انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

آدم خور

عاصم رضا خیالوی

بچپن کی وہ راتیں آج بھی ذہن میں تازہ ہیں جب ہم اپنے بزرگوں کے پاس بیٹھ کر دیو، جن، پریوں اور خوفناک مخلوقات کی کہانیاں سنا کرتے تھے۔ ان کہانیوں میں سب سے زیادہ خوف “آدم خور” کا تھا—ایسی مخلوق جو انسان کی شکل میں دکھائی دیتی تھی، مگر حقیقت میں انسان نہیں ہوتی تھی۔ وہ انسانوں کا شکار کرتی تھی، ان کا گوشت کھاتی تھی، اور جنگلوں، پہاڑوں یا غاروں میں چھپی رہتی تھی۔ ہم ڈرتے تھے کہ کہیں وہ ہمارے شہروں میں نہ آ جائے۔
آج سمجھ آتا ہے کہ وہ کہانیاں محض بچوں کو ڈرانے کے لیے نہیں تھیں، بلکہ ایک علامت تھیں۔ آدم خور واقعی موجود ہیں، مگر اب وہ جنگلوں میں نہیں رہتے۔ وہ دنیا کے طاقتور ترین ایوانوں میں بیٹھے ہیں۔ وہ شیشے کے محلات، پارلیمانوں، عالمی اداروں، اقوامِ متحدہ کے ہالز، فوجی ہیڈکوارٹرز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بورڈ رومز میں رہتے ہیں۔
یہ وہ آدم خور ہیں جو اقوامِ متحدہ میں قراردادیں پاس بھی کرتے ہیں اور روک بھی دیتے ہیں۔ ایک ویٹو کے ذریعے کسی قوم کو زندگی بھی دے سکتے ہیں اور موت کے حوالے بھی کر سکتے ہیں۔ فلسطین ہو، یمن ہو، شام ہو، کشمیر ہو یا افریقہ کے بھوکے بچے—ان سب کی قسمت چند آدم خوروں کے قلم، مفاد اور سیاسی کھیل پر منحصر ہوتی ہے۔
یہ لوگ جنگیں لگاتے ہیں، نفرتیں پیدا کرتے ہیں، قوموں کو آپس میں لڑاتے ہیں۔ ان کے لیے انسان اہم نہیں، بلکہ انسان کا گوشت اہم ہے—یعنی اسلحہ کی فروخت، جنگی معیشت، قرضے، پابندیاں اور اقتدار کی سیاست۔ انہیں انسانوں سے محبت نہیں، انسانی لاشوں سے محبت ہے۔ انہیں شہروں کا ملبہ، بچوں کی لاشیں، عورتوں کے آنسو اور مہاجرین کے قافلے پسند ہیں، کیونکہ انہی سے ان کی طاقت اور تجارت چلتی ہے۔
فطرت نہیں بدلتی۔ بکرے کا گوشت کھانے والا بکرے کا گوشت ہی کھاتا ہے، اور آدم خور آدم کے پیچھے ہی پڑا رہتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج کے آدم خور مہذب زبان، قانون، میڈیا اور انسان دوستی کے پردے میں چھپے ہوئے ہیں۔
اور پھر حالیہ دنوں سامنے آنے والے “ایکسٹریم فائل” جیسے اسکینڈلز نے آدم خوروں کے ایک اور بھیانک چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے—اخلاقی اور تہذیبی درندگی کا چہرہ۔ ایسے طاقتور افراد جو یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اپنی جوانی، خوبصورتی اور خواہشات کو زندہ رکھنے کے لیے وہ ہر حد پار کر سکتے ہیں۔ جن کے ذہنوں میں یہ زہر بھر دیا گیا کہ کمزور اور بے آواز انسان ان کی خواہشات کا ایندھن ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو خود کو ترقی یافتہ، جدید اور مہذب کہتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ اپنی ہی انسانیت کو کھا رہے ہیں۔ وہ خود کو طاقتور سمجھتے سمجھتے اپنی روح، اخلاق اور وجود کو کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ آدم خور جو اب گوشت صرف جنگ میں نہیں کھاتے، بلکہ انسان کی عزت، معصومیت اور روح کو بھی نگل رہے ہیں۔
اصل جنگ سرحدوں پر نہیں ہونی چاہیے، اصل جنگ غربت، جہالت، بیروزگاری اور ناانصافی کے خلاف ہونی چاہیے۔ مگر آدم خوروں کو امن سے خوف آتا ہے، کیونکہ امن ان کے ہتھیاروں، سازشوں اور کاروبار کو ختم کر دیتا ہے۔ انہیں جنگ کی آگ چاہیے، کیونکہ اسی آگ میں ان کی سیاست، صنعت اور سلطنت زندہ رہتی ہے۔
اگر انسان نے ان آدم خوروں کو نہ پہچانا، اگر ہم نے طاقت اور خواہش کے اس وحشی فلسفے کو نہ روکا، تو یہ درندے صرف ہماری سرحدیں نہیں، ہماری تہذیب، اخلاق اور نسلیں بھی نگل جائیں گے۔ ہمیں ایک نیا بیانیہ قائم کرنا ہوگا—امن، اخلاق، تعلیم اور انسانیت کا بیانیہ۔ تاکہ آنے والی نسلیں آدم خوروں کو صرف کہانیوں میں پڑھیں، حقیقت میں نہیں۔
اگر آج ہم بیدار ہو جائیں، تو کل کا بچہ آدم خور کی کہانی صرف ایک پرانا ڈراؤنا خواب سمجھے گا—نہ کہ روزمرہ کی زندہ حقیقت۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button