انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

لالہ حنید، سکیورٹی گارڈ، پستول اور خالی پٹا ، ایک بے بس چیخ

عاصم رضا خیالوی

قوموں کی ترقی صرف بلند و بالا عمارتوں، کشادہ شاہراہوں اور چمکتے شہروں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ ان کے سب سے کمزور شہری کی زندگی کتنی محفوظ، باوقار اور آسودہ ہے۔ اگر ایک مزدور، ایک سکیورٹی گارڈ، ایک ریڑھی بان یا ایک دیہاڑی دار اپنی محنت کی کمائی سے اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی، تعلیم اور علاج فراہم نہ کر سکے تو ترقی کے تمام دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔
آج پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے بھاری قرض لیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی اخراجات عام آدمی کی برداشت سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ بجلی، گیس، پانی، تعلیم اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایک ایسے طبقے کو کچل رہی ہیں جو نہ احتجاج کر سکتا ہے، نہ بیرونِ ملک سرمایہ منتقل کر سکتا ہے، اور نہ ہی طاقت کے ایوانوں تک اس کی آواز پہنچتی ہے۔

یہ تحریر کسی رپورٹ یا سرکاری اعداد و شمار سے نہیں، بلکہ ایک ایسے منظر سے جنم لیتی ہے جو شاید اس ملک کے لاکھوں محنت کشوں کی مشترکہ داستان ہے۔

والدہ کی دوائیں لینے کے لیے ایک میڈیکل سٹور گیا۔ اندر غیر معمولی رش تھا، اس لیے میں انتظار کرنے کے لیے سٹور کے باہر کھڑا ہو گیا۔ نظریں کبھی اندر قطار میں کھڑے لوگوں پر جاتیں اور کبھی اردگرد کے ماحول پر۔ اسی دوران سٹور کے دوسری جانب کھڑے ایک سکیورٹی گارڈ پر بار بار میری نظر پڑی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے وہ بھی خاموشی سے مجھے دیکھ رہا ہو۔

میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ اس نے ادب سے اپنی کرسی چھوڑتے ہوئے کہا، "صاحب، آپ یہاں بیٹھ جائیں۔”
میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "نہیں بھائی، آپ ہی بیٹھیں۔”

چند لمحوں بعد وہ آہستہ آہستہ اپنے دل کا بوجھ اتارنے لگا۔”صاحب! پندرہ ہزار روپے بجلی کا بل آیا ہے، گروسری کا خرچ الگ ہے، گیس اور پانی کے بل بھی ادا کرنے ہیں، بچے سکول جاتے ہیں، لیکن میری تنخواہ صرف چالیس ہزار روپے ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ پہلے بل دوں یا بچوں کے لیے روٹی خریدوں۔”

میں نے پوچھا، "تمہارے مالک کیسے ہیں؟ کیا وہ تمہارا خیال نہیں رکھتے؟”وہ بولا، "مالک اچھے ہیں، مسئلہ ان سے نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ میری ضرورتیں میری تنخواہ سے کہیں زیادہ ہو چکی ہیں۔”میں اس کی باتیں سن رہا تھا، مگر میری نظریں مسلسل اس کے ہاتھ میں موجود لائسنس یافتہ پستول اور اس کے سینے پر بندھے گولیوں سے خالی پٹے پر تھیں۔

اس لمحے میرے سامنے صرف ایک سکیورٹی گارڈ نہیں کھڑا تھا بلکہ پورا معاشی نظام کھڑا تھا۔میں سوچنے لگا، یہ شخص چاہے تو اپنے ہاتھ میں موجود اسلحے کا غلط استعمال بھی کر سکتا ہے، مگر وہ ایسا نہیں کرتا کیونکہ اس کی ایمانداری، اس کی تربیت اور اس کا ضمیر ابھی زندہ ہے۔ اس کے ہاتھ میں موجود پستول جرم کی علامت نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری کی علامت ہے، اور اس کا خالی پٹا شاید اس بات کی علامت ہے کہ اس کے سینے میں ابھی بھی قانون، اخلاق اور حلال رزق کی گولیاں باقی ہیں۔

لیکن ریاستوں کو ہمیشہ یہ سوال اپنے سامنے رکھنا چاہیے کہ اگر ایک دن معاشی دباؤ، بھوک، بے روزگاری اور ناامیدی لوگوں کی برداشت سے بڑھ جائے تو کیا صرف قانون و نفاذ سے معاشرہ محفوظ رہ سکتا ہے؟

ریاست کی سب سے بڑی ذمہ داری صرف جرائم پیش آنے کے بعد کارروائی کرنا نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن میں جرائم جنم ہی نہ لیں۔
میرا اختلاف تعمیر و ترقی سے ہرگز نہیں۔ سڑکیں بننی چاہئیں، پل بھی بننے چاہئیں، شہروں کو جدید بھی ہونا چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ترقی کا مرکز انسان ہے یا صرف کنکریٹ؟
اگر ایک طرف نئی شاہراہیں بن رہی ہوں اور دوسری طرف ایک مزدور اپنے بچوں کی فیس ادا نہ کر سکے، اگر مارکیٹوں کے اوقات محدود ہونے سے چھوٹے ملازمین کی نوکریاں ختم ہو جائیں، اگر ریڑھی بان، خوانچہ فروش اور دیہاڑی دار روزگار سے محروم ہوتے جائیں، تو پھر ترقی کے ماڈل پر سوال اٹھنا ایک فطری عمل ہے۔

دنیا میں وہی ممالک آگے بڑھے جنہوں نے اپنی ترجیحات درست کیں۔جنوبی کوریا کبھی جنگ سے تباہ حال ملک تھا، مگر اس نے تعلیم، صنعت، تحقیق اور انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کی۔ آج وہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔

سنگاپور کے پاس نہ تیل تھا، نہ گیس، نہ وسیع زرعی زمینیں اس نے شفاف حکمرانی، قانون کی بالادستی، میرٹ اور انسانی سرمایہ کو اپنی طاقت بنایا اور چند دہائیوں میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو گیا۔

ملائیشیا نے اپنی صنعتی پالیسی، برآمدات اور ہنرمند افرادی قوت پر توجہ دی، جبکہ چین نے دیہی معیشت، صنعت، انفراسٹرکچر اور برآمدات کو متوازن انداز میں ترقی دے کر کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا۔

پاکستان کو قدرت نے ان ممالک سے کہیں زیادہ نعمتیں عطا کی ہیں۔ زرخیز زمینیں، دریا، سمندر، معدنی وسائل، نوجوان آبادی اور جغرافیائی اہمیت؛ مگر یہ تمام وسائل اسی وقت قوم کی طاقت بنتے ہیں جب ان کا استعمال دیانت، منصوبہ بندی اور قومی مفاد کے تحت کیا جائے۔زرعی زمینوں کو بے تحاشا ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل کرنا، پیداوار سے زیادہ غیر پیداواری شعبوں پر انحصار، اور انسانی ترقی کے بجائے وقتی معاشی فیصلے کسی بھی ملک کی بنیادوں کو کمزور کر سکتے ہیں۔

اسی طرح چھوٹے کاروبار، ریڑھی بان، دکاندار، سکیورٹی گارڈ، مزدور اور نجی شعبے کے کم آمدنی والے ملازمین صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اگر یہی طبقہ معاشی دباؤ کے نیچے ٹوٹ گیا تو اس کا اثر پورے معاشرے پر پڑے گا۔

ریاست کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ایک محنت کش اپنے بچوں کی تعلیم، علاج اور بنیادی ضروریات پوری کرتے ہوئے عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ جب نوجوان قرض لینے کے بجائے کاروبار قائم کرنے کے قابل ہوں۔ جب کسان اپنی زمین بیچنے کے بجائے اس سے منافع کمانے پر فخر کرے۔ جب سرمایہ کاری کا رخ پیداوار، صنعت، زراعت اور ٹیکنالوجی کی طرف ہو۔

میں جب اس میڈیکل سٹور سے واپس لوٹا تو میرے ذہن میں لالہ حنید کا چہرہ بار بار گردش کر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں پستول تھا، مگر اس کی آنکھوں میں جرم نہیں، صرف بے بسی تھی۔ اس کے سینے پر خالی پٹا تھا، مگر اس کے دل میں ایمانداری ابھی بھی زندہ تھی۔

ریاستوں کے لیے اصل خطرہ وہ نہیں جو ہتھیار اٹھا لیتے ہیں اصل خطرہ وہ دن ہوتا ہے جب محنت، دیانت اور امید ہار ماننے لگیں۔
اگر ہم نے آج عام آدمی کی آواز نہ سنی، اگر ہم نے معاشی انصاف، روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کو قومی ترجیح نہ بنایا، تو آنے والی نسلیں ہم سے یہی سوال کریں گی کہ جب ملک کے محنت کش خاموشی سے مدد مانگ رہے تھے، تب اقتدار کے ایوان آخر کس چیز کی تعمیر میں مصروف تھے؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button