انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادب

شارجہ عالمی کتاب میلہ میں بزم اُ ردو کے زیر اہتمام ‘‘ مشاعرہ زند ہ دلان ‘‘ کا شاندار انعقاد

پاکستان کے نامور ادیب عطا الحق قاسمی اور انور مقصود کو ’’جوش اردو ایوارڈ ‘‘ سے نوازا گیا

شارجہ(حافظ زاہد علی )شارجہ ایکسپو سینٹر کی پروقار فضا ۹ نومبر کی شام اس وقت اردو ادب کے قہقہوں، سنجیدہ فکر اور زبان کی چاشنی سے مہک اٹھی جب بزمِ اُردو دبئی نے شارجہ بک اتھارٹی کے اشتراک سے اپنی سالانہ "محفلِ اُردو” کا انعقاد کیا۔ علامہ اقبال کے یومِ پیدائش پر منعقدہ یہ شام، اردو کے حسن، فکرِ اقبال اور مزاح کے رنگوں کا ایک ناقابلِ فراموش امتزاج ثابت ہوئی۔اس محفل کا نقطۂ عروج پاکستان کے معروف دانشور، مصنف اور فن کار جناب انور مقصود کی شرکت تھی۔

عطا الحق قاسمی ، پاپولر میر ٹھی ، سر یندر شرما ، انعام الحق جاوید ، ڈاکٹرزبیر فاروق العرشی ، ڈاکٹر طاہر شہیر نے کلام سنایا

جنہیں "جوشِ اُردو ایوارڈ ۲۰۲۵” سے نوازا گیا۔جیسے ہی انور مقصود اسٹیج پر تشریف لائے، شارجہ ایکسپو سینٹر کا وسیع ہال حاضرین کے پرجوش نعروں اور تالیوں سے گونج اٹھا۔ یومِ اقبال کی مناسبت سے، انور مقصود نے اپنے مخصوص، گہرے طنزیہ اور فکری انداز میں علامہ کے پیغام کو عصری تناظر میں پیش کیا۔ انہوں نے جب علامہ اقبال کا ایک فرضی خط حاضرین کے نام پڑھ کر سنایا تو سامعین نہ صرف محظوظ ہوئے بلکہ ان کے عمیق، شعور انگیز جملوں نے انہیں لمحۂ فکریہ بھی عطا کیا، جس سے محفل کا ادبی وقار بلند تر ہو گیا۔


"مشاعرہ زندہ دلان” نے سماں باندھ دیااس شام کا دوسرا نمایاں پہلو "مشاعرہ زندہ دلان” تھا، جس نے شگفتہ بیانی اور مزاحیہ شاعری کی اس عظیم روایت کو زندہ کر دیا جس کی بنیاد دہائیوں قبل رکھی گئی تھی۔ ہندوستان اور پاکستان سے تشریف لائے نامور شعرا نے محفل میں سماں باندھ دیا۔معروف اسٹینڈ اپ کامیڈین رحمان خان کی برجستہ نظامت میں، عطا الحق قاسمی، پاپولر میرٹھی، سریندر شرما، انعام الحق جاوید، ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی، ڈاکٹر طاہر شہیر، اور جناب ٹیپیکل جگدیالی نے اپنے فن پاروں سے حاضرین کو قہقہے لگانے پر مجبور کر دیا۔


شاداب اُلفت نے مشاعرے کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ رات گئے تک ہال تالیوں اور بے ساختہ داد و تحسین سے گونجتا رہا۔ایوارڈز، مجلہ اور کتب کی رونمائیتقریب میں دیگر ادبی ایوارڈز بھی پیش کیے گئے۔ "جوشِ اُردو ایوارڈ ۲۰۲۴” ممتاز ادیب و مزاح نگار عطا الحق قاسمی کے نام رہا۔ "علمدارِ اردو ایوارڈ ۲۰۲۵” معروف محقق و ماہرِ تعلیم سعید عالم کو پیش کیا گیا، جب کہ "پاسبانِ اردو ایوارڈ ۲۰۲۵” ہندوستان کی معروف ادیبہ چھبی سکسینہ صبا کو دیا گیا۔


اس موقع پر بزمِ اردو کے سالانہ مجلہ (عادل سرور نیپالی کی زیرِ نگرانی) اور بزم کے ذیلی ادارے "گوشۂ کتب” کے تحت شائع ہونے والی متعدد نئی کتابوں کی رونمائی بھی کی گئی، جو ادب کے فروغ کے لیے ادارے کی سنجیدہ کاوشوں کا مظہر ہے۔عہدیداران کے تاثراتاس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بزمِ اردو کے صدر، شکیل احمد خان نے شارجہ بک اتھارٹی کا شکریہ ادا کیا اور کہا: "ہم شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر کے بے حد شکر گزار ہیں جن کے تعاون سے یہ پروگرام منعقد ہوا۔
اس کا مقصد محض تفریح فراہم کرنا نہیں تھا، بلکہ اپنے ثقافتی ورثے کو نئی نسل سے روشناس کرانا اور خوبصورت ادیبوں کو دوبارہ منظر عام پر لانا تھا۔”گلف میں مزاحیہ مشاعروں کے بانی ڈاکٹر اظہر علی زیدی کے نواسے اور بزمِ اردو کے پبلک ریلیشنز سیکریٹری سید تابش زیدی نے "مشاعرہ زندہ دلان” کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا: "اس مشاعرے کی بنیاد ڈاکٹر اظہر علی زیدی نے ۱۹۸۵ میں رکھی تھی۔ تقریباً دو دہائیوں تک جاری رہنے والے اس سلسلے میں دلاور فگار، ضمیر جعفری، ساغر خیامی اور انور مسعود جیسے نامور ادیبوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
بزمِ اردو اسی تاریخی ورثے اور روایت کو بڑے خلوص کے ساتھ آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔”محفل کی نظامت کے فرائض ریحان خان نے بحسن و خوبی انجام دیے جبکہ آصف سروش نے بزم کا تعارف پیش کیا۔ اختتامی کلمات میں کنور محمد سلیم نے تمام مہمانوں اور شارجہ حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ "یونہی چلتی رہے بات اُردو کی”۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button