصلہ ملا۔

ہر شہر سے لوگ ہمیں آنے کی دعوت دے رہے ہیں، بیرسٹر گوہر سے ملاقات میں یہی بات ہوئی تھی کہ کیا لائحہ عمل ہونا چاہیے، بیرسٹر گوہر علی نے یقین دلایا کہ ہم حکومت پر دبائو ڈالیں گے کہ بانی کا علاج اور ملاقاتیں ہوں، عدالتی احکامات کے مطابق 18 لوگ ہفتے میں ملیں گے تو حقوق بحال ہوں گے،کے پی میں جب اچھا کام ہو رہا ہے اس پر میڈیا کبھی بات نہیں کرے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button