پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

حق مہر کی عدم ادائیگی شادی ختم کرنے کی بنیاد ہے:سپریم کورٹ

اسلام آباد:(ویب ڈیسک ) چیف جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے کہا ہے درخواست گزارخود باہر ہیں اور بیگم کووالدین کے گھر نہیں جانے دیتے ، کیا وہ خدمت کرے گی، سپریم کورٹ حقائق کے تعین میں نہیں جائے گی، دوعدالتوں نے حقائق کاتعین کردیا ہے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے حق مہر کی عدم ادائیگی شادی ختم کرنے کی بہت بڑی بنیاد ہے، اس حوالہ سے سپریم کورٹ بے شمار فیصلے دے چکی ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے جمعہ کے روز کیسز کی سماعت کی۔بینچ نے چیک بائونس ہونے کے کیس میں محمد زاہد کی جانب سے ریاست پاکستان اوردیگر کے خلاف درخواست ضمانت بعد ازگرفتاری پرسماعت کی۔ بینچ نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض درخواست گزار کی ضمانت بعد ازگرفتاری منظور کرلی۔

بینچ نے امدادحسین کی جانب سے جہیز کے سامان کی واپسی کے معاملہ پر دائر درخواست پر نوٹس جاری کردیا۔ بینچ نے محمد نعمان کی جانب سے مسمات ماریہ انوار اوردیگر کے خلاف شادی ختم ہونے اور نان نفقہ اور حق مہر کی ادائیگی کے معاملہ پر دائر درخواست پرسماعت کی۔

جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھاظالمانہ رویہ کی بنیاد پر عدالت نے شادی ختم کی، عدالت نے درخواست خارج کردی۔

بینچ نے ملک شکیل کی خیر محمد کے خلاف حق مہر کی رقم کی وصولی کے لئے دائر درخواست پرسماعت کی۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا تین عدالتوں کافیصلہ ہے جوبات آپ کہہ رہے ہیں وہ درست نہیں، اپنے ماموں سے پیسے لیں ، اِدھر یہ کیسز نہ لائیں، درخواست گزار کے ماموں نے تنازعہ ختم کروایا اور درخواست گزار نے اسی کے خلاف کیس دائر کردیا۔

چیف جسٹس کافیصلہ لکھواتے ہوئے کہنا تھامدعا علیہ نے درخواست گزارکی شادی کاتنازعہ ختم کرنے کیلئے 8لاکھ روپے اداکئے، تینوں عدالتوں نے اسے تسلیم کیا،بینچ نے درخواست ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کردی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button