انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینکاروبار

شرح سود 11.5 فیصد برقرار ،مہنگائی ہدف سے بلندرہنے کا امکان:سٹیٹ بینک

معاشی اشاریوں میں بہتری، موجودہ شرح سود وسط مدتی بنیادوں پر مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک لانے کیلئے موزوں : زری پالیسی کمیٹی

کراچی:(ویب ڈیسک) سٹیٹ بینک آف پاکستان کی زری پالیسی کمیٹی نے متفقہ طور پر پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق اگرچہ گزشتہ اجلاس کے بعد ملکی معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھی گئی ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور دیگر بیرونی خطرات کے باعث محتاط زری پالیسی برقرار رکھنا ضروری ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق جون 2026ء میں عمومی اور بنیادی مہنگائی میں کچھ کمی آئی، تاہم دونوں اب بھی بلند سطح پر موجود ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ موجودہ شرح سود وسط مدتی بنیادوں پر مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک لانے کیلئے موزوں ہے۔

اعلامیہ میں بتایا گیا کہ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر جون 2026ء کے اختتام پر 18 ارب ڈالر کے ہدف سے تجاوز کر گئے، جبکہ عالمی ریٹنگ ایجنسی سٹینڈرڈ اینڈ پورز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بہتر کرتے ہوئے "بی” کر دی ہے۔ اس کے علاوہ صارفین اور کاروباری اداروں کے حالیہ سروے میں مہنگائی کی توقعات میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔

زری پالیسی کمیٹی نے کہا کہ محتاط مالیاتی اور زری پالیسیوں کے باعث عالمی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت میں استحکام برقرار رہا ہے۔ کمیٹی نے مالیاتی اصلاحات، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔اعلامیہ کے مطابق مالی سال 2026ء کی آخری سہ ماہی میں معاشی سرگرمیوں کی رفتار نسبتاً سست رہی، تاہم جون کے دوران گاڑیوں کی فروخت، سیمنٹ کی ترسیل، کھاد کے استعمال اور دیگر معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھی گئی۔

سٹیٹ بینک نے مالی سال 2027ء میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلیوں سے وابستہ خطرات برقرار ہیں۔بیرونی شعبے کے حوالے سے بتایا گیا کہ مالی سال 2026ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صرف 139 ملین ڈالر رہا، جبکہ ریکارڈ ترسیلاتِ زر نے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے اثرات کو بڑی حد تک متوازن رکھا۔

سٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ مالی سال 2027ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہے گا اور زرمبادلہ کے ذخائر دسمبر 2026ء تک بڑھ کر 20.2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ ایف بی آر نے مالی سال 2026ء کا نظرثانی شدہ ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کر لیا ہے اور آئندہ مالی سال میں بھی مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں اضافہ، درآمدی ٹیرف میں اصلاحات اور بجٹ میں دی گئی مراعات سے معاشی سرگرمیوں کو مزید تقویت ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق آئندہ چند ماہ کے دوران غذائی اشیا، توانائی کی عالمی قیمتوں اور پیداواری لاگت کے دباؤ کے باعث مہنگائی ہدف سے بلند رہ سکتی ہے۔ تاہم توقع ہے کہ جون 2027ء تک افراطِ زر بتدریج کم ہو کر 5 سے 7 فیصد کے ہدف کی بالائی حد کے قریب آ جائے گی۔ تاہم عالمی توانائی کی قیمتوں، موسمی حالات اور مالیاتی خطرات اس منظرنامے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button