انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

عدل، استقامت، عظمت کی روشن مثال حضرت عمر فاروق ؓ

تحریر:حافظ محمد صالح

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلام کی وہ عظیم شخصیت ہیں کہ جن کی اسلام کے لیے روشن خدمات، جرات و بہادری، عدل و انصاف پر مبنی فیصلوں، فتوحات اور شاندار کردار اور کارناموں سے اسلام کا چہرہ روشن ہے۔سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تاریخ انسانی کا ایسا نام ہے جس کی عظمت کو اپنے ہی نہیں بیگانے بھی تسلیم کرتے ہیں۔ وہ نبی نہیں تھے مگر اللہ نے ان کی زبان حق پر وہ مضامین جاری کردیئے جو وحی کا حصہ بن گئے۔ قبول اسلام کے بعد وہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے شیدائی بن کر فاروق کہلائے۔تاریخ عالم نے ہزاروں جرنیل پیدا کیے، لیکن دنیا جہاں کے فاتحین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سامنے طفلِ مکتب لگتے ہیں اور دنیا کے اہل انصاف سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عدل پروری کو دیکھ کر جی کھول کر ان کی تعریف میں رطب اللسان ہیں ۔

آپ رضی اللہ عنہ کا نام عمر بن خطاب، لقب فاروق اور کنیت ابو حفص ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب نویں پشت میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ سے قبل چالیس مرد اور گیارہ عورتیں نور ایمان سے منور ہوچکی تھیں۔آپ رضی اللہ عنہ ”عام الفیل“ کے تقریباً 13 سال بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور نبوت کے چھٹے سال پینتیس سال کی عمر میں مشرف بہ اسلام ہوکر حرم ایمان میں داخل ہوئے۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ عظیم المرتبت شخصیت ہیں کہ جن کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے خصوصی طور پر دعا مانگی تھی۔حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ حد درجہ ذہین، سلیم الطبع، بالغ نظر اور صائب الرائے تھے۔ قرآن پاک کے متعدد احکامات آپ رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق نازل ہوئے مثلاً اذان کا طریقہ، عورتوں کے لیے پردہ کا حکم اور شراب کی حرمت۔ آپ رضی اللہ عنہ شجاعت، فصاحت و بلاغت اور خطابت میں یکتائے زمانہ افراد میں سے تھے۔

آپ رضی اللہ عنہ ادبیات میں ذوق لطیف کے حامل اور شعر کے اعلیٰ نقاد تھے۔ ابتداءمیں بلیغ شعر کہتے مگر دینی خدمت نے اتنا غلبہ پالیا کہ اس ذوق کے اظہار کا موقع نہیں ملتا تھا۔ آپ شعر جاہلیت میں اصلاح کے علمبردار تھے۔ فنون حرب اور سپہ گری میں شجاعان عرب میں نہایت ممتاز و منفرد تھے۔ اپنے والد کی شہرہ آفاق نساب تھے۔ زندگی کا اکثر و بیشتر حصہ فیضان نبوت سے سیرابی میں بسر کیا۔ مگر محتاط مزاج کی بنا پر احادیث کی روایت بہت کم فرماتے۔ فقہ اور اجتہاد میں بلند مقام رکھتے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رضوان اللہ عنہم) جن تک آئمہ فقہ کے سلاسل جاکر ملتے ہیں، آپ رضی اللہ عنہ کے تربیت یافتہ تھے۔

آپ کے تفقہ کی صداقت کی گواہی اس مشہور واقعہ سے ملتی ہے کہ ایک یہودی اور منافق مسلمان میں کسی بارے میں تنازعہ ہوا۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فیصلہ کروایا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیانات کے بعد فیصلہ یہودی کے حق میں دیا۔ وہ منافق مسلمان حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کہ آپ حمیت دینی میں اس کا ساتھ دیں گے مگر جب آپ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقدمہ کا فیصلہ فرماچکے ہیں اور اب منافق مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے تو تلوار اٹھا کر منافق کا سرقلم کردیا۔

قرآن کریم نے سورہ نسآءمیں اس فیصلہ کی توثیق کی اور مستقل طور پر یہ اصول طے پایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ کو آخری حیثیت حاصل ہے اور جو اس فیصلہ کو درست تسلیم نہ کرے وہ مومن نہیں ہے۔

آپ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسلمانوں کو بے مثال فتوحات اور کامیابیاں نصیب ہوئیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے قیصر و کسریٰ کو پیوند خاک کرکے اسلام کی عظمت کا پرچم لہرانے کے علاوہ شام، مصر، عراق، جزیرہ، خوزستان، عجم، آرمینہ، آذربا ئیجان، فارس، کرمان، خراسان اور مکران فتح کئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں 3600 علاقے فتح ہوئے، 900 جامع مساجد اور 4 ہزار مساجد تعمیر ہوئیں۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں بیت المال اور عدالتیں قائم کیں، عدالتوں کے قاضی مقرر کئے۔

آپ رضی اللہ عنہ نے سن تاریخ کا اجراءکیا جو آج تک جاری ہے۔ مردم شماری کرائی، نہریں کھدوائیں، شہر آباد کروائے، دریا کی پیداوار پر محصول لگایا اور محصول مقرر کئے، حربی تاجروں کو ملک میں آنے اور تجارت کرنے کی اجازت دی۔ جیل خانہ قائم کیا، راتوںکو گشت کرکے رعایا کا حال دریافت کرنے کا طریقہ نکالا۔ پولیس کا محکمہ قائم کیا۔ جابجا فوجی چھاﺅنیاں قائم کیں، تنخواہیں مقرر کیں، پرچہ نویس مقرر کئے۔ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ تک مسافروں کے لیے مکانات تعمیر کروائے۔ گم شدہ بچوں کی پرورش کے لیے روزینے مقرر کئے۔ مختلف شہروں میں مہمان خانے تعمیر کروائے۔ مکاتب و مدارس قائم فرمائے۔

معلمین اور مدرسین کے مشاہرے مقرر کئے۔ تجارت کے گھوڑوں پر زکوٰة مقرر کی۔ وقف کا طریقہ ایجاد کیا، مساجد کے آئمہ کرام اور موذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں، مساجد میں راتوں کو روشنی کا انتظام کیا۔ علاوہ ازیں آپ رضی اللہ عنہ نے عوام کے لیے بہت سے فلاحی و اصلاحی احکامات اور اصطلاحات جاری کیں۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسلامی تاریخ کی ان عظیم شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے حق، عدل،نظم حکومت اور عوامی خدمت کی ایسی مثال قائم کی جسے صدیوں بعد بھی احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔23 ہجری میں ایک صبح حضرت عمر رضی اللہ عنہ حسبِ معمول نمازفجر کی امامت فرما رہے تھے۔ اسی دوران ایک شخص نے آپ پر حملہ کیا اور آپ شدید زخمی ہو گئے۔ آپ کو مسجد سے گھر منتقل کیا گیا اور چند دن بعد آپ نے وفات پائی۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خواہش تھی کہ انہیں روضہ رسول میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کیا جائے، اور یہ سعادت انہیں حاصل ہوئی، ایک عظیم انسان کی پہچان صرف فتوحات نہیں بلکہ کردار ہوتا ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ مضبوط قیادت، عدل اور خدا خوفی ایک معاشرے کو بلند کرتی ہے اور یہی اوصاف کسی انسان کو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button