لاہور (بیورو چیف/سید ظہیر نقوی) لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے 14 بچوں کو آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
نماز جنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ لواحقین غم سے نڈھال اور علاقے کی فضا سوگوار رہی۔ ہر آنکھ اشکبار دکھائی دی۔
چھت گرنے کا مقدمہ درج، 5 افراد نامزد
پولیس نے کاہنہ ٹیوشن سینٹر حادثے کا مقدمہ انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔
مقدمے میں مالک مکان سمیت پانچ افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
نواز شریف کا اظہار افسوس
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے سانحہ کاہنہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق ہونے والے معصوم بچے قوم کا مستقبل تھے، ان کی المناک موت انتہائی دلخراش ہے۔
اپنے بیان میں نواز شریف نے کہا کہ ان کی ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں اور وہ اس غم میں برابر کے شریک ہیں۔
پنجاب حکومت کا مالی امداد کا اعلان
پنجاب حکومت نے سانحہ کاہنہ کے متاثرہ خاندانوں کیلئے مالی امداد کا اعلان کر دیا ہے۔
حکومت کے مطابق:
- جاں بحق ہونے والے ہر بچے کے لواحقین کو 20،20 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
- زخمی افراد کو 5،5 لاکھ روپے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی مشیر ذیشان ملک کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد کی ادائیگی کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں اور امدادی عمل جلد شروع کیا جائے گا۔
پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع
سانحہ کاہنہ پر پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع کرا دی گئی ہے۔
قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی سلمیٰ سعید نے جمع کرائی، جس میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔
زخمی ٹیچر نے بتایا حادثے کا احوال
حادثے میں زخمی ہونے والی ٹیچر انیلا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ مالی حالات بہتر نہ ہونے کے باعث وہ بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہیں، ان کے شوہر منڈی کے قریب ریڑھی لگاتے ہیں۔
ٹیچر انیلا کے مطابق وہ گزشتہ دو سال سے بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی تھیں، جہاں مجموعی طور پر 30 سے 35 بچے آتے تھے، جبکہ حادثے کے روز 20 سے 22 بچے موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ بارش کے باعث چھت ٹپک رہی تھی اور مرمت کا کام شروع کیا گیا تھا، تاہم انہیں اندازہ نہیں تھا کہ چھت گر جائے گی۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمی ٹیچر کی حالت خطرے سے باہر ہے جبکہ ان کی بیٹی بھی صحت یاب ہو کر گھر منتقل ہو چکی ہے۔
مکان مالک کا بیان سامنے آگیا
حادثے میں گرفتار مکان مالک نے ابتدائی بیان میں کہا کہ غربت کے باعث وہ چھت کی مرمت نہیں کرا سکا تھا۔
واقعے کے بعد قانونی کارروائی جاری ہے۔
ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیز کا ہنگامی سروے شروع
سانحہ کاہنہ کے بعد ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے شہر بھر میں قائم ٹیوشن سینٹرز، اکیڈمیز اور تعلیمی عمارتوں کا ہنگامی سروے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن اتھارٹی لاہور طارق محمود کے مطابق سروے تین روز میں مکمل کیا جائے گا۔
سروے کے دوران:
- عمارتوں کی حالت کا جائزہ لیا جائے گا۔
- حفاظتی معیار چیک کیا جائے گا۔
- زیر تعلیم بچوں کی تعداد کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق سروے رپورٹ کی بنیاد پر ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیز کی رجسٹریشن سے متعلق نئی پالیسی مرتب کی جائے گی۔
ضلعی انتظامیہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ بغیر اجازت گھروں میں ٹیوشن پڑھانے والوں کے خلاف جرمانے کیے جائیں گے۔



