پاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریں

ڈی ایم جی،پولیس گروپ میں درپردہ مقابلہ اور’’ مینگوڈپلومیسی‘‘

نئے چیف سیکرٹری اور آئی جی کیلئے جلد انٹرویوزمتوقع،وزیراعلیٰ کی گڈبک میں شمولیت کیلئے لابنگ تیز،محرم کی آمد سے قبل ازسرنوسکیورٹی پلان کی تیاریاں

لاہور(اسد مرزا)پنجاب پولیس پر کاری ضرب لگانے کیلئے ایک بار پھر ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ (ڈی ایم جی گروپ)متحرک ہوگیا ہے، اِس بار ڈی ایم جی گروپ چاہتا ہے کہ پنجاب پولیس کا انٹیلی جنس سسٹم وزیراعلیٰ پنجاب کے سیکرٹریٹ کے ماتحت کردیا جائے اور یہ براہ راست وزیراعلیٰ پنجاب کو جوابدہ ہو۔

یہی نہیں بلکہ ڈی ایم جی گروپ نے پورا سٹرکچر بھی سوچ رکھا ہے کہ یہاں ایڈیشنل آئی جی کی سیٹ ڈائریکٹر جنرل کی ہو، جس پر ڈی ایم جی گروپ کا ہی افسر تعینات ہو، ماضی میں بھی متعدد بار ڈی ایم جی گروپ پنجاب پولیس میں ’’نقب‘‘ لگانے کی کوشش کرچکا ہے، لیکن اِسے خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی ۔

واضح رہے کہ پولیس کا انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ پنجاب بھر کے تمام محکموں کی سرویلنس کرتا ہے، یہ افسران و ملازمین کی کارکردگی ، کرپشن، سیاسی تعلقات اور ایسے تمام معاملات کی خفیہ رپورٹس پنجاب پولیس کے مجاز افسران کو پیش کرتا ہے، اور یہ رپورٹس اِن افسران کی ترقی اور دوسرے معاملات پر واضح طور پر اثر انداز ہوتی ہیں، لہٰذا ڈی ایم جی نے نئی کوشش میں فوکس ہی ایڈیشنل آئی جی؍ ڈائریکٹر جنرل کی سیٹ پر رکھا ہے، تاکہ ایسی تمام خفیہ رپورٹس ڈی ایم جی گروپ کے افسر کے ہاتھ سے ہی گزر کر وزیراعلیٰ اور دیگر حکام تک پہنچیں، لہٰذا اِس بار یہ کوشش کتنی بارآور ثابت ہوتی ہے، یہ وقت آنے پر ہی پتا چلے گا۔ پس اب پولیس گروپ اور ڈی ایم جی گروپ دونوں میں اختیارات چھیننے اور بچانے کا درپردہ مقابلہ ہورہا ہے۔

انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اپنی مقررہ معیاد دو سال زائد ہونے کے باوجود آئی جی پنجاب کا منصب سنبھالے ہوئے ہیں، لیکن اُن کے سنیئرز اور سالہاسال سے آئی جی پنجاب کیلئے قطار میں کھڑے افسران ڈاکٹر عثمان انور سے ناراض ہیں ، اور یہ افسران اِس لئے تحریک انصاف کے دور کو اچھا گردانتے ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران تین سے پانچ ماہ کے بعد آئی جی پنجاب تبدیل کردیاجاتا اور نئے افسر کو آئی جی پنجاب پولیس کا منصب مل جاتا۔

گرم گرم خبر ہے کہ پنجاب کے نئے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف جلد افسران کے انٹرویوز کاآغاز کرسکتی ہیں، آئی جی پنجاب کیلئے بہت سے افسران سردھڑ کی بازی لگارہے ہیں، اپنی اپنی لابی بنائی جارہی ہے، تاکہ کسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی ’’گڈ بک‘‘ میں جگہ مل سکے اور آئی جی کا منصب انہیں ہی ملے، یہی نہیں بلکہ ایک پولیس افسر نے اپنی لابی بنانے کیلئے جنوبی پنجاب سے اعلیٰ اقسام کے دنیا بھر میں مشہور آموں کی پیٹیاں بُک کرادی ہیں تاکہ اعلیٰ پولیس افسران اور سیاسی شخصیات کو بھیجی جاسکیں۔

موصوف توقع کررکھے ہیں کہ اِس ’’مینگوڈپلومیسی‘‘ کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہونگے اوراِن کی مُراد پوری ہوگی، ویسے پہلے بھی وہ افسران کو آم بھجوانے کیلئے مشہور تھے، لیکن اِس بار باقاعدہ افسران کی طویل فہرست تیار کی گئی ہے، تاکہ کہیں سے تو ’’فیض‘‘ ملے۔ اور شنید ہے کہ کچھ اور’’ اناڑی‘‘افسران نے بھی جنوبی پنجاب کے میٹھے اور نسلی آموں کی پٹیاں بُک کرانا شروع کردی ہیں تاکہ ’’آم‘‘ اُن کے کام آسکیں ، واضح رہے کہ پہلے سیاست دان ’’مینگوڈپلومیسی‘‘ اور ’’مینگو پارٹی ‘‘ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرتے تھے، اب پولیس کے کچھ اعلیٰ افسران نے بھی اِس ’’مینگوڈپلومیسی‘‘ کا آغاز کردیا ہے۔ لیکن ! آئی جی پنجاب کیلئے موجودہ آئی جی ریلوے رائے طاہر اور سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ فیورٹ قرار دیئے جارہے ہیں ۔

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اِن دنوں ترکی کے سرکاری دورہ پر ہیں، وہ پنجاب پولیس کو بین الاقوامی معیار اور جدید سہولتوں سے آراستہ کرنے کیلئے جدید سازو سامان سمیت افسران و اہلکاروں کی ترک ٹرینرز سے تربیت کا ارادہ رکھتے ہیں، اِس کے علاوہ ڈاکٹر عثمان انور سوشل میڈیا پر پولیس کی کارکردگی پر غلط تنقید کرنیوالوں کی ’’گلاگھونٹنے‘‘ کیلئے ’’پراکسی فلٹرز‘‘اور جدید سافٹ ویئرز کی خریداری کا بھی ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ لوگوں نے سوشل میڈیا پر پولیس کے امیج کو خاصا نقصان پہنچایا ہے اور یہ سلسلہ تاوقت جاری ہے۔

آخر میں ایک ضروری خبرکہ محرم الحرام کی آمد سے قبل سکیورٹی کے تمام ادارے سرجوڑ کر بیٹھ گئے ہیں، کیونکہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایران، اسرائیل جنگ کے باعث اِس بار زائرین ایران میں عاشورہ کیلئے نہیں جاسکیں گے ، لہٰذا یہاں ماتمی جلوسوں میں غیر معمولی رش ہوگا اِس لئے اِس صورتحال کو کیسے کنٹرول کیا جائے، اِن دنوں یہی حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے، پولیس اور خفیہ ادارے کسی بھی شرپسندی سے ماتمی جلوسوں کے شرکاء کو بچانے کیلئے ازسرنو سکیورٹی پلان ترتیب دے رہے ہیں، اِس ضمن میں صوبائی، ضلعی اور مقام امن کمیٹیوں سے ملاقاتیں کی جارہی ہیں تاکہ شرپسندوں کو نکیل ڈالی جاسکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button