کتے مار مہم ،عدالتی حکم کی خلاف ورزی
پاکستان کے قانون میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے بھی حقوق ہیں لیکن آوارہ کتوں کو بڑے پیمانے پر مارنے کی مہم طویل عرصے سے پاکستان میں ایک متنازع مسئلہ رہا ہے۔ لاہور سمیت ملک کے دیگر شہروں کے رہائشی علاقوں میں آوارہ کتوں کو فائرنگ اور زہر دیکرمارنے کی مہم نے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں حالانکہ لاہور ہائیکورٹ نے آوارہ کتوں کو فائرنگ اور زہر دے کر مارنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اس کے باجود لاہور شہر سمیت دیگر شہروں میں آوارہ کتوں کو فائرنگ اور زہر دیکرمارنے کی مہم دھڑلے سے جاری ہے۔
پاکستان میں آوارہ کتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے انہیں مارنے کا طریقہ کار ہی اختیار کیا جاتا رہا تھا۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ شاید یہ کوئی سائنسی طریقہ کار ہے مگر پوری دنیا اس طریقے کو مسترد کر چکی ہے، دنیا بھر میں اب آوارہ کتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے کتے کی نس بندی کرنا، اسے ویکسی نیٹ کرنا اور پھر چھوڑ دینا۔ اس طرح بیشک کتا اسی علاقے میں واپس چلا جاتا ہے مگر وہ نقصان دہ نہیں رہتا۔
اس تکنیک سے کتے کے مزاج میں بھی خاصی تبدیلی آجاتی ہے۔ایسا کرنے میں وقت ضرور لگے گا مگر یہی طریقہ کار ٹھیک ہے ۔
ایکو سسٹم کے ماہرین کے مطابق ”کتوں کو ایک دم ختم کر دینا ایکو سسٹم کے اصولوں کے منافی ہے۔ کتے کچرا یا آرگینک فضلہ کو ٹھکانے لگانے کا ایک کااہم ذریعہ ہیں۔ چوہوں کے خاتمے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں ، چنانچہ اگر کتوں کا بنا سوچے سمجھے خاتمہ کرنے لگیں گے تو ایک اعتبار سے ہم اپنا نقصان خود ہی کریں گے۔
کیا ہمیں یاد نہیں کہ جب ایک بھارتی ریاست میں 99 فیصد کتوں کو مار دیا گیا تو وہاں طاعون کی بیماری پھوٹ پڑی تھی ، جس کے بعد کتے مارنے پر پابندی لگانا پڑی۔ انسانی جان کے تحفظ کیلئے حکومت ریبیز کی ویکسین کا انتظام کرے۔عالمی جریدے ”جرنل آف ایپی ڈیمیو لوجی اینڈ کمیونٹی ہیلتھ “ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ”ذہنی طور پر پریشان یا فکرمند افراد پر کتوں کے حملے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق کتے ان افراد پر حملہ کم کرتے ہیں جو انہیں دیکھ کر پرسکون رہیں اور خوف زدہ نہ ہوں۔کتے خوفزدہ ہونے والوں پر زیادہ حملہ آور ہوتے ہیں لہٰذاآوارہ کتوں کو دیکھ کر پرسکون رہنا اور پر اعتمادرہنا چاہئے، کتے کو حملے سے روکنے کا بہترین طریقہ یہی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ جذباتی طور پر غیر مستحکم افراد کو اکثر کتوں کے حملے کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ اس طرح کی شخصیت کتوں کو کاٹنے پر اکساتی ہے۔کتوں کے حملے کی بنیادی وجہ ان کے ساتھ کیا جانے والا ظالمانہ سلوک ہوتا ہے۔اگر کسی جانور کو مارا پیٹا جائے، بھوکا رکھا جائے یا خوفزدہ کیا جائے تو وہ یقینی طور پر ردعمل دے گا۔ ہمیں اس مسئلے کا حل مہذب طریقے سے نکالنا ہوگا، نہ کہ ان کے قتل عام سے۔
لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے کتوں کی نسل کشی پر واضح پابندی عائد کی جا چکی ہے اور عدالت نے پنجاب میں جانوروں کی انسانی بنیادوں پر آبادی کنٹرول کرنے کی پالیسی ٹی این وی آر(ٹریپ، نیوٹر، ویکسینیٹ، ریلیز) کو لاگو کرنے کا حکم دیا ہے،تاہم عدالتی حکم کے باوجود، مختلف رہائشی سوسائٹیز اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے اس پالیسی پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا جو کھلی قانون شکنی اور عدالتی احکامات کی توہین ہے۔
آوارہ کتوں کو مارنے کے بجائے اگر ان کا مناسب خیال رکھا جائے تو وہ خود ایک قدرتی سیکیورٹی سسٹم بن سکتے ہیں ۔ بطور صحافی اور کالم نویس میری عوام سے اپیل ہے کہ وہ جانوروں کے ساتھ انسانی سلوک اختیار کریں اور غیر ضروری خوف اور نفرت کی بنیاد پر ان کا قتل عام بند کریں۔یہ سوچنا ہوگا کہ اگر ہم کسی معصوم، بے زبان جانور کو تکلیف دے کر قتل کر سکتے ہیں تو پھر ہم ایک مہذب اور ترقی یافتہ قوم کیسے کہلا سکتے ہیں؟۔



