انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

”محرم الحرام“ تقویم اسلامی کا پہلا مہینہ

تحریر: فرخ ریاض بٹ

سن ہجری اپنے آغاز کے اعتبار سے منفرد اور نصیحت آموز سبق کا حامل ہے۔ دنیا میں اس وقت مروجہ کیلنڈروں کا آغاز کسی شخصیت کی پیدائش یا کسی قومی واقعہ کی یاد پر منحصر ہے جس سے کسی کو بظاہر کوئی سبق حاصل نہیں ہوتا جیسے سن عیسوی کا آغاز سیدنا عیسیٰ کی پیدائش، سن یہود کا آغاز سیدنا سلیمان کی تخت نشینی کے پر شوکت واقعے، سن بکرمی کا آغاز راجہ بکرما جیت کی پیدائش سے یہ عیاں ہے۔

اسلامی سال کا آغاز ”محرم الحرام“ سے ہوتا ہے جو اپنے دامن میں غم وحزن اور رنج و الم کی داستانیں سموئے ہوئے ہے۔ چناں چہ یکم محرم الحرام مرادِ رسول،امیر المومنین سیّدنا عمر فاروقؓ کا یومِ شہادت ہے، جب کہ عاشورہ محرم نواسہ رسول، جگر گوشہ علیؓو بتول سیّدنا حسین ابن علی ؓاور شہدائے کربلاکی شہادتعظمیٰ اور ظلم و ستم کی وہ داستان لیے ہوئے ہے، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔

یہ جرات و شجاعت،تسلیم و رضا اور باطل کے سامنے سینہ سپر ہونے کا وہ پیام ہے، جس کی اہمیت کبھی کم نہ ہوگی۔ جب کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلامی تقویم اور سنِ ہجری کا نقطہ آغاز واقعہ ہجرتِ نبوی ہے، جو رسالت ماآب اور صحابہ کرامؓ کی زندگیوں میں مشرکین مکہ کے ظلم و جبر، استبداد اور کرب و الم سے عبارت ہے۔

یہ وہ انقلابی موڑ ہے،جب ظلم و جبر کی انتہا ہوئی اوربلاآخر پہلے مظلوم مسلمانوں اور آخرکار امام الانبیائ، سیّدالمرسلین حضرت محمد مصطفی ﷺکو بھی ہجرت کا حکم ملا۔ہجرت مدینہ اسلامی تاریخ میں وہ منفرد اور تاریخ ساز واقعہ ہے، جسے زمانے نے لوح تاریخ پر ثبت کر دیا ہے۔ یہ تاریخ انسانی کا اہم ترین واقعہ ہے۔ ایسا تاریخ ساز اور عہد آفریں موڑ ہے، جس نے اسلام کی انقلاب انگیز تحریک اور دین کے پیغامرشد و ہدایت کو عالم گیر سطح پر عام کرنے اور اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں ہمہ گیر اور ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو انسان کفر و شرک اور ظلم و جہالت کے اندھیروں، غلامی کی اذیتوں اور استحصالی قوتوں کی زنجیروں سے کبھی نجات حاصل نہ کرپاتا۔”ہجرت مدینہ“ ہی وہ انقلابی موڑ ہے جس نے اسلام کے پیغامِ امن و محبت اور رشد و ہدایت کو عام کرنے اور اسلام کو ایک عالم گیر اور ابدی دِین کے طور پر ہمیشہ باقی رہنے میں کلیدی اور مرکزی کردار ادا کیا، ہجرت ہی کی بدولت انسانیت کو عزت و وقار، تکریم و مساوات اور اعلیٰ اخلاقی قدریں نصیب ہوئیں۔ ہجرت کے اس تاریخ ساز واقعے سے اسلامی تاریخ کے ایک نئے اور عہد آفریںدور کا آغازہوا،جو ہر لحاظ سے فتح وکامرانی کا دور قرار دیا جاسکتا ہے۔ سیرت نبوی کا یہ حصہ اتنا پرآلام، مصائب اور آزمائشوں سے عبارت ہے کہ اس سے طلوع سحر کی امید نہیں بندھتی، مگر اللہ تعالیٰ کی کرم فرمائی سے ہجرت ہی وہ اساسی نقطہ ہے جس سے رشد و ہدایت اور اسلام کی عالم گیر ترویج و اشاعت کا وہ عظیم اور لافانی سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے اور ان شاءاللہ تاقیامِ قیامت جاری رہے گا۔

تاریخی روایات کے مطابق ظہور اسلام سے قبل دنیا کی متمدن اقوام میں مختلف سن رائج تھے، ان میں زیادہ شہرت یہودی، رومی اور ایرانی سنین کو حاصل تھی، جبکہ عرب جاہلیت کی اندرونی زندگی اس قدر متمدن نہیں تھی کہ حساب و کتاب کے لیے کسی وسیع پیمانے پر ضرورت پیش آتی،کیونکہ ان کے ہاں یادداشت اور حافظے کو بنیادی دخل تھا۔ چناں چہ ان کے ہاں یہ طریقہ رائج تھا کہ مختلف حالات و واقعات، موسم وغیرہ یا ملک کا کوئی مشہور واقعہ لے لیا جاتا اور اس سے وقت کا حساب اور تاریخ کا تعیّن کیا جاتا تھا۔

دورجاہلیت کے سنین میں”واقعہ عام الفیل“ کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ طویل عرصے تک یہی واقعہ عرب کے حساب و کتاب میں بطور ”سن“ مستعمل و مروّج رہا۔ جبکہ ظہور اسلام کے بعد یہ اہمیت تاریخ اسلام کے مختلف واقعات نے لے لی، صحابہ کرام ؓکا یہ معمول تھا کہ عہد اسلام کے مختلف واقعات میں سے کوئی ایک اہم واقعہ لے لیتے اور اسی سے حساب کا تعین کرتے۔سورج کے نظام سے عیسوی کیلنڈر میں 365 یا 366 دن ہوتے ہیں، جبکہ ہجری کیلنڈر میں 354 دن ہوتے ہیں۔ہر کیلنڈر میں 12 ہی مہینے ہوتے ہیں۔

ہجری کیلنڈر میں مہینہ 29 یا 30 دن کا ہوتا ہے جبکہ عیسوی کیلنڈر میں سات مہینہ 31 دن کے، چار ماہ 30 دن اورایک ماہ 28 یا 29 دن کا ہوتا ہے۔ سورج اور چاند دونوں کا نظام اللہ ہی نے بنایا ہے۔ شریعت اسلامیہ میں متعدد عبادتیں ہجری کیلنڈر سے مربوط ہیں۔ دونوں کیلنڈر میں 10 یا 11 روز کا فرق ہونے کی وجہ سے بعض مخصوص عبادتوں کا وقت ایک موسم سے دوسرے موسم میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ یہ موسموں کی تبدیلی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے۔ ہمیں اس پر غور کرنا چاہئے کہ موسم کیسے تبدیل ہوجاتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس پر غور وخوض کرنے کی دعوت دینی چاہئے۔

ظاہر ہے کہ یہ صرف اور صرف اللہ کا حکم ہے جس نے متعدد موسم بنائے اور ہر موسم میں موسم کے اعتبار سے متعدد چیزیں بنائیں، جیسا کہ فرمان الٰہی ہے:بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے باری باری آنے جانے میں ا±ن عقل والوں کے بڑی نشانیاں ہیں۔ جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے ہوئے (ہر حال میں) اللہ کو یاد کرتے ہیں، اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرتے ہیں، (اور انہیں دیکھ کر بول اٹھتے ہیں کہ) اے ہمارے پروردگار! آپ نے یہ سب کچھ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ آپ (ایسے فضول کام سے)پاک ہیں۔ پس دوزخ کے عذاب سے بچالیجئے۔ سورة آل عمران 190 و 191)۔ہم نئے ہجری سال کی آمد پر عزم مصمم کریں کہ زندگی کے جتنے ایام باقی بچے ہیں ان شاءاللہ اپنے مولا کو راضی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

ابھی ہم بقید حیات ہیں اور موت کا فرشتہ ہماری جان نکالنے کے لیے کب آجائے، معلوم نہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پانچ امور سے قبل پانچ امور سے فائدہ اٹھایا جائے۔ بڑھاپہ آنے سے قبل جوانی سے۔ مرنے سے قبل زندگی سے۔ کام آنے سے قبل خالی وقت سے۔ غربت آنے سے قبل مال سے۔ بیماری سے قبل صحت سے۔اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن کسی انسان کا قدم اللہ تعالیٰ کے سامنے سے ہٹ نہیں سکتا یہاں تک کہ وہ مذکورہ سوالات کا جواب دیدے: زندگی کہاں گزاری؟ جوانی کہاں لگائی؟ مال کہاں سے کمایا؟ یعنی حصول مال کے اسباب حلال تھے یا حرام۔ مال کہاں خرچ کیا؟ یعنی مال سے متعلق اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کئے یا نہیں۔

علم پر کتنا عمل کیا؟ میرے عزیز بھائیو! ہمیں اپنی زندگی کا حساب اپنے خالق ومالک ورازق کو دینا ہے جو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، جو پوری کائنات کا پیدا کرنے والا اور پوری دنیا کے نظام کو تن تنہا چلا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button