انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب: ’’ میں خوش نہیں‘‘،صدر ٹرمپ

تہران، واشنگٹن ( ویب ڈیسک) ایران میں نئی اعلی قیادت کا اعلان کرتے ہوئے سید مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مجلس خبرگان نے ووٹنگ کے ذریعے ان کے نام کی منظوری دی، جس میں انہیں بھاری اکثریت کی حمایت حاصل ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق سید مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے تیسرے سپریم لیڈر ہوں گے۔ وہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے ہیں۔ مجلس خبرگان کے ارکان کا کہنا ہے کہ ملک میں قیادت کے خلا سے بچنے کے لیے فوری طور پر نئے رہبر کے انتخاب کا عمل مکمل کیا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مجلس خبرگان کے اجلاس میں قومی اتحاد اور استحکام پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں شریک ارکان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ نئے سپریم لیڈر کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کریں اور ملک میں اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھیں۔ مجلس خبرگان کے عہدیداروں نے بتایا کہ حالیہ کشیدہ حالات اور دشمن کے حملوں کے باوجود سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل میں کوئی تاخیر نہیں ہونے دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخاب کے لیے تمام آئینی اور شرعی تقاضے پورے کیے گئے۔ ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے بھی اس موقع پر کہا کہ مجلس خبرگان نے خطرات اور حملوں کے باوجود نئے سپریم لیڈر کا انتخاب مکمل کیا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں نئی قیادت ملک کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرے گی اور عوام کو متحد رہنے کی ضرورت ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق 56سالہ مجتبیٰ خامنہ ای طویل عرصے سے ایرانی قیادت کے قریبی حلقوں میں ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے رہے ہیں۔ انہیں پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ بھی قریبی روابط رکھنے والی شخصیت قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے ماضی میں جانشینی کے معاملے پر کھل کر کوئی بیان نہیں دیا تھا۔ نو منتخب سپریم لیڈر ایران کے سب سے اعلیٰ مذہبی اور سیاسی منصب پر فائز ہوں گے اور ملک کی داخلی و خارجی پالیسیوں پر ان کا اثر نمایاں ہوگا۔ سرکاری ذرائع نے اس فیصلے کو ایران کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم مرحلہ قرار دیا ہے۔ مزید برآں ایران کی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ مسلح افواج کی قیادت نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے وفاداری کا عہد کر لیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ وہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی پیروی کے لیے تیار ہیں۔ جبکہ نئے سپریم لیڈر کی حمایت میں ایران کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں۔ گزشتہ رات نئے ایرانی سپریم لیڈر کا اعلان ہوتے ہی شہری سڑکوں پر نکل آئے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کا انتخاب قومی اتحاد اور ارادے کی مضبوطی ہے، فیصلہ ملک کی یکجہتی اور قومی وحدت کے فروغ کے لیے ہے۔ مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ ملک کے لیے طاقت اور وقار کے ایک نئے دور کی شروعات ہے۔ دوسری جانب مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر منتخب ہونے کے بعد ایران نے اسرائیل اور امریکی اڈوں پر تازہ حملے کر دیئے۔ تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں آسمان پر ایرانی میزائل دیکھے گئے۔ ایرانی پاسدارن انقلاب نے 24گھنٹے میں 4امریکی میزائل شکن دفاعی ریڈار تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔ کارروائی کے دوران مائع اور ٹھوس ایندھن سے چلنے والے مختلف میزائل استعمال کیے گئے جن میں خرم شہر، فتاح اور خیبر میزائل شامل ہیں، جبکہ اس کے ساتھ سٹریٹیجک ڈرون بھی استعمال کیے گئے۔ پاسداران انقلاب کا دعویٰ ہے کہ تمام میزائل اور ڈرون اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
تل ابیب میں اسرائیلی لیڈرشپ شیلٹر بھی ایرانی حملے میں تباہ ہوگیا ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق حملے کے بعد شیلٹر کے آس پاس آگ بھڑک اٹھی، شیلٹر میں اسرائیل کے اعلیٰ حکام پناہ لیتے تھے۔ جبکہ تل ابیب میں ایرانی حملوں کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی منقطع ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ادھر متحدہ عرب امارات میں الفجیرہ میں آئل انڈسٹری زون میں آگ بھڑک اٹھی، اماراتی حکام کے مطابق آگ ڈرون کا ملبے گرنے کے باعث لگی، تاہم انڈسٹری زون کی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں۔ جبکہ ایرانی حملوں سے خلیجی ریاستوں میں اب تک 12فراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی حملوں سے متحدہ عرب امارات میں 4افراد جاں بحق،112زخمی ہوئے، کویت میں6 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی ہوئے، ایرانی حملوں سے بحرین میں ایک شخص جاں بحق،40زخمی ہوئے۔
ایرانی حملوں سے عمان میں ایک شخص جاں بحق،5زخمی ہوئے۔ رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایرانی حملوں سے قطر میں16 افراد زخمی ہوئے، ایرانی حملوں سے اردن میں14افراد زخمی ہوئے۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ممکنہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی نامزدگی پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ اسرائیلی اخبار کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے اس معاملے پر مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے کے حوالے سے فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ اتفاقِ رائے سے کیا جائے گا۔ ٹرمپ کے مطابق اس معاملے پر ان کی نیتن یاہو سے بات چیت ہو چکی ہے اور مناسب وقت پر فیصلہ کیا جائے گا۔ مزید برآں ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ وہ ایران میں امریکی فوج بھیجنے کے فیصلہ لینے سے ابھی ’’ بہت دور‘‘ ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ کرنے کے لیے ایران میں امریکی فوج بھیجنے پر غور کریں گے تو ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ہم ابھی اس کے قریب بھی نہیں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس انٹرویو کے دوران ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ایران کے رہبرِ اعلیٰ منتخب ہونے پر خوش نہیں ہیں۔ مزید برآں امریکی فوجیوں کی بڑھتی ہلاکتوں پر امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگستھ نے اپنے بیان میں صدر ٹرمپ درست تھے، قربانیاں جنگ میں معمول ہیں، مستقبل میں مزید نقصان متوقع ہے، وقت آئیگا جب ایران کے پاس کوئی انتخاب نہیں بچے گا، ایران جلد ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جائے گا۔
امریکی وزیر جنگ نے مزید کہا ابھی تک ایرانی فوجی اہداف پر بھاری بمباری شروع نہیں کی، موجودہ کارروائی صرف آغاز ہے، مزید سخت حملے کریں گے، امریکہ کا مقصد ایران ک فوجی ڈھانچے کو مکمل تباہ کرنا ہے۔دریں اثنا حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان سے اسرائیل کے فوجی ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا ہے، جس میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ حزب اللہ کے حملے میں کم از کم 16افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حزب اللہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملے میں ایک سیٹلائٹ مواصلاتی سٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا جو ہائیلا میں بیت شیمش میں واقع ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button